Afghanistan_Women_Education

طالبان کے دور حکومت میں خواتین کا تعلیمی نظام کیسا ہوگا؟

EjazNews

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہاہے پنج شیر میں طاقت مجبوراًاستعمال کی،سب کومعاف کیا۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس میں پنجشیر میں عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجشیر کے لوگ ہمارے بھائی ہیں، ہم وہاں فوجی کارروائی نہیں چاہتے تھے بلکہ ایک گولی چلائے بغیر پُرامن حل نکالنا چاہتے تھے تاہم کچھ لوگ افغانستان کو ہمیشہ جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان میں قومی مزاحمتی فورس کے سربراہ احمد مسعود نے افغان عوام سے طالبان کے خلاف ملک بھر میں قومی بغاوت کی تحریک شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

سوشل میڈیا پر احمد مسعود کا ایک آڈیو بیان جاری کیا گیا ہے جس میں انھوں نے تاحال جنگ جاری رہنے کا دعویٰ کیا ہے۔قومی مزاحمتی فورس کے سربراہ احمد مسعود نے افغان عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے افغانستان میں طالبان کے خلاف ملک گیر قومی بغاوت شروع کی جائے اور یہ تب تک جاری رہے جب تک ملک میں انصاف، عدل اور مساوات قائم نہیں ہوجاتا۔

احمد مسعود نے طالبان پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ طالبان تبدیل نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے زیادہ شدت پسند ثابت ہو رہے ہیں۔ ہم نے مقامی علماء کے کہنے پر جنگ روک دی تھی لیکن طالبان نے دھوکا دیا اور پیش قدمی کی جس میں میرے رشتے دار اور سیاسی رفقا ہلاک ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ڈی ایم 26مارچ کو لانگ مارچ کرے گی: سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن

احمد مسعود نے عالمی برادری پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قوتوں نے طالبان کو عسکری اور سیاسی طور پر مضبوط سے مضبوط تر ہونے کا وقت اور موقع فراہم کیا تاہم تاریخ اپنا فیصلہ خود کرے گی کہ کون سے ممالک افغانوں کے حقیقی دوست ہیں۔

احمد شاہ مسعود نے اپنے بیان سوشل میڈیا پر جاری کیا وہ بھی آڈیو پیغام تھا جبکہ طالبان ترجمان کیمرے کے سامنے آکر بیانات دے رہے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ طالبان اجداد کی طرح بہت زیادہ شدت پسندی اختیار کر رہے ہیں یا پھر وہ نارمل صورتحال سے افغانستان کو پر امن بنا کر اس پر حکومت مستحکم کر رہے ہیں اس سوال کا جواب طالبان کے خواتین کی تعلیمی اداروں سے متعلق نئی پالیسی سے لگانا مشکل نہیں کہ طالبان نے یا تو بہت کچھ سیکھ لیا ہے یا پھر وہ جانتے ہیں کہ معاشرے کی تربیت کرنا ضروری ہے۔
طالبان کی جانب سے تعلیمی اداروں کی نئی پالیسیوں کے تحت افغانستان میں نئے تعلیمی سال کے پہلے دن کابل کی یونیورسٹیوں میں پروفیسر بھی آئے اور طلبہ بھی ۔ ان کی تعداد کیا تھا یہ ایک الگ بحث ہے کیونکہ افغانستان میں ابھی تک حالات بالکل نارمل سطح پر نہیں آئے ہیں۔

طالبان خواتین کے تعلیم حاصل کرنے کے بالکل خلاف نہیں ہیں بلکہ وہ اپنے معاشرے کی مناسبت سے خواتین کو تعلیم جاری رکھنے کا کہہ رہے ہیں۔یعنی طالبان مخلوط تعلیم لڑکے اور لڑکیوں کے الگ الگ پڑھنے کے حق میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف آخر پوسٹ بجٹ تقریر کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے

اگر دیکھا جائے تو ہر معاشرے نے اپنے اصول طے کرنے ہوتے ہیں۔ اگر طالبان خواتین کے تعلیم حاصل کرنے کی مخالفت کریں تو مورد الزام ٹھہرائے جا سکتے ہیں لیکن اگر وہ لڑکے اور لڑکیوں کے الگ الگ تعلیم حاصل کرنے پر زور دے رہے ہیں تو یہ ان کا اپنا معاشرتی اصول ہے ۔ وہ تعلیم کے نہیں بلکہ طریقہ کار کے مخالف ہیں ۔

اس کی مثال اس طرح بھی لی جاسکتی ہے کہ فرانس اپنے معاشرے میں کسی کو سکارف پہننے کی اجازت نہیں دیتا ۔ اگر کوئی سکارف پہن کر تعلیمی ادارے میں آنا چاہتا ہے تو تعلیم کے تمام دروازے اس پر بند کر دئیے جاتے ہیں۔یہ فرانس کا اپنا معاشرتی اصول ہے۔

دوسری جانب طالبان نے یونیورسٹی اور کالج جانے والی خواتین طالبات کے لیے پردے کی شرط میں عبایہ پہننا اور چہرے کا نقاب لازمی قرار دیا ہے جس سے آنکھوں کے علاوہ پورا چہرہ چھپ جائے۔

نجی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے لیے تفصیلی احکامات جاری کیے گئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور مرد طلبہ کی علیحدہ کلاسز ہوں گی، یا پھر کلاس روم میں پردہ لگا کر مرد اور خواتین طلبہ کو علیحدہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہم جمع ہوئے ہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اس کی آئینی ذمہ داریاں یاد دلائیں:مریم نواز

کیا یہ پابندی تعلیم کی مخالفت میں جاتی ہے جس نے پڑھنا ہے جتنا چاہے پڑھے لیکن پردے میں رہ کرتو اس میں کیا حرج ہے۔ فرانس اگر عورت کے سر سے دوپٹا اتار کر اسے پڑھنے پر مجبور کرتا ہے تو سیکولر بن جاتا ہے اور طالبان اگر سر پر دوپٹا دے کر پڑھنے کو کہتے ہیں تو وہ کیسے متشدد ہو گئے۔

طالبان کی جانب سے جاری نئے احکامات کے مطابق خواتین طالبات کو صرف خواتین یا پھر عمر رسیدہ مرد اساتذہ ہی پڑھا سکیں گے جبکہ خواتین علیحدہ راستے سے یونیورسٹی یا کالج میں داخل ہوں گی۔

خواتین طالبات کی کلاس مردوں سے پانچ منٹ پہلے ختم کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ خواتین اور مردوں کو آپس میں ملنے جلنے سے روکا جا سکے۔

افغانستان میں خواتین کے لیے سکالر شپ پروگرم چلانے والی خاتون زہرہ برمن نے سوشل میڈیا پراپنے ایک تبصرے میں لکھا ہے کہ ان کی چند طالبات سے بات ہوئی ہے اور وہ یونیورسٹی واپس جانے پر خوش ہیں اگرچہ انہیں عبایہ پہننا پڑ رہا ہے۔
زہرہ برمن کا کہنا تھا کہ طالبان کا خواتین کے لیے یونیورسٹیاں کھولنا ایک اہم پیش رفت ہے، بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دیگر حقوق اور آزادیوں پر بھی آمادہ ہو سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں