Zabihullah_Mujahid

افغانستان کو تسلیم کیا جانا اس کا حق ہے،جنگ ختم ہو چکی ہے، ملک بحران سے نکل رہا ہے:ذبیح اللہ مجاہد

EjazNews

کابل میں پریس کانفرنس کے دوران ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان نے متعدد مرتبہ کابل کا دورہ کرنے کے بارے میں دریافت کیا اور اب ہم نے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان سمیت دوسرے کسی بھی ملک کے خلاف افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد امید ظاہر کی کہ وہ عالمی برادری سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین ایک بڑی معاشی طاقت ہے اور افغانستان کے لیے بہت اہم ہے جبکہ افغانستان کو تعمیر نو اور ترقی کے لیے اس کے تعاون کی ضرورت ہے۔

ترجمان طالبان نے دعویٰ کیا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور ایک مستحکم افغانستان کی امید رکھتے ہیں جبکہ افغانستان میں جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ عوام اور ملک کا دشمن تصور کیا جائے گا۔

کابل ایئر پورٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی تکنیکی ٹیمیں کابل ایئر پورٹ سے فلائٹ آپریشن شروع کرنے کے لیے کام کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیر میں کھیلے جانے والے کھیل کا ایک رخ

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 برس کے دوران سکیورٹی اور دفاعی افواج کے تربیت یافتہ افراد کو سکیورٹی اور دفاعی اداروں میں طالبان کے ساتھ ساتھ بھرتی کیا جائے گا۔

طالبان کی جانب سے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

وزیر خارجہ سمیت دیگر وزرا نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے لوگ افغانستان کی جیلوں سے آزاد ہو کر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہوسکتے ہیں۔

ابتدائی طور پر افغان طالبان کی جانب سے بیان سامنے آیا تھا کہ ٹی ٹی پی دراصل پاکستان کا اندورنی مسئلہ ہے لیکن اب طالبان کے چیف ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کردیا کہ پاکستان سمیت دیگر کسی ملک کے خلاف افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  پنجشیر میں لڑائی کے خطرات بڑھنے لگے

افغان میڈیا کی جانب سے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ذبیع اللہ مجاہد کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ پاکستان زیر حراست قیدیوں کے بارے میں پریشان تھا جو سلاخوں کے باہر آکر پاکستان پر حملے کرسکتے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے عالمی برادری سے کابل میں اپنے سفارتخانے کھولنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کو تسلیم کیا جانا اس کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، ملک بحران سے نکل رہا ہے اور اب امن اور تعمیر نو کا وقت ہے، ہمیں لوگوں کی ضرورت ہے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ترجمان طالبان نے زورد دیا کہ افغانستان کو تسلیم کرنے کا حق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو کابل میں اپنے سفارت خانے کھولنے چاہئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں