Pakistani_Teacher

استاد کا سبق

EjazNews

مظفر بہت ذہین اور سمجھدار لڑکا تھا۔ پانچویں کے بعد اس کو شہر کے ایک بڑے سکول میں داخل کروادیا گیا ۔ یہ سکول گھر سے کافی فاصلے پر تھا۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ سائیکل پر جاتا اوران کے ساتھ ہی واپس گھر آتا تھا۔ ایک دن جب وہ کافی دیر تک گھر نہ پہنچا تو اس کی ماں کو فکر ہوئی کیونکہ مظفر کبھی دیر سے گھر نہیں آتا تھا ۔ اگر اس نے کہیں جانا ہوتا تو وہ پہلے اپنی ماں کو بتا دیتا تھا مگر آج اس نے کچھ بتایا بھی نہیں تھا اور ابھی تک گھر پہنچا بھی نہیں تھا۔

مظفر کی ماں نے سر پر دو پٹہ اوڑھا اورننگے پائوں سکول کی طرف چل پڑی۔ راستے میں اس کو مظفر کے استاد صاحب مل گئے انہوں نے مظفر کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ سکول میں چھٹی ہوئے بھی ایک گھنٹہ ہو گیا ہے۔ میں اس کو باغ کی طرف جاتے دیکھا تھا۔ آپ گھر واپس جائیں میں ادھر جا کر پتہ کرتا ہوں۔ مظفر کی ماں نے پریشان ہوتے ہوئے کہا کہ وہ جہاں بھی نظر آئے اس کو دو چار لگا دینا یہ کہہ کر وہ گھر واپس آگئی اور استاد صاحب باغ کی طرف چل پڑے۔ ابھی وہ چوک پر پہنچے تھے کہ ان کو مظفر اپنے دوستوں کے ساتھ سائیکل پر آتا نظر آیا۔ انہوں نے ان سب کو روکا اور خوب غصے سے ان کو دیکھ کر مظفر کو دو تین تھپڑ لگا کر کہا کہ کم از کم اپنی ماں کو تو بتا دیتا کہ وہ کہاں جارہا ہے۔ اس کی ماں پریشانی کی حالت میں ننگے پائوں اس کو ڈھونڈ رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  پیارے بچو! کیا آپ چین کے بارے میں جانتے ہیں؟

مظفر اور اس کے دوستوں نے جب اپنے استاد کو دیکھا تو گھبرا گئے تھے اور پھر جب مظفر کی پٹائی ہوئی تو وہ سب مظفر کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ مظفر کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ اتنی دیر میں مظفر کا بڑا بھائی مظہر بھی اس کو ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچ گیا۔ مظفر نے بڑے بھائی کو آتے دیکھا تو جیب سے رومال نکال کر فوراً آنکھیں اور منہ صاف کرلیا۔ مظہر بھائی  نے آکر خوب جھاڑا اور اس کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر گھر جانے لگے۔ انہوں نے استاد صاحب کا شکریہ ادا کیا اور مظفر کو آئندہ ایسی غلطی نہ کرنے کا کہا۔

اگلے دن جب مظفر سکول پہنچ تو فضل ربی صاحب نے مظفر سے کہا کہ اس نے بڑے بھائی کو دیکھ کر منہ اور آنکھیں کیوں صاف کر لی تھیں؟۔ مظفر نے کہا کہ میں غلطی پر تھا اور جو استاد کی شکایت کرتا ہے وہ شاگرد کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی آپ نے خود ہمیں سکھائی تھ یاور مامون الرشید کا واقعہ بھی سنایا تھا جس میں مامون کو اس کے استاد نے مارا تھا اور وزیر جعفر برمکی کے آنے پر شہزادہ مامون نے فوراً منہ صاف کر لیا اور وزیر کے سامنے یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ اس کو استاد سے مار پڑ ی ہے جب وزیر سلطنت واپس چلے گئے تو استاد کے پوچھنے پر انہوں نے بتایا تھا کہ جو شاگرد اپنے استاد کی مار کی شکایت کرتا ہے وہ اپنے علم ا ور استاد سے مخلص نہیں ہوتا کیونکہ استاد اسی وقت مارتا ہے جب شاگرد سے کوئی غلطی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  شہزادے سے جدا ہو گئے

فضل ربی صاحب نے مظفر کو گلے سے لگاکر شاباش دی اور کہا کہ اس نے یہ بات کہہ کر ان کا سارا غصہ دور کر دیا ہے۔ آئندہ تو اپنی ماں کو لازمی بتا کر جائے۔

اچھے بچو! استاد روحانی باپ ہوتا ہے اور اس کی عزت کرنے والے ہی کامیابی کی سیڑھیوں کی طرف جاتے ہیں۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں