Fawad_ch_information_minister

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات کی میڈیا بریفنگ

EjazNews

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےوفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قطعی مناسب نہیں ہے کہ غریب لوگوں سے زبردستی زمین ہتھیالی جائے اور پھر وہ بڑے لوگوں کو سستے داموں دے دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ غریبوں کا بہت زیادہ استحصال کیا گیا ہے خصوصاً اسلام آباد میں گاؤں میں زمین پر قبضہ کر لیا گیا، زمین جن کی ملکیت تھی ان سے لے لی گئی اور من پسند بیورو کریٹس، ججز اور صحافیوں کو یہ پلاٹس دے دئیے گئے اور ایک بہت بڑی تعداد میں صحافیوں کو یہ پلاٹس ملے ہیں۔

بقول وزیر اطلاعات وزیر اعظم نے وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں شیریں مزاری، شہزاد اکبر اور فروغ نسیم موجود ہیں اور یہ کمیٹی ایک جامع پالیسی لے کر آئے گی اور ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے گا جس میں غریب لوگوں کی زمینوں کو ہتھیایا نہ جا سکے اور بڑے لوگ وہاں اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی نہ بنا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان آ رہی ہے، اس کے دورے کے لیے سکیورٹی منصوبے کی منظوری دی گئی ہے، نیوزی لینڈ کا گزشتہ دورہ پاکستان سکیورٹی کے اعتبار سے خوش کن نہیں تھا لیکن اس کو مدنظر رکھتے ہوئے غیرمعمولی سکیورٹی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو فراہم کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  میری بیٹیوں، بہنوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے جن نعروں کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ کس معاشرے کی عکاسی کر رہے ہیں:معاون خصوصی

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ سینما انڈسٹری کی بحالی کے لیے ہم نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ غیر بھارتی پنجابی فلموں کو پاکستانی سینما میں لگایا جائے، کابینہ نے کہا ہے کہ آپ اسے صرف پنجابی فلموں تک محدود نہ رکھیں بلکہ بھارت کے علاہ تمام بین الاقوامی فلموں کی پاکستان میں درآمد کی اجازت دی جائے لہٰذا اب ہم سمری کو ترمیم کے بعد دوبارہ پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ 70 کی دہائی میں ہمارے پاس 780 سینما تھے لیکن اب صف 78 سینما رہ گئے ہیں اور اگر ہم نے سینما اور فلم کی بحالی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو ہماری فلم انڈسٹری جو پہلے ہی تقریباً بیٹھ چکی ہے، یہ بالکل بند ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس کے لیے ایک فلم پیکج لا رہے ہیں اور سینما کی بحالی کے لیے بھی عملی اقدامات کر چکے ہیں اور اس کا اعلان اگلے ہفتے تک کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈیڑھ کروڑ یا 10کروڑ ؟ میاں شہباز شریف کی گھڑی کی قیمت پرنئی بحث

فواد چوہدری نے کہا کہ کووڈ-19 کے مریضوں کو لگائے جا رہے ریمز وائر کے انجیکشن کی قیمت 5 ہزار 680 روپے سے کم کر کے 3 ہزار 967 روپے مقرر کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رضاکارانہ سروے سکیم اور گولڈن شیک ہینڈ کی منظوری دی گئی ہے جو پاکستان میڈیکل کمیشن کے ملازمین کے لیے ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 31 اگست 2021 کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی، اس میں 45 کنٹونمنٹ الیکشن کے لیے 21 کروڑ روپے سے زائد کی تکنیکی اضافی گرانٹ دی گئی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ریکوڈک کے مقدمے میں ہمارے بیرون ملک اثاثے ضبط کر لیے گئے تھے اور روزویلٹ ہوٹل بھی ان اثاثوں میں شامل ہے، بعد میں ہم نے یہ جیتا اور اب وہ روزویلٹ ہوٹل پاکستان کو واپس مل گیا ہے لیکن اس کے قرض کی ادائیگی کے لیے پیسے چاہیے تھے جو دئیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان جوائنٹ سکیورٹی کمیشن کا قیام عمل میں آیا ہے اور یہ وزیر اعظم کے دورہ ازبکستان کے نتیجے میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بہت گہرا سیاسی اور اسٹریٹجک تعلق قائم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مودی سرکار میں ہندو توا کا پجاری ٹولہ کشمیر میں منہ کے بل گرے گا:وزیراعظم عمران خان

وفاقی وزیر نے کہا کہ پوری دنیا میں افغانستان پر بات ہو رہی ہے لیکن آپ نے کبھی مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی سے نہیں سنا ہو گا کہ ان کی اس بارے میں کیا پالیسی ہے، جو مہاجرین آ رہے ہیں اس پر ان کی کیا سوچ ہے اور پاکستان کے کردار کو وہ کس طرح سے دیکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کبھی کبھی پی ٹی ایم کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے چلنا چاہتی ہے، اس کے علاوہ ہم نے کبھی بھی ان کے منہ سے نہیں سنا کہ وہ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بے نظیر بھٹو کی پارٹی سیاسی جوکروں کے ہاتھ میں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جاوید لطیف سیاسی جوکر ہیں، وہ توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح فوج انہیں لفٹ کرا دے، جس پارٹی کی حیثیت یہ ہو کہ وہ جی ایچ کیو کے دروازے کے باہر بیٹھے ہوں، وہ چاہیں گے جو فیڈر ان کی قیادت کے منہ میں رہا، وہی کسی طرح ان کے بھی منہ میں لگا دیا جائے اور ہمیں اقتدار دے دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں