CIa Chief William Burns

سی آئی اے کے سربراہ پاکستان کیا کرنے آئے ہیں؟

EjazNews

ولیم جوزف برنزامریکہ کی سب سے طاقتور سی آئی اے کے سربراہ ہیں۔ سی آئی اے کے سربراہ پاکستان میں آئےاور یہاں پر انہوں نے ملاقاتیں بھی کیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ولیم جوزف پہلی مرتبہ پاکستان کادورہ کرنے والے سی آئی اے کے ہیڈ ہیں ۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب افغانستان میں طالبان اپنی حکومت بنا رہے ہیں ۔ طالبان نے اپنی حکومت کے وزیراعظم اور وزیروں کے اعلان بھی کر دئیے ہیں۔ اس موقع پر سی آئی اے ہیڈ کا پاکستان آنا بہت معنی رکھتا ہے۔

ولیم جوزف نے پاکستانی میڈیا سے تو کسی قسم کی بات چیت نہیں کی ۔البتہ آئی ایس پی آر نے اس ملاقات کا بیانیہ جاری کیا ہے جو ان تمام باتوں پر مشتمل ہے جو ایسی کسی بھی شخصیت کی آرمی چیف سے ملاقات کے بعد جاری کیا جاتا ہے۔

امریکی سی آئی ا ے کے سربراہ پاکستان صرف اس لیے نہیں آئے ہوں گے کہ وہ سات سمندر پار کر ہمارے سربراہان کو صرف یہ بتائیں کہ جناب عالیٰ آپ نے افغانستان سے انخلاکے دوران بہت اچھا کام کیا ہے یا پھر وہ یہ بھی شاید نہ کہنے آئے ہوں کہ ہم شراکت داروں کے ساتھ تعاون کیلئے پر عزم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا کی دوسری لہر : ملک بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اتنی لمبی فلائٹ میں سفر کرکے پاکستان کرنے کیا آئے تھے۔اڈے دینے سے تو وزیراعظم نے صاف لفظوں میں انکار کر دیا تھا۔

اس سوال کا جواب بڑی اہمیت رکھتا ہے لیکن فی الحال اس کا صحیح جواب کسی کے پاس نہیں ہے ۔ بس اڑتی اڑتی خبریں ہیں وہ بھی غیر مصدقہ کہ وہ پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرنے کیلئے یہاں کے سربراہان کو قائل کرنے آئے ہیں کہ ہمیں یہاں سے ڈرون اڑا کر اپنے مخالفوں کو قتل کرنے کی اجازت دی جائے۔لیکن یہ صرف اور صرف ایک اڑتی خبر ہے حقیقت حال کسی کو معلوم فی الحال نہیں ہے۔
آئی ایس پی آر نے جو بیان جار کیا ہے وہ بھی پڑھئے۔

آئی ایس پی آر نے بیان جار ی کیا ہے جس کے مطابق امریکی سی آئی اے کے ہیڈ کی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے اپنا غیرقانونی قبضہ فوری ختم کرے:ترجمان دفتر خارجہ

جاری بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان، خطے میں امن اور افغان عوام کے لیے ایک خوشحال اور مستحکم مستقبل یقینی بنانے کے لیے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے حوالے سے پُر عزم ہے۔

جبکہ آئی ایس پی آر کا ہی کہنا ہے سی آئی کے ہیڈ نے افغانستان سے انخلا کے دوران پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں