Wang Yi

چین دنیا کا پہلا طاقتور ملک ہے جس کے افغانستان سے بہتر تعلقات ہیں،کیوں؟

EjazNews

چین دنیا کے طاقتور ترین ملکو ںمیں سے وہ پہلا اور فی الحال واحد ملک ہے جس پر طالبان بھروسہ کر رہے ہیں اور چین بھی طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہ ہے۔

طالبان کی کابل میں حکومت بننے سے پہلے ہی یہ تعلقات ابتدائی مراحل میں پہنچ چکے تھے ۔

بعض ماہرین اس رائے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ افغانستان کی سرحدوں سے چین کے مسلم حصے میں کسی قسم کی انتہا پسندی نہ پہنچے اور چین میں کسی قسم کی گڑ بڑ کرنے کی بیرونی سازش کا خاتمہ طالبان سے مضبوط اور اچھے تعلقات سے ممکن ہیں کو چین جان چکا ہے۔ کیونکہ جو طاقتیں چین کیخلاف آوازیں اٹھاتی ہیں اس میں ایغور مسلم پر چینی مظالم کی داستانیں بیان کی جاتی ہیں۔

چین ہمیشہ سے مغربی ممالک کی اس بات کو کہ وہ اپنے مسلم اقلیت پر ظلم کر رہا ہے کی ہمیشہ مخالفت کر تا رہا ہے اور اسے منفی پراپیگنڈا قرار دیتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  طالبان کا کابل پر قبضہ ہوا تو اپنی سرحدیں بند کر دینگے:وزیراعظم عمران خان

اب چین کی جانب سے نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جو کہ طالبان اور چینی حکومت کے درمیان دوررس نتائج کی حامل نظر آرہی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق چینی وزیر خارجہ وینگ یائی نے کہا کہ وہ افغانستان کو دالوں، سردیوں کی اجناس، ویکسین اور ادویات کی مد میں 3 کروڑ ڈالر سے زائد کی امداد فراہم کریں گے جبکہ وہ افغان عوام کو 30 لاکھ کووڈ19 ویکسین کی خوراکیں بھی عطیہ کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔

انہوں نے افغانستان کی نئی عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام انتہا پسند اور دہشت گرد قوتوں سے تعلقات ختم کر کے ان کے خلاف کارروائی کے لیے اقدامات کریں۔

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے تمام فریقین کو خفیہ معلومات کے تبادلے اور سرحدی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ افغانستان سے دہشت گردی کے خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف آخر پوسٹ بجٹ تقریر کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے

یہ تو تھیں وہ باتیں جو چینی وزیر خارجہ نے افغانستان کیلئے کی ۔ اپنے بیان میں انہوں نے امریکہ کو یاد دلایا کہ اس کی بھی کچھ ذمہ داری ہے۔ چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا دنیا کے کسی اور ملک کے مقابلے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ افغانستان کی معاشی اور انسانی بنیادوں پر امداد کریں۔ ہم افغانستان کی خودمختاری اور آزادی کا احترام کرتے ہوئے ملکی ترقی کے لیے ان کی مدد کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں