جنگ_بدر

جنگ بدر میں شریک صحابہ کرامؓ (حصہ ہفتم)

EjazNews

۱۶۔ ثابت بن احزمؓ
بن ثعلبہ بن عدی بن العجلان البلوی ثم الانصاری
انصار کے حلیف ہیں۔ بدر ارو جملہ مشاہد ہیں داد شجاعت دینے والے۔ جنگ موتہ میں جب سردار سوم عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہو چکے تو نشان قیادت ان کو سپرد کر دیا۔ انہوں نے یہ نشان خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یہ کہہ کر پیش کر دیا کہ آپ مجھ سے بڑھ کر ماہر جنگ ہیں۔
ان کا انتقال ۲۱ھ میں ہوا۔ طلیحہ بن خویلد اسدی نے ایام ردة میں ان کو قتل کیا۔ بعد ازاں طلیحہ بھی داخل اسلام ہو گئے تھے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

۱۷۔ ثابت بن جذع (ثعلبہؓ)
بن زید بن حارث بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ الانصاری۔
عقبہ میں حاضر ہوئے بدر اور جملہ مشاہد میں جو ہر مردانگی دکھلائے۔ غزوئہ طائف میں شہادت کا شرف حاصل کیا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
۱۸۔ ثابت بن خالد بن نعمان بن خنساءالانصاریؓ
بنو مالک بن النجار میں سے ہیں۔ بدر واحد میں حاضر ہوئے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ۔ بعض نے ان کا شمار شہدائے بیر معونہ میں کیا ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

۱۹۔ ثابت بن عامر بن زید الاانصاریؓ
بدر میں حاضر تھے۔ رضی اللہ عنہ

۲۰۔ثابت بن عبید الانصاری ؓ
بدر میں حاضر تھے اور صفین میں علی مرتضیٰ کی جانب موجود۔ اسی جگہ شہادت یاب ہوئے۔ رضی اللہ عنہ

۲۱۔ثابت بن عمرو بن زید بن عدیؓ
بن سوادین مالک بن غنم بن مالک بن النجار الانصاری
بدر میں حاضر ہوئے اور احد میں شہید ہوئے۔ موسیٰ بن عقبہ ابو معشر اور واقدی و ابن سعد کا متفقہ بیان یہی ہے۔ ابن اسحق نے ان کا ذکر بدربیین میں اور موسیٰ بن عقبہ نے ان کا ذکر شہدائے احد میں نہیں کیا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

۲۲۔ ثابت بن ہزال بن عمرو الانصاریؓ
جو عمرو بن عوف میں سے ہیں۔ بدر اور جملہ مشاہد میں حاضر رہے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ رضی اللہ عنہ

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کی سنت(دستور)

۲۳۔ ثعلبہ بن حاطب بن عمروؓ
بن عبید بن امیہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف الانصاری
بدر واحد میں حاضر تھے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کثرت مال کے متعلق دعا کرنے کی بابت التماس کی تھی۔ حضور نے فرمایا۔ قلیل تودی شکرہ یا تعلبہ خیر من کثیر لا تطیقہ
اے ثعلبہ وہ تھوڑا مال جس کا شکر انہ ادا کیا جاسکے اس زیادہ مال سے بہتر ہے جسے سنبھال نہ سکو۔ جس کا شکر ادا نہ کر سکو۔ رضی اللہ عنہ

۲۴۔ ثعلبہ بن عمرو بن عامرہ ؓ
بن عبید بن محصن بن عمرو بن عتیک بن مبذول (سدن) بن مالک بن بخار الانصاری
بدر۔ احد خندق اور دیگر جملہ غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حاضر رہتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کے حضور میں آکر بیان کیا کہ اس نے فلاں لوگوں کا اونٹ سرقہ کیا ہے اس پر وہ لوگ بھی طلب ہوئے۔ اثبات جرم کے بعد مجرم کا ہاتھ کاٹا گیا۔ ہاتھ کٹ جانے کے بعد مجرم بولا الحمد للہ الذی طہر فی ضک ۔ اللہ کا شکر ہے جس نے جسم کا یہ ناپاک حصہ مجھ سے علیحدہ کر دیا۔
ان کے سال وفات میں اختلاف ہے غالباً حبر ابو عبیدہ کے جنگ میں بعہد خلافت فاروقی شہادت یاب ہوئے ۔ رضی اللہ عنہ

۲۵۔ ثعلبہ بن غنمہ بن عدیؓ
بن ہانی بن عمرو بن سواد بن غنم بن کعب بن سلمة الانصاری۔
یہ بھی ان بزرگ ستر انصار میں سے ہیں۔ جنہوں نے عقبہ پر آخری بیعت رسول کریم ﷺ کے دست اقدس پر کی تھی۔
یہ ان بزرگوں میں سے جنہوں نے بن سلمہ کے بتوں کو توڑا پھوڑا تھا۔ معاذ بن جبل اور عبد اللہ بن انیس اس سنت ابراہیمی میں ان کے شریک کار تھے۔ یوم خندق کو شہید ہوئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

۲۶۔ جابر بن عبد اللہ بن ربابؓ
بن نعمان بن سنان عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمة الانصاری اسلمی
یہ انصار میں پہلے گزرگوار ہیں جنہوں نے عقبہ اولیٰ سے بھی ایک سال پیشتر اسلام قبول کر لیا تھا۔ صحابی ابن صحابی ہیں۔ بدر۔ احد۔ خندق اور جملہ مشاہد مصطفوی میں بالالتزام حاضر ہوتے رہے۔ رضی اللہ عنہ۔
دو ادین احادیث میں ان سے ۰۴۵ امرویات موجود ہیں۔ ازانجملہ متفق علیہ ۰۶ صرف صحیح بخاری میں ۶۲ صرف صحیح مسلم میں ۶۲۱ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  محرم الحرام کی فضیلت

۲۷۔ جابر بن غنیک الانصاری المعاوی الاوسیؓ
یہ قبیلہ بنو معاویہ بن مالک سے ہیں۔ بدر میں اور جملہ مشاہد م ابعد میں حاضر ہونے کی عزت حاصل کی ہے۔ عام الفتح کو بنو معاویہ کا نشان انہی کے ہاتھ میں تھا۔
حارث بن عتیک ان کے بھائی ہیں اور وہ بھی صحابی ہیں ۱۶ھ کو لعمر ۱۷ سال انتقال کیا ابو عبد اللہ کنیت تھی۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

۲۸۔ حارث بن سراقہ رضی اللہ عنہ
یہ بخاری و انصاری ہیںجنگ بدر ہی میں شہید ہوئے یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پھوپھیرے بھائی ہیں بوقت شہادت نوجوان ہی تھے لشکر کا پہرہ دے رہے تھے پانی پینے لگے کہ دشمن کا تیر حلق پر آلگا گر گئے۔ ان کی والدہ نے عرض کیا کہ حضور جانتے ہیں حارثہ کی منزلت میرے دل میں کیا تھی اگر وہ جنت میں گیا ہے تو میں صبر کرونگی اور اگر نہیں تو حضور ہی دیکھ لیں گے کہ میں کیا کچھ کرتی ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت صرف ایک تو نہیں۔ جنان بہت ہیں اور حارثہ جنت الفردوس میں ہے۔بدر کے دن انصار میں یہ سب سے پہلے شہید ہوئے تھے۔ رضی اللہ عنہ

۲۹۔خبیب بن عدی الانصاریؓ
قبیلہ بنو حججی سے تھے بدر میں حاضر ہوئے اور ۳ھ کو سر یہ رجیع میں کفار نے دھوکہ دے کر ان کو اور زید بن دشنہ رضی اللہ عنہما کو گرفتار کرلیا۔
جنگ بدر میں حضرت خبیب نے حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ اس لئے اسیری کے بعد عقبہ بن حارث نے ان کو خرید لیا اور مقتول باپ کا انتقال لینے کیلئے ارادہ کر لیا گیا کہ ان کو قتل کیا جائے۔ جنگ بدر میں جن خاندانوں کے لوگ قتل ہوئے تھے وہ سب حضرت خبیب کے قتل کو ایک بڑا کارنامہ سمجھتے تھے۔
پہلے ان کو چند روز تک قید رکھا گیا۔ عقبہ کی عورت پر ان کی اعلیٰ سیرت کا ایسا اثر ہوا کہ وہ بایا م قید ان کو آرام سے رکھا کرتی تھی۔ اسی کا بیان ہے کہ خبیب کا سانیک قیدی میرے دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس کے پاس انگوروں کے خوشے ہم دیکھا کرتے تھے۔ حالانکہ مکہ میں ان دنوں انگور کا نام و نشان بھی نہ تھا۔
قتل کے دن کفار ان کو حرم مکہ سے باہر لے گئے اور میدان تغیم میں لے جا کر بماہ صفر ۴ھ ان کو پہلے قتل کیا اور پھر صلیب پر لٹکا دیا ان کا لاشہ برابر لٹکتا رہا۔ نبی ﷺ نے عمرو بن امیہ الضمری کو مامور فرمایا کہ لاش اتار لائیں ان کا بیان ہے کہ میں نے لکڑی پر چڑھ کر لاش کو نیچے گرایا جب خود نیچے اترا تو لاش موجود نہ تھی۔ حضر ت خبیب رضی اللہ عنہ وہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے قتل سے پہلے دو رکعت نماز پڑھی اور نبی ﷺ نے آئندہ کیلےءاسے سنت ٹھہرا دیا۔
جو اشعار انہوں نے پھانسی کے نیچے جا کر فی البدیہہ تصنیف کئے تھے وہ کتاب رحمة اللعالمین میں ، درج ہیں ان اشعار سے ان کی شیر دلی اور قوت ایمانیہ اور استقلال طبع کا کچھ اندازہ ہو سکتا ہے۔ اشعار بالا میں سے یہ دو شعر نہایت مشہور ہیں۔
جب میں مسلمان ہو کر قتل کیا جارہا ہوں تو مجھے قتل کی پرواہ نہیں۔ خدا کی راہ میں گرنا خواہ کسی کروٹ پر ہو ذات الٰہی کی یہ قدرت میں ہے کہ میرے جسم کے ایک ایک ٹکڑے کو برکت عطا فرمائے۔ رضی اللہ عنہ

یہ بھی پڑھیں:  سچ بولنے کی اہمیت

۳۰۔ خلاد بن رافعؓ
رفاعہ بن رافع کے بھائی ہیں۔ بدر میں شامل ہوئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

اپنا تبصرہ بھیجیں