Women_rape

پنجاب کے مختلف شہروں میں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے واقعات

EjazNews

مظفرگڑھ سے2 تھانوں کے سامنے سے کار سوار شخص نے اسلحے کے زور پرخاتون سب انسپکٹر کو اغواء کرلیا اور چمن بائی پاس پر لیجاکر تشدد کا نشانہ بنایا اور زیادتی کی کوشش کی ۔ خاتون سب انسپکٹر جینڈر کرائم کیس کی تفتیش کیلئے رکشے میں تھانہ صدر آرہی تھی، وہ جیسے ہی تھانہ صدر اور تھانہ سٹی کے سامنے اتری تو ملزم کاشف اسلام نے گاڑی روک لی اور اسلحے کے زور پر زبردستی کار میں اغواء کرکے لے گیا۔

جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا وہاں سے ریسکیو 1122 کا سٹیشن، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او مظفرگڑھ کے آفسز،ڈی پی او ہاؤس،سرکٹ ہاؤس،کچہری اور دیگر سرکاری دفاتر صرف چند قدم کے فاصلے پر واقع ہیں۔

متاثرہ خاتون کے پولیس کو دئیے بیان کے مطابق ملزم اسے چمن بائی پاس کے قریب باغات میں لے گیا تشدد کا نشانہ بنایا اور اسلحہ کے زور پر زیادتی کی بھی کوشش کی اورفرار ہوگیا،تشدد کا نشانہ بننے والی لیڈی سب انسپکٹر زخمی حالت میں تھانہ سٹی پہنچی تو پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں ملزم کاشف کیخلاف اغواء،تشدد اور زیادتی کی کوشش کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے استے گرفتار اورواردات میں استعمال ہونے والی کار بھی برآمد کرلی ۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی میں نجی سکیورٹی کمپنی کا وین ڈرائیور کروڑوں روپے لیکر فرار

ڈی ایس پی سٹی بخت نصر خان کے مطابق ملزم کاشف ریکارڈ یافتہ ہے ، 2 مقدمات میں چالان ہوچکا ہے ،دوسری جانب تفتیش میں نئے انکشافات منظرعام پر آ ئے ہیں،پولیس ذرائع کے مطابق لیڈی سب انسپکٹر اور ملزم کافی عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور دونوں میں کافی انڈرسٹینڈنگ بھی تھی، کچھ روز قبل دونوں میں جھگڑا ہونے کے باعث بول چال بند ہوگئی تھی، خاتون سب انسپکٹر کے موبائل میں ملزم کے ایسے میسجز بھی موجود تھے جن میں ملزم نے خاتون کو اسکے بچوں اور اسکی ذات کے حوالے سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔

ماموں کانجن پولیس نے 50 سالہ خاتون سے اجتماعی زیادتی کے الزام میں ایک درجن سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق گلاں بی بی یکم ستمبر کی شب ساڑھے 8 بجے چک نمبر554سے گاؤں آ رہی تھی کہ خالد ڈوگر سمیت 2 افراد نے گاؤں چھوڑنے کے بہانے موٹر سائیکل پر بٹھالیا اور چک نمبر556گ ب کے کھیتوں میں لے جاکر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں فون کر کے اپنے دیگر دوستوں کو بلا کر تمام رات اسے زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ای سی سی اجلاس میں اربوں روپےکے کن منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے

خاتون کے مطابق مقدمہ میں 11 نامزد کے علاوہ متعدد نامعلوم ملزمان بھی شامل ہیں۔

گجرات میں اجتماعی زیادتی کے بعد لڑکی دم توڑ گئی،تھانہ صدر گجرات کے گاؤں غازی چک میں سلیمان عرف سنی اور دو نامعلوم ملزمان مہوش پروین کو اغواء کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے اور اس سے اجتماعی زیادتی کی ۔حالت غیر ہونے پر ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے قریب کھیتوں میں پھینک کر فرا ر ہو گئے۔

مقتولہ کی والدہ فوزیہ پروین کی رپورٹ پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم سلیمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق لڑکی کی ہلاکت زہر کھلانے یا کھانے سے ہوئی ہے ۔

ایس ایچ او تھانہ صدر کے مطابق لڑکی کی بہنوں نے بتایا ہے کہ مہوش گھر آئی تو صدمے کی حالت میں تھی اچانک گھر میں پڑی کیڑے مارنے والی گولیاں کھائیں اور بھاگتی ہوئی باہر چلی گئی،ہم تلاش کرتے رہے بعد میں کھیتوں سے اسکی لاش مل گئی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ۔

یہ بھی پڑھیں:  پنجاب کانسٹیبلری کے ساڑھے تین ہزارجوان آزادکشمیر الیکشن میں ڈیوٹی دیں گے

شیخوپورہ لاہور روڈ کی آبادی شریف پارک کوٹ عبدالمالک کی رہائشی خاتون ارم کو قریبی رشتہ دار نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا اور پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کے بعد خانپور نہر میں پھینک دیا۔ جس سے وہ جھلس کر شدید زخمی ہوگئی۔

ارم نے پانچ سال قبل عامر سے پسند کی شادی کی تھی جو بسلسہ روزگار بیرون ملک مقیم ہے۔

گزشتہ رات متاثرہ خاتون کا قریبی رشتہ دار اسے کھانا کھلانے کے بہانے باہر لے گیا، مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد آگ لگا کر خان پور نہر میں پھینک دیا، خاتون کی چیخ و پکار سن کر مقامی افراد نے نہر سے نکال کر پولیس کو اطلاع کی۔

اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائلنس سیل کی ٹیم نے ریسکیو 1122 کے ذریعے متاثرہ خاتون کو طبی امداد کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ منتقل کیا جہاں سے تشویشناک حالت کے باعث لاہور کے میوہسپتال منتقل کردیا گیا ۔

تھانہ فیکٹری ایریا میں اے ایس آئی ذکاء کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں