Taliban_air

طالبان کی نئی حکومت کا امتحان شروع، چیلنجز کی ایک لمبی فہرست ہے

EjazNews

افغانستان میں طالبان کو دوسرا موقع ملا ہے۔ پہلی دفعہ طالبان کی حکومت بڑی سخت پابندیوں میں رہی اور دنیا کے بیشتر ممالک بھی طالبان کی حکومت کو ماننے سے انکاری تھے اور ان میں بہت سے اسلامی ممالک بھی تھے۔

لیکن اس دفعہ معاملہ بالکل مختلف ہے۔طالبان دوسری بار تقریباً تمام افغانستان کے حکمران ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس دفعہ کا افغانستان بڑی حد تک پہلے افغانستان سے ڈویلپ ہے۔ کم از کم دارالحکومت میں سکول ،کالجز ، یونیورسٹی موجود ہے ۔ طالبان سے جس حالت میں افغانستان چھینا گیا تھا جب طالبان نے واپس حاصل کیا تو پہلے سے کچھ بہتر ڈویلپ ہے ۔ لیکن روزگار بہر حال افغانستان کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس مد میں طالبان کی موجودہ حکومت کا امتحان شروع ہو رہا ہے۔

گزشتہ روز کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان کی نئی عبوری حکومت کے وزیراعظم محمد حسن اخوند ہوں گے جبکہ ملا عبدالغنی برادر ان کے نائب ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ملا برادر عبدالغنی اور مولانا عبدالسلام دونوں مولانا محمد حسن کے معاون ہوں گے جبکہ ملا عمر کے صاحبزادے محمد یعقوب مجاہد عبوری وزیر دفاع ہوں گے۔

افغانستان کے نئے سربراہ

ان کا کہنا تھا کہ سراج الدین حقانی عبوری وزیر داخلہ، ملا امیر خان متقی وزیر خارجہ اور شیر محمد عباس استنکزئی نائب وزیر خارجہ کے منصب پر فائز ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  افغان پناہ گزینوں کو اسمارٹ کارڈ کے اجرا کی منظوری ، جن کے پاس رجسٹریشن کا ثبوت ہے:وفاقی کابینہ

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ملا خیراللہ خیرخواہ وزیر اطلاعات ہوں گے اور قاری دین محمد حنیف وزیر اقتصادیات ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ فصیح الدین بدخشانی افغانستان آرمی کے چیف مقرر کردئیے گیے ہیں جبکہ مولوی محمد عبدالحکیم شرعی افغان عدلیہ کے وزیر ہوں گے اور ہدایت اللہ بدری کو وزیر خزانہ کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ شیخ مولوی نور محمد ثاقب وزیر برائے حج و اوقاف، ملا نور اللہ نوری وزیر سرحد و قبائل، ملا محمد یونس اخوندزادہ وزیر معدنیات، حاجی ملا محمد عیسیٰ وزیر پیٹرولیم اور ملا حمید اللہ اخوندزادہ وزیر ٹرانسپورٹ ہوں گے۔ خلیل الرحمن حقانی وزارت مہاجرین اور تاج میر جواد ریاستی امور کے وزیر ہوں گے۔ ملا عبدالطیف منصور کو وزارت پانی و بجلی، نجیب اللہ حقانی کو برقی مواصلات، عبدالباقی حقانی کو وزارت تعلیم، عبدالحق وثیق کو وزارت انٹیلی جنس کی ذمے داریاں دی گئی ہیں۔ افغانستان بینک کے سربراہ حاجی ادریس ہوں گے، یونس اخونزادہ وزارت دیہی ترقی، ملا عبدالمنان عمری وزارت عوامی بہبود، ملا محمد عیسیٰ اخوند وزارت کان کنی، مولوی نور جلال نائب وزیر خارجہ اور ذبیح اللہ مجاہد نائب وزیر اطلاعات و ثقافت ہوں گے۔ انٹیلی جنس کے نائب سربراہ اول کی ذمہ داریاں ملا تاج میر جواد نبھائیں گے، ملا رحمت اللہ نجیب نائب سربراہ انٹیلی جنس جبکہ نائب وزیر داخلہ برائے منشیات کا عہدہ ملا عبدالحق سنبھالیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانوی حکومت سے بذریعہ سفارتخانے رابطہ کیا اور کیمرج نے اپنے پورے نتائج پر نظر ثانی کی:شفقت محمود

طالبان کا امتحان اب شروع ہو رہا ہے کیونکہ جن لوگوں کو عہدے دئیے گئے ہیں وہ اس کی قابلیت رکھتے ہیں یا نہیں ان کو یہ ثابت کرنا ہوگا اوراگر ایسے لوگوں کو عہدے مل گئے جو اس عہدے کی قابلیت نہیں رکھتے تو اس صورتحال میں ان سے عہدہ واپس لینا بھی ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا ۔

طالبان اپنے دوسرے دور حکومت میں پہلے سے بہت مختلف ہیں۔ اس دفعہ کے طالبان پہلے کی نسبت بالکل مختلف ہیں اس کا عملی مظاہرہ ہم پنج شیر میں دیکھ چکے ہیں کیونکہ طالبان کی آخری لمحے تک کوشش تھی کہ کسی طرح گولی چلائے بغیر پنج شیر کا مسئلہ حل ہوجائے ۔ اس کے لیے عمائدین کا جرگہ بھی بیٹھا اور بزرگوں کو بھی شامل کیا گیا جب بات نہ بنی اور طالبان نے پیش قدمی کی تو احمد مسعود بھی افغانستان سے فرار ہو گئےخود تو ملک چھوڑ کر چلے گئے لیکن عوام سے کہہ رہے تھے کہ آپ طالبان کیخلاف نکلو۔

طالبان کا ایک بڑا امتحان وہ لوگ بھی ہیں جو ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ ان کو کسی نہ کسی طرح واپس لانا اور ملک میں بسانا بھی بہت اہم ہے کیونکہ انڈیا سمیت بہت سے ممالک موقع کی تاڑ میں رہیں گے ۔ انڈیا کا میڈیا پہلے دن سے طالبان کیخلاف منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے جو بعض اوقات اس حد تک مخالفت میں آگے بڑھ جاتا ہے کہ جھوٹی اور من گھڑت خبریں بھی نشر کر کے ذلت اٹھاتا ہے ۔لیکن ذلالت اٹھانے کے باوجود اثر کم ہی ہوتا ہے۔اس میڈیا پروپیگنڈا وار سے لڑنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ملک کے اندر بہت سے چیلنجوں سے لڑنا اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کے سب سے طاقتور وائٹ ہاﺅس کا نیا مکین کون؟

طالبان کی حکومت میں ایک بڑا چیلنج روزگار کا ہوگا۔ چین طالبان کے ساتھ تعاون کرنے پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے اور طالبان بھی چین سے کسی قسم کی عداوت نہیں رکھتے اور وہ چاہتے ہیں کہ چین ان کا ملک ڈویلپ کرے اور یہاں روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔

افغانستان کے پاس معدنیا ت کی صورت میں اربوں ڈالر موجود ہیں لیکن یہ معدنیات طالبان خود نہیں نکال سکتے اس کے لیے انہیں دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں سے بہر حال ہر صورت رابطہ کرنا ہی پڑے گااس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ اپنی جگہ ایک بڑا مسئلہ ہوگا۔

اگر طالبان کے چیلنجز میں گنوانا شروع کروع تو شاید سطریں کم پڑ جائیں کیونکہ پوری دنیا کی نظریں اس وقت طالبان کے ہر لمحہ اٹھائے گئے اقدامات کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ ان کاایک غلط قدم دنیا بھر کو موقع فراہم کرے گا اس لیے ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑے گا طالبان کو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں