women_scarf

ازبکستان میں تعلیمی اداروں میں سکارف لے کر پڑھنے کی اجازت، مگرشرائط کےساتھ

EjazNews

ازبکستان سابق سوویت یونین سے آزادی حاصل کرکے اپنی آزادانہ حیثیت سے پروان چڑھنے والا ایک ملک ہے۔2019ءکی مردم شماری کے مطابق اس ملک کی آبادی 33.58ملین ہے۔

ازبکستان کی اکثریت اسلام پر عمل پیرا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہاں کچھ پابندیاں بھی عائد ہیں۔ جنہیں مذہبی پابندیاں بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ پابندیاں ترکی سے ملتی جلتی ہیں۔ کیونکہ ترکی میں بھی سکارف پہن کر خواتین تعلیم حاصل نہیں کر سکتی تھیں۔

ازبکستان دراصل خود کو سیکولر ملک قرار دینا چاہتا ہے ۔ جہاں مذہب سب کا ذاتی مسئلہ ہوتا ہے لیکن کیا پہننا ہے کیا نہیں پہننا اس معاملے تک کوحکومت خود دیکھتی ہے۔

ازبکستان میں بھی خواتین کے سکارف لے کر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی تھی جو کہ اب ختم کر دی گئی ہے لیکن شرائط کے ساتھ۔

ازبکستان کے میڈیا کے مطابق وزیرتعلیم شیرزود شرماتوف کا کہنا تھا کہ متعدد والدین کی اپیل کے بعد حکام نے قومی سکارف اور سر کو سفید یا ہلکے رنگ سے ڈھانپنے کی اجازت دینے کا ارادہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  1933-1945 ہم یہ دیکھ چکے ہیں،جرمن طالبعلم کا پلے کارڈ اٹھائے انڈیا میں احتجاج

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ہر بچے کے سیکولر تعلیم کے حصول کو یقینی بنانے کے ضروری تھا۔

شیرزود شرماتوف کے پیش کردہ حجاب کی ابتدائی شکل سے ظاہر ہے کہ سکول کی طالبات اپنی ٹھوڑی نہیں چھپا سکیں گی جیسے حجاب میں چھپ جاتا ہے، سر ڈھانپنا عالم اسلام میں مشہور ہے۔

ازبکستان کے موجودہ صدر شوکت مرزیوف 2016ءمیں اقتدار کے منصب پر فائز ہوئے تھے تب سے لے کر آج تک سخت پابندیوں میں نرمی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔

ازبکستان سکارف پر پابندی میں نرمی پہلے سے کر چکا ہوا ہے ۔ اس اقدام سے قبل ازبکستان میں خواتین کو عوامی مقام پر حجاب پہننے کی اجازت مل چکی تھی لیکن سرکاری اداروں بشمول تعلیمی اداروں میں سکارف کے ساتھ نوکری یا پڑھنے کی اجازت نہیں تھی جس میں اب نرمی کر دی گئی ہے۔

ازبکستان کا یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ کیونکہ اگرآپ یہ کہتے ہیں کہ مذہب سب کا ذاتی معاملہ ہے تو لباس کا انتخاب بھی تو ذاتی معاملہ ہے۔ اگر ایک بچی اپنے سر کو ڈھانپ کر تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے اور آپ اس پر صرف اس لیے تعلیم کے دروازے بند کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے مذہب پر عمل پیرا کیوں ہو رہی ہے تو کیا یہ مناسب بات لگتی ہے؟۔

یہ بھی پڑھیں:  30سال تک مصر کے سیاہ و سفید کے مالک رہنے والے حسنی مبارک بھی نہ رہے

اپنا تبصرہ بھیجیں