Imran_khan_ای وی ایم مشین

الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں ای وی ایم مشین پر کس قسم کے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے؟

EjazNews

الیکٹرانک مشین پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھا نہیں جاسکتا جبکہ ای وی ایم کے استعمال سے کم ازکم خرچہ 150ارب روپے آئے گا اور کثیر رقم خرچ کرنے کے باوجود الیکشن کی شفافیت اور ساکھ مشکوک رہےگی۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ای وی ایم کس کی تحویل میں رہیں گی، کچھ نہیں بتایا جارہا جبکہ مشین کو ہیک بھی کیا جاسکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ بلیک باکس میں شفافیت پر سوال اُٹھنے کے ساتھ ساتھ ہر جگہ پر مشین کے استعمال کی صلاحیت پر سوال آسکتا ہے جبکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین دھاندلی نہیں روک سکتی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق زیادہ مشینوں سے ایک روز میں انتخابات کرانا ممکن نہیں ہوگا اور مشینوں کی کسی وجہ سے مرمت الیکشن میں دھاندلی کا باعث بن سکتی ہے جبکہ ووٹر کی تعلیم اور ٹیکنالوجی بھی رکاوٹ بنے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  کورونا کی ملک بھر میں صورتحال

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ میشن کے ذریعے دھاندلی رک سکتی ہے نہ ووٹر کی شناخت خفیہ رہے گی۔

الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ آئندہ عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر ای وی ایم کے استعمال کیلئے وقت بہت کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر بیلٹ پیپر کی مناسب رازداری نہیں رہے گی جبکہ ووٹر کی شناخت گمنام نہیں رہے گی۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ای وی ایم پر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے نہیں جبکہ میڈیا این جی اوز اور سول سوسائٹی کو بداعتمادی ہوسکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہےکہ عین وقت پر عدالتی حکم سے بیلٹ میں تبدیلی ہوجاتی ہے اس وقت مشکل پیش آئے گی جب کہ ای وی ایم سے نتائج میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے ای وی ایم پر اعتراضات پر تفصیلی رپورٹ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں جمع کرائی جس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر 37 اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کے فوکل پرسن ڈاکٹر فیصل سلطان نئے معاون خصوصی تعینات

اپنا تبصرہ بھیجیں