Badar

جنگ بدر میں شریک صحابہ کرام ؓ (حصہ ششم)

EjazNews

جنگ بدر میں شریک صحابہ کرامؓ کی فضیلت جتنی بیان کی جائے کم ہے۔ اپنی تحریر کے چھٹے حصے میں ہم جنگ بدر میں شریک انصاری صحابہ کرامؓ کا ذکر کریں گے۔

الانصار
۱۔ ابی بن ثابت الانصاری ؓ
یہ حسان بن ثابت کے بھائی یا برادر زادہ ہیں۔ ابو شیخ کنیت ہے۔ بدرمیں شامل ہوئے اور بیرمعونہ کے غزوہ میں شہید ہوئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

۲۔ ابی بن کعب ؓ
ابی بن کعب بن قیس بن عبید بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن النجار (دہویتم اللات )بن ثعلبہ بن عمروبن الخزرج۔ الاکبر۔ الانصاری المعادی۔
بنومعاویہ بنو جدیلہ کے پتہ سے معروف ہیں۔فحات جدیلہ معاویہ کی اہلیہ تھی تیم لات کو نجار اس لئے کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک چہرہ پر تیشہ مار کر اس کا گوشت چھیل دیا تھا۔
ابی بن کعبہ عقبہ کی ہجرت ثانیہ سے مشرف ہوئے تھے اور پھر بدرو دیگر مشاہد میں بھی حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سب سے بڑا قاری فرمایا ہے۔
ایک بار سرور عالم نے ان کو بلایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ے کہ میں تجھے اپنا قرآن سنائوں ابی نے عرض کیا میرا نام بھی اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔ فرمایا۔ ہاں۔ یہ سن کر وہ رونے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بینہ پڑھ کر سنائی۔
ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا تھا لیھنک العلم تجھے علم مبارک ہو۔ یہ کاتب وحی بھی تھے اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پیشتر خدمت کتابت وحی انہی کے سپرد تھی۔
عمر فاروق نے جب تراویح کی جماعت قائم فرمائی تو انہی کو امام تراویح مقرر فرمایا تھا۔ یہ بیس یوم تک تراویح پڑھایا کرتے اور عشرہ آخرمیں نہ پڑھاتے۔
ان کا انتقال ۱۹ یا ۲۰ ھ کو خلاف فاروقی میں ہوا۔ بعض نے خلافت عثمانی میں انتقال کا ہونا بھی تحریر کیا ہے۔ رضی اللہ عنہ۔
کتب احادیث میں ان سے ۱۹۴ مرویات پائی جاتی ہیں۔ جن سے متفق علیہ ۳۔ صرف صحیح بخاری میں ۳صرف صحیح مسلم میں ۷ہیں۔

۳۔اسعد بن یزید بن فاکہہؓ
بن یزید بن خالدہ بن زریق بن عبد حارث الانصاری الرزرقی۔
موسیٰ بن عقبہ نے ان کا نام اہل بدر میں تحریر کیا ہے مگر کتاب ابن اسحق میں ان کا نام درج نہیں۔ رضی اللہ عنہ

۴۔ اسید بن حضیر بن سماکؓ
ن بن سہیک بن رافع بن امراء القیس بن زید بن عبد الاشہل الانصاری الاشہلی۔
ان کی مشر کنیت ابویحییٰ ہے۔ اسلا م میں سعد بن معاذ سے بھی پیشتر داخل ہوئے اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ایمان لائے۔ بیعت عقبہ ثانیہ سے مشرف ہوئے۔ بدر۔ احد جملہ مشاہد میں برابر حاضر رہے۔ (صرف ابن اسحٰق نے ان کا نام بدر ین میں درج نہیں کیا۔)
احد میں سات زخم ان کے جسم پر تھے یہ ان لوگوں میں سے تھے جو احد میں ثابت القدم رہے۔ یہ عاقل کا مل صاحب فہم و رائے مسلمہ تھے۔
مواخات میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے۔ قرآن مجید نہایت ہی خوش الحانی سے پڑ ہا کرتے تھے روائت صحیحہ میں ہے کہ ملائکہ ان کی قرأت کی سماعت کے لئے اترے۔
۲۱ھ میں ان کا انتقال ہوا۔ امیر المومنین عمر فاروق کو انہوں نے اپنا وصی بنایا تھا۔ فاروق نے ان کی وفات کے بعد معلوم کیا کہ چار ہزار دینار کا قرض چھوڑ گئے ہیں۔ فاروق نے ان کا نخلستان چار سال کے لئے چار ہزار میں فروخت کر دیا اور اس طرح قرض پورا چکا دیا ۔ رضی اللہ عنہ۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں بیوی کے حقوق اور شوہر کے فرائض

۵۔ اسبرہ بن عمرو الانصاری النجاریؓ
بنو عدی بن النجار میں سے ہیں۔ ابو سلیط کنیت سے زیادہ مشہور ہیں۔ ان کے والد عمرو بھی ابو خارجہ کنیت سے معروف ہیں۔
بدر اور مشاہد ما بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حاضر رہے۔ ان کی والدہ برہ ہیں جو کعب بن عجرۃ العلوی کی بہن ہیں۔
ابو سلیط کے فرزند عبد اللہ نے ان سے روایت کی ہے۔ رضی اللہ عنہ

۶۔ انس بن مالک بن نضرؓ
بن ضمضم بن زید بن حرام بن جندب بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار بن ثعلبہ بن عمروبن خزرج بن حارثۃ الانصاری الخزرجی النجاری۔
ان کی کنیت ابو حمزہ ہے جب نبی ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو یہ دس سال کے تھے ان کی والدہ ام سلیم بنت ملحان الانصاریہ نے ان کو حضور میں پیش کیا کہ یہ حضور کی خدمت کیا کریگا۔ چنانچہ دس سال تک برابر خدمت نبوی میں شب و روز حاضر رہے سفر و حضر میں کبھی علیحدہ نہیں ہوئے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دُعا دی تھی۔ اللھم ارزقہ مالا وولداً وبارک لہ ۔الٰہی اسے مال و اولاد دے اور برکت عطا فرما۔
کہتے ہیں کہ ان کی پشت سے ۷۸ فرزند اور دو دختران حفصہ ام عمرو پیدا ہوئیں۔ آخر عمر میں بصرہ میں جا آباد ہوئے وہیں ۹۲ھ یا ۹۳ھ کو وفات پائی۔ اس حساب سے ان کی عمر ۱۰۲ یا۱۰۳سال کی ہوتی ہے۔ رضی اللہ عنہان سے کسی نے پوچھا کہ انس تم بدر میں شامل تھے انہوں نے کہا تیری ماں مرے میں حضور کی خدمت چھوڑ کر کہاں جاسکتا تھا۔
دو اوین حدیث میں ان سے ۳۲۸۶ مرویات موجود ہیں۔ ازاح جملہ ۱۶۸ متفق علیہ ۸۳۔ صرف صحیح بخاری میں ۷۱صرف مسلم میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وعدہ خلافی ،بہتان اور چغل خوری کا بیان

۷۔ انس بن معاذ بن انس بن قیسؓ
بن عبید بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن النجار الانصاری۔ سب کا اتفاق ہے کہ بدر میں حاضر تھے اور واقعہ بیر معونہ میں شہید ہوئے۔
واقدی اس بیان میں منفرد ہیں کہ وہ انس بن معاذ بدر واحد و خندق اور جملہ مشاہد میں ملتزم رکاب نبوی تھے اور خلافت عثمانی میں وفات پائی۔ رضی۔

۸۔ انیس بن قتادہؓ
بن ربیعہ بن خالد بن حارث بن عبید بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس الانصاری بدر میں حاضر ہوئے اور احد میں شہادت پائی ۔ خنساء بنت خذام الاسدیہ کے شوہر یہی تھے ۔ رضی اللہ عنہ

۹۔ انسہ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ابو مسروج کنیت بمقام سراۃ پیدا ہوئے جب حضور رونق افروز مجلس ہوتے اس وقت و ربانی کی خدمت سرانجام دیا کرتے تھے۔ بدر واحد میں حاضر تھے ۔ خلافت ابوبکر صدیق میں انتقال ہوا۔ رضی اللہ عنہ

۱۰۔ اوس بن ثابت لانصاریؓ
اوس بن ثابت بن منذر بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار حسان بن ثابت شاعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی بھائی ہیں۔ عقبہ و بدر میں شریک ہوئے اور احد میں شہادت پائی۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔

۱۱۔ اوس بن خولی بن عبد اللہؓ
بن حارث بن عبید بن مالک بن سالم الحبلی الانصاری الخزرجی۔
بدر۔ احد۔ خندق اور جملہ مشاہد نبوی میں برابر حاضر رہے۔ مواخات میں یہ شجاع بن وہب الاسدی کے بھائی ہیں۔ انصار میں سے غسل نبوی میں شریک ہونے کی فضیلت انہیں کو حاصل ہوئی۔ یہ اس طرح ہوا کہ انصار بوقت غسل جمع ہوگئے۔ اندر سے دروازہ بند تھا۔ انہوں نے شور کرنا شروع کیا کہ ہم آنحضرت ﷺکے ننھیال میں سے ہیں ہم کو ضرور شریک کرو۔ کہا گیا کہ تم اپنے میں سے ایک کو منتخب کر لو۔ چنانچہ اوس بن خولی پر انصارنے اتفاق کرل یا اور یہی بزرگ تدفین مبارک میں برابر شامل رہے۔ ان کا انتقال مدینہ میں خلافت عثمانی میں ہوا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

۱۲۔ اوس بن صامت الانصاری
اوس بن صامت بن قیس بن احرم بن فہر بن ثعلبہ بن غنم بن سالم بن عوف بن الخزرج۔
بدر۔احد اور جملہ مشاہد میں بمعیت رسول پاک حاضر ہوتے رہے۔ امیر المومنین عثمان کی خلافت میں وفات پائی۔
یہ وہی ہیں جنہو ں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا اور پھر قبل از کفارہ ہمبستری کرلی تھی اور نبی ﷺنے ان کو حکم دیا تھا کہ ۶۰ مساکین کو ۱۵ صاع جو تقسیم کریں۔ یہ عبادہ بن صامت کے بھائی ہیں اورمندرجہ ذیل شعر انہی کا ہے
انا ابن مزیقیا عمرو وجد ے
ابوہ عامر ماء السماء

یہ بھی پڑھیں:  توحید

۱۳۔ ایاس بن ودقہ الانصاری الخزرجیؓ
بنو سالم بن عوف بن خزرج سے ہیں ۔ بدر میں حاضر ہوئے اور جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔ رضی اللہ عنہ

۱۴۔ بشر بن براء بن معرور الانصاری الخزرجیؓ
بنو سالم بن عوف بن خزرج سے ہیں۔ بدر میں حاضر ہوئے اور جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔ رضی اللہ عنہ۔

۱۴۔ بشر بن براء بن معرور الانصاری الخزرجیؓ
بنو سلمہ میں سے ہیں۔ بیعت عقبہ کا شرف حاصل کیا۔ بدر۔ احد۔ خندق میں شجاعانہ خدمات انجام دیں۔بمقام خیبر یہ نبیﷺ کے دستر خوان پر تھ ے جب یہودیہ کا مسموم گوشت پیش ہوا۔ انہو ں نے اس میں سے لقمہ کھا لیا اور زہر سے شہید ہو گئے ان کا بیان ہے کہ لقمہ کا مزہ مجھے بھی خراب معلوم ہوا تھا۔ مگر نبی ﷺ کے سامنے لقمہ اگلنا ادب کے خلاف سمجھا۔ ان کو نبی ﷺ نے بنو ساعدہ کا سردار مقرر فرمایا تھا۔
ان کے والد بزرگوار براء بن معرو نقبائے محمدیہ میں سے ہیں عقبہ اولیٰ کو بیعت کا شرف حاصل کیا تھایہ پہلے بزرگوار ہیں جنہوں نے کعبہ کو سمت نماز ٹھہرایا تھا اور پہلے بزرگوار ہیں جنہوں نے قبلہ رخ لحد میں آرام کیا تھا ۔ ان کا انتقال قدوم نبوی سے پیشتر مدینہ منورہ میں ہوگیا تھا۔ رضی اللہ عنہ۔

۱۵۔ بشیر بن سعد بن ثعلبہؓ
بن خلاص بن زید بن مالک بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزرج الانصاری ۔
ابو نعمان کنیت تھی۔ عقبہ۔ بدر میں حاضر تھے۔ سماک بن سعد ان کے بھائی ہیں۔ وہ بھی بدری ہیں بشیر، احد اور جملہ مشاہد میں نبیﷺ کے ساتھ ساتھ حاضر رہے تھے۔
یوم سقیقہ کو ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر انصار میں سے سب سے پہلی بیعت کرنے والے یہی بزرگ ہیں ۔ جنگ عین التمر میں زیر سیادت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سرگرم پیکار تھے کہ بجہاں آفریں سپرد فرمائی۔ یہ واقعہ خلافت صدیقیہ کا ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں