Imran_khan_plan

پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ورچوئل اجلاس اور25واں سٹرٹیجک اجلاس

EjazNews

اجلاس میں چین،ایران، تاجکستان ،ترکمانستان ، ازبکستان کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے ۔
اس اجلاس کو لے کر انڈیا کے میڈیا میں بڑا شور سننے میں آیا ۔لیکن اجلاس بحرکیف ہو گیا۔ اس اجلاس میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا ہمیں افغانستان اور عوام کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا، یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مہاجرین کی آمد اور بارڈر سکیورٹی کے چیلنجز ہیں، افغانستان کی اقتصادی صورتحال بہتر کرنے کیلئے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، افغانستان میں کوئی خون ریزی نہیں ہوئی، طالبان نے عبوری کابینہ کا اعلان کیا ہے،افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے رہے ہیں،افغانستان میں تبدیلی ایک حقیقت ہے، صورت حال مشکل اورپیچیدہ ہے۔

دوسری جانب ایک اہم 25واں سٹرٹیجک پلان ڈویژن کے ہیڈ کوارٹرز میںاجلاس نیشنل کمانڈ اینڈ اتھارٹی کا بھی منعقد ہوا ۔ اس کی صدارت وزیراعظم نے کی ۔ اس اجلاس کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔کیونکہ اس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان کے علاوہ ڈی جی آئی ایس آئی بھی شرکت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ پولیس کا خواجہ سراؤں کو ملازت دینے کا اعلان

اس اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں بتایا گیا کہ ہے کہ ملک کے اسٹرٹیجک اثاثوں کی حفاظت سے متعلق اطمینان ہے۔اور اس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول پر پورا اعتماد ہے۔اس اعلامیہ میں اس با ت کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں شریک نہیں ہے۔ لیکن ہتھیاروں کی دوڑ سے پیدا صورتحال خطے میں امن اور سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔پاکستان خطے میں امن اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے تمام اقدامات کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں