Sheikh_Rasheed_Ahmed

کاش بین الاقوامی میڈیا افغانستان سے رخصت ہونے والے بھارتیوں کے چہرے دکھا سکتا:وزیر داخلہ

EjazNews

طورخم بارڈر پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاش بین الاقوامی میڈیا افغانستان سے رخصت ہونے والے بھارتیوں کے چہرے دکھا سکتا کہ کس طرح ان کے منہ لٹکے ہوئے تھے۔

علاوہ ازیں شیخ رشید نے کوئٹہ-مستونگ شاہراہ پر ایف سی کی گاڑی پر حملے میں پاکستان تحریک طالبان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لیبریشن آرمی (بی ایل ایف) اور داعش کے ملوث ہونے کے بارے کہا کہ ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے، خفیہ ادارے تحقیقات کررہے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ہم اپنی سرزمین کو ہرگز افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور اُمید رکھتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

شیخ رشید نے کہا کہ خطہ سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ترقی کرنے جارہا ہے، افغانستان کا امن، استحکام اور ترقی دراصل ہماری بھی کامیابی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلی کو تسلیم کرنے والے وزیر اعظم عمران خان ہوں گے، یہ فیصلہ ان کا ہوگا، میں صرف طورخم بارڈر کی ذمہ داری کا جواب دے سکتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان کا راولپنڈی میں ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب

انہوں نے بین الاقوامی میڈیا کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ بھارتی میڈیا کے گمراہ کن حقائق کا حوالہ مت دیں، پاکستان میں 4 ہزار افغان داخل ہوئے ہیں لیکن اس سے زیادہ یہاں سے وہاں گئے ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ 10 ہزار میں سے 9 ہزار واپس جا چکے ہیں اس لیے بھارتی میڈیا کس منہ سے پروپیگنڈا کررہا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے امریکا کا نام لیے بغیر امکان ظاہر کیا کہ ’ممکن ہے کہ دنیا میں ایک نیا بلاک بننے جارہا ہو، ہزاروں میل دور موجود لوگوں کے دباؤ میں تھے، اب یہ خطہ ان کے دباؤ سے نکلنے جارہا ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل تقریبا 97 فیصد مکمل ہوگیا ہے جبکہ ایران کی طرف یہ عمل محض 48 فیصد ہوا ہے۔

شیخ رشید نے انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی افغانستان میں موجودگی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ وہ بہت ’اسمارٹ‘ ہیں اور اگر وہ کابل میں موجود ہیں تو بھارت کو کیا تکلیف ہے، ان کا میڈیا صبح سے شام تک جنرل فیص حمید کی موجودگی پر تبصرہ کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حج پالیسی 2020ءکا اعلان ،رواں سال حج پیکج 4 لاکھ 90 ہزار روپے کا ہوگا

انہوں نے کہا کہ کیا امریکی اور برطانوی عہدیداروں نے افغانستان کا دورہ نہیں کیا اور اگر جنرل فیص ادھر گئے ہیں تو یہ تو اچھی بات ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر اور دیگر پاکستانی عہدیداروں کے ساتھ کابل میں موجود ہیں۔

مذکورہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد بھارتی میڈیا اس حوالے سے پروپیگنڈا کررہا ہے اور جنرل فیض حمید کی کابل میں موجودگی پر اسے تشویش ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں