Imran_khan_talk

اسلام آباد میں 300 ارب روپے مالیت کی زمین پر قبضہ ہوا تھا یا غیر استعمال تھی:وزیراعظم

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن اینڈ کیڈسٹریل میپنگ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔

وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے قبضہ گروپس کی طرف بھی نشاندہی کی کہ ملک میں موجود قبضہ گروپوں نے پرانے نظام سے اتنا پیسہ بنا لیا ہے کہ وہ اس طرح کے کام ہونے ہی نہیں دینا چاہتے۔

وزیراعظم نے اسلام آباد کے بارے میں بتایا کہ اسلام آباد میں 300 ارب روپے مالیت کی زمین پر قبضہ ہوا تھا یا غیر استعمال تھی، اسی طرح اسلام آباد میں جنگلات کی ایک سو ارب روپے مالیت کی تقریباً ایک ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ ہوا ہے، اس لیے اس نظام سے شفافیت آجائے گی۔

وزیراعظم نے اپنی تقریر کے دوران یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی تینوں بڑے شہروں کی ڈیجیٹل میپنگ نومبر میں ہوجائے گی اور اس کے بعد 6 مہینوں میں اس کو کور کرلیں گے، جس سے شفافیت اور ملکیت کے حوالے مسائل حل ہوجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی میں انڈین ڈیلٹا وائرس کے بعد صورتحال تشویشناک ہو گئی

انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ کام ہوگیا کیونکہ اس میں دلچسپی لینے والے بہت گروپس تھے جو چاہتے نہیں تھے کہ یہ ہو۔دوسری جانب وزیراعظم نے ایف بی آر کے متعلق کہا کہ یہ ادارہ بہت پہلے ہی کمپیوٹرائزڈ ہوجانا چاہئے تھا لیکن اس ادارے کو کمپیوٹرائزڈ نہ کرنے کی بڑی وجہ انٹرسٹ گروپ ہیں کیونکہ کمپیوٹرائزڈ نہ ہونا سے ان کو زیادہ فائدہ ملتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں 50 فیصد کیسز زمینوں کے ہوتے ہیں کیونکہ ملکیت نہیں ہوتی یا ریونیو سٹاف کے ساتھ مل کر دھاندلی ہوجاتی ہے، شیرشاہ سوری کا پرانا نظام چلا آرہا ہے اور اگر میں پیسہ دوں تو اس نظام کو آرام سے اپنے حق میں کرسکتا ہوں۔ اسی نظام کی وجہ سے لوگوں کے کیسز عدالتوں میں ہیں اور عموماً بیچارہ کمزور آدمی مار کھاتا ہے، سمندر پار پاکستانی کے لیے آج جو قدم اٹھایا گیا ہے اس سے فائدہ ہوگا کیونکہ ہمارے نظام میں اتنی مشکل ہے کہ ہم ان کی مدد نہیں کرسکتے۔

یہ بھی پڑھیں:  فرنس آئل کے پلانٹس ہر گرمیوں میں چلتے ہیں ،مگر پی ٹی آئی کی حکومت میں کم چلے ہیں :حماد اظہر

لینڈ ریکارڈ کا منصوبہ ہم گزشتہ حکومت کے دور میں بھی سنتے رہے ہیں اور بڑی حد تک پنجاب میں تو لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹیلائزیشن ہو بھی گئی تھی ۔ لیکن اس ریکارڈ میں جو کمی بیشی رہ گئی تھی اس کو موجودہ حکومت نے کس حد تک بہتر کیا ہے ا س کا فی الحال کوئی جواب نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں