University of Karachi

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواجہ سرا کو ایم فل میں داخلہ مل گیا

EjazNews

ہمارے ہاں ایک عرصے تک خواجہ سرا کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا ۔ بہت سے لوگ میری اس بات کی مخالفت کریں گے ۔ مخالف ہونا ان کا حق ہے۔ لیکن یہ سچ ہے۔ بڑے شہروں میں سلنگز پر بھیک مانگتے اور پرائیویٹ محفلوں میں ٹھمکے لگانے پر بھی خواجہ سرا کی ایک خاص پہچان بن گئی تھی کہ شاید دنیا میں وہ اسی کام کیلئے پیدا ہوئے ہیں۔

لیکن وقت اور حالات بدلے اور خواجہ سرائوں نے بھی بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا۔ بہت سے سماجی کارکنوں نے بھی انہیں تعلیم کی راہ پر ڈالنے کی کوششیں کیں۔

ان کوششوں کا نتیجہ بھی نکلا۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ خواجہ سرا اینکر بھی بنی اور اس کے ساتھ ملتان میں ان کیلئے پہلا باقاعدہ سکول بھی بنایا گیا۔

یہاں پر ان کو پڑھانے اور نگرانی کے فرائض انجام دینے والے خواجہ سرا نے بھی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہوئی تھی لیکن تاریخ اپنے آپ کو آگے لے کر بڑھی۔

یہ بھی پڑھیں:  نوروز کا عالمی دن کس کے کہنے پر اقوام متحدہ کے کیلنڈر میں شامل ہوا؟

کراچی میں پہلی مرتبہ جامعہ کراچی نے نوجوان خواجہ سرا کو ایم فل میں داخلہ دیدیا ہے۔

پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری کیلئے کسی خواجہ سرا کو داخلہ دیا گا ہے۔
جامعہ کراچی میں جس خواجہ سرا کو داخلہ ملا ہے اس کا نام نشاء راو بتایا جارہا ہے اور اس نے پہلے ایل ایل بی بھی کر رکھا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں