cantonment board_Logo

ملک بھر کے 42کنٹونمنٹ بورڈ زکے اہم انتخابات، شکایات سیل قائم

EjazNews

گزشتہ عشرےسے مُلک میں جمہوری عمل بحال ہونے کے باوجود بلدیاتی انتخابات کے لیے عدلیہ سے رجوع کرنا پڑااور یوں ایک صبر آزما مرحلہ طے کرنے کے بعد 2013ء میں بلوچستان اور 2015ء میں سندھ، پنجاب اورخیبر پختون خوامیں بلدیاتی انتخابات کا انعقادممکن ہوپایا۔ جہاں تک کنٹونمنٹ بورڈ زکی بات ہے،تو بلدیاتی سطح پر یہاں بھی پس و پیش سے کام لیا جاتا رہا کہ آخری بار 2015ء میں ان کے انتخابات ہوئے تھے۔ 2019ء میں کنٹونمنٹ بورڈ کے منتخب نمائندوں کی مدت پوری ہوچکی ہے، لیکن گزشتہ دو برسوں میں انتخابات نہیں کروائے جاسکے۔ تاہم،اب دو سال کی تاخیر کے بعد 12ستمبر 2021ء کو کنٹونمنٹ بورڈ زمیں انتخابی میلہ سج رہا ہے۔

2015ء کے انتخابات بھی 17 سال بعد منعقد ہوئے تھے۔ پرویز مشرف نے 2001ء میں اپنا بلدیاتی نظام متعارف توکروایاتھا مگر بلدیاتی انتخابات کا دائرۂ کارکنٹونمنٹ بورڈ زتک نہیں بڑھایا ۔یہی وجہ ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ میں جمہوری عمل کی بحالی کے لیے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑااور بالآخرسپریم کورٹ کے حکم پر 2015ء میں جب کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات کا اعلان ہوا تو قانون کی رو سے انتخابی عمل غیر جماعتی بنیادوں پر مشتمل رکھا گیا،جس کے خلاف دوبارہ عدالت سے رجوع کیا گیا۔ اس پیٹیشن میں درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ آئین تمام شہریوں کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیتا ہے۔ غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات آئین سے متصادم ہیں۔ 2015ء میں پہلی مرتبہ جماعتی بنیادوں پرکنٹونمنٹ بورڈ زکے انتخابات منعقدہوئے ۔اسی طرح رواں سال ہونے والے انتخابات بھی جماعتی بنیادوں ہی پر ہو رہے ہیں۔

ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس کے مطابق مُلک بھر میں 44کینٹ بورڈز ہیںلیکن الیکشن کمیشن اس وقت 42 بورڈز میں کروایا جائے گا۔بلوچستان کے اورماڑہ کنٹونمنٹ اور خیبر پختون خوا کے سوات کنٹونمنٹ بورڈ میں انتخابات نہیں ہو رہے ۔اورماڑہ کنٹونمنٹ میں 2015ء میں بھی انتخابات نہیں ہوسکے تھے،جس کی وجہ مذکورہ کینٹ کی حدود طے نہ ہوناہے ۔اس طرح مُلک بھر کے 42کنٹونمنٹ بورڈز میں 219 وارڈ زبنائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  صدق دل سے نواز شریف کی صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں:وزیراعظم عمران خان

مذکورہ کنٹونمنٹ بورڈز میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 21لاکھ 97ہزار741ہے ۔ خواتین اور مردوں کو اگر الگ کیا جائے تو اس آباد میں 11لاکھ 54ہزار 551مرد اور 10لاکھ 43 ہزار 190 خواتین ہیں۔

1559 امیدوار ان الیکشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔ 7وارڈ زمیں بلا مقابلہ اُمیدوارمنتخب ہوچکے ہیںجبکہ ایک وارڈ میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں اور اس کی وجہ امیدوار خاتون کا انتقال بتایا جارہا ہے۔

وارڈ میں جنرل کاؤنسلر کو وہاں کے ووٹر زبراہِ راست منتخب کرتے ہیں اور مخصوص نشستوں پر انتخاب کا عمل بالواسطہ طور پر ہوتا ہے، انہیں متعلقہ بورڈ کے منتخب ارکان ووٹ دیتے ہیں۔ بعد ازاںمنتخب ارکان میں سے بورڈ کے نائب صدر کا انتخاب بھی خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوتا ہے جبکہ کنٹونمنٹ بورڈ کا صدر پاک آرمی کا اسٹیشن کمانڈر ہوتا ہے جو عموماً بریگیڈیئر رینک کا آفیسر ہوتا ہے۔اس طرح بورڈ کی باڈی میں فوجی افسران کے علاوہ عوامی نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں۔

اب ان انتخابات کے انعقاد کروانے کیلئے الیکشن کمیشن نے رینجرز کو طلبا کر لیا ہے۔رینجرز کے جوان پولنگ اسٹیشنز کے باہر گشت کریں گے جبکہ پریزائیڈنگ افسر نتائج آر او کو پہنچانے تک کہیں نہیں جا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  مجھے پچھتاوا ہے کہ میں نے ٹی20 اور ون ڈے میچوں کی سیریز کیلئے پاکستان کا دورہ نہیںکیا،لیکن اس وقت یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا:سری لنکن کپتان

الیکشن کمیشن آف پاکستان نےپورے ملک میں کنٹونمنٹ بورڈز کے 12ستمبر 2021 کو ہونے والے انتخابات کی موثر نگرانی کے لئے الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ میں کمپلینٹ سنٹر قبھی ائم کر دیا ہے ۔یہ سنٹرہفتہ 11 ستمبر سے لے کر انتخابات کا عمل مکمل ہونے تک کام کرئے گا ۔

انتخابات کے حوالے سے کسی قسم کی شکایات فون نمبر ۔051-9204402, 051-9204403فیکس نمبر ۔051-9204404 بھیجی جا سکیں گی۔ ہر صوبے میں صوبائی الیکشن کمشنر کےدفاتر میں بھی اس طرز پر کمپلینٹ سنٹر قائم کیے گئے ہیں ۔

پنجاب فون نمبر ۔042-99212209,042-99212620 فیکس نمبر 042-99211020سندھ ۔ فون نمبر ۔021-99204170فیکس نمبر 021-99206645خیبر پختونخواہ ۔ فون نمبر 091-9222540 فیکس نمبر 091-9210923 بلوچستان۔ فون نمبر081-9201392, فیکس نمبر 081-9202317، 12ستمبر کو پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں