Technology_united_states

امریکی اپنی ٹیکنالوجی کو بیرون ملک ٹرانسفر کرنے پر کتنے سخت اقدامات کر رہے ہیں؟

EjazNews

چین اور امریکہ کے درمیان ٹیکنالوجی کے تبادلے کی جنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ امریکہ چین پر الزامات پہلے بھی لگاتا رہا ہے کہ وہ امریکی ٹیکنالوجی کو چوری کر رہے ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ امریکی اپنی ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا پر راج کر رہے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ اس کا ایک عملی مظاہرہ افغانستان میں بھی دیکھا گیا کہ امریکی جاتے ہوئے اپنے زیر استعمال ٹیکنالوجی کو ناکارہ بنا کر وہاں سے گئے تھے۔

دنیا کے باقی ممالک کی نسبت چین وہ واحد ملک ہے جو امریکہ کے مدمقابل کھڑا ہو رہا ہے۔ چینی ترقی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے امریکہ کا ہر آنے والا نیا صدر چین سے متعلق اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں کر رہا ہے اور ہر صدر کی پہلے سے زیادہ سخت اقدامات کرتا ہے۔

چین ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ کو ٹکر دینے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ چین نے نیٹ کیلئے اپنا ایک الگ سسٹم بنا رکھا ہے اور شاید وہ اپنی موبائل ٹیکنالوجی کو بھی امریکی ٹیکنالوجی سے الگ کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے ۔ جی عملی مثال کی ایک جھلک ہواوے کے نئے آنے والے فونز میں نظر آرہی ہے جس میں چینی اپنی ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں کون سی اہم شخصیات شریک ہوئیں

اس کے ساتھ اگر بات کی جائے تو چین کی ایک موبائل ایپTikTokنے Youtubeجیسی بڑی کمپنی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ہم اس سے پہلے بھی ایسی خبریں شائع کرتے رہے ہیں کہ امریکہ نے چینی سائنسدانوں کو گرفتار کیا ہے۔ لیکن اس دفعہ کیس کی نوعیت کچھ بدلی ہوئی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق بوسٹن کے ڈسٹرکٹ جج نے ایک چینی سوداگر کو سزاسنائی ہے۔

چینی شہری شوین کیوان کی کمپنی کے بارے میں ملنے والی معلومات کے مطابق شوین کی کمپنی اوشن گرافک آلات بیچتی تھی۔
شوین پر الزام ہے کہ اس نے ہائیڈرو فون نامی ڈیوائسز کو چین میں غیر قانونی طور پر برآمد کیا ہے۔یہ ڈیوائسز دراصل پانی کے اندر پیدا ہونے والی آواز کو مانیٹر کر سکتی ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق شوین کیوان نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے ایسا کیا ہے اور اسی وجہ سے شوین کو 7سال قید اور اور 20ہزار ڈالر جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  شام میں ترکی کے فوجی آپریشن ’’چشمہ امن‘‘ کے بعد کیا امن ہو جائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں