Joe_Biden_Killed

امریکی تھانیدار ی اور افغانستان میں امریکی سازو سامان

EjazNews

امریکی صدر جوبائیڈن کا مقولہ ہے، ’’امریکا واپس آگیا ہے‘‘ تاہم افغانستان سے انخلا سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اب اپنے پہلے کی طرح کے کردار میں واپس نہیں آئے گا۔

کابل سے انخلا کے صدمے کے علاوہ بائیڈن بڑے پیمانے پر امریکی پالیسی سے پیچھے ہٹنے پر غور کررہے ہیں جس میں دنیا بھر میں امریکی اقدار اور احکامات نافذ کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر عسکری ذرائع استعمال کرنے کو روکنا بھی شامل ہے۔

جو بائیڈن نے اپنے تاریخی خطاب میں کہا تھا، افغانستان سے انخلا کا فیصلہ صرف افغانستان کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ فوجی کارروائیوں کے ذریعے سے دیگر ممالک میں تبدیلی کے عہد کا خاتمہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق ہماری خارجہ پالیسی کا مرکز ہوں گے تاہم یہ نا ختم ہونے والی فوجی تعیناتیوں کے ذریعے نہیں ہوگا۔ ہماری حکمت عملی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ اٹلانٹک کونسل کے یورپ میں مرکز کے سربراہ اور ٹرانس ایٹلانٹک تعلقات کے ماہر بنیامین حادد نے جوبائیڈن کے خطاب کو گزشتہ دہائیوں میں کسی بھی امریکی صدر کی جانب سے بین الاقوامی لبرل ازم کی واضح تردید قرار دیا، ان امریکیوں کے لیے جو اپنے ملک کو ایک منفرد، ناقابل تسخیر سپر پاور تصور کرتے ہیں، یہ ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرفیو کے باوجود سوڈان میں عوام کا دھرنا

تاہم رائے شماری کے مطابق زیادہ تر لوگوں میں جو بائیڈن کا بیانیہ مقبول ہونے کا امکان موجود ہے، جو بائیڈن کی صدارت کو عام طور پر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی تردید کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔یہ سچ ہے کہ بہت کچھ 20 جنوری کو جو بائیڈن کے اوول آفس میں داخل ہونے کے بعد ہی تبدیل ہوچکی ہیں، تاہم جو بائیڈن کا امریکی فوجی مہم جوئی کو ترک کرنا، جسے دنیا کی تھانیداری کہا جاتا ہے، ٹرمپ کی سوچ تھی۔مارکوٹ لا سکول کے پروفیسر اور مارکویٹ رائے شماری کے ڈائریکٹر چارلس فرینکلن نے کہا جب جو بائیڈن نے افغانستان کے بارے میں اعلان کیا ک ہاب وقت آگیا ہے کہ یہ ہمیشہ کی جنگ ختم ہوجائے، یہ اعلان ٹرمپ بھی با آسانی کرسکتے تھے۔

انہوں نےبتایا کہ آج عوام بڑے بین الاقوامی کردار کے لیے پرعزم نہیں ہیں، یقینا اس طرح کے نہیں جو امریکا نے 1950 سے 1990 کے درمیان میں ادا کیا۔خاص طور پر افغانستان کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز کے سروے کے مطابق 77 فیصد انخلا کے لیے مضبوط حمایت دکھاتے ہیں یہاں تک کہ جو بائیڈن انخلا کے جلد بازی پر لڑ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کابل ائیر پورٹ پر خودکش حملہ

غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے ایرانی حکام کو امریکی فوجی گاڑیوں کی فراہمی کے بعد قافلے کو تہران کی جانب جاتے ہوئے فلمایا گیا۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ پوسٹ کیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا کہ ایران نے کچھ امریکی ٹینک بھی حاصل کیے ہیں۔دفاع اور سکیورٹی کے امور کے ماہر جوناتھن کٹسن کے مطابق ان گاڑیوں کا نقصان امریکہ کے لیے ایک اور شرمندگی ہے۔اور اگر یہ گاڑیاں قیمتی تکنیکی معلومات نکالنے یا عراق میں امریکی فورسز کے روپ میں استعمال ہوتی ہیں تو یہ مستقبل میں نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں واشنگٹن کی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے سنجیدہ سوالات ہونے چاہیے جنہوں نے ایسی صورتحال کے بارے میں غلط سوچا۔یہ پروپیگنڈا اس وقت سامنے آیا جب 31 اگست کو افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد طالبان کابل میں امریکی سازوسامان اور آلات کے ساتھ پریڈ کرتے نظر آئے۔قافلے میں ہمویز اور بارودی سرنگوں سے بچنے کے لیے بھاری بکتر بند گاڑیاں شامل تھیں۔افغان سکیورٹی فورسز کو امریکہ کی جانب سے 70 ہزار سے زیادہ فوجی گاڑیاں مہیا کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:  چین کا افغانستان سے اچھے تعلقات استوار رکھنے کا اعلان

اپنا تبصرہ بھیجیں