Shah_Mahmood_Qurashi

پاکستان سے گہرے تعلقات ہیں اور مستقبل میں اسے مزید بڑھانا چاہتے ہیں:برطانوی وزیر خارجہ

EjazNews

مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سے گہرے تعلقات ہیں اور مستقبل میں اسے مزید بڑھانا چاہتے ہیں اور افغانستان کے معاملے پر ہمارا پاکستان کے ساتھ مشترکہ مؤقف بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی سے مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی، افغانستان سے برطانوی باشندوں کے انخلا پر پاکستان کی مدد کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہ طورخم کا پاکستانی حکام کے ساتھ دورہ کیا اور زمینی حقائق سے آگہی حاصل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت، افغانستان کے ہمسایوں کو امداد کی مد میں 3 کروڑ پاؤنڈ مہیا کر چکے ہیں اور ان کی مدد کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر برطانوی حکومت مدد جاری رکھے گی۔

برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کئی دھڑے ہیں، ہم سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، امداد اس لیے جاری ہے تاکہ افغانستان ان حالات میں تباہی کی طرف نہ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلیوں کے امکانات

FS Raab

پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ، پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے پر تشویش سے آگاہ ہے اور اس حوالے سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کی برطانوی حکام کے ساتھ کورونا کے تکنیکی معاملات پر بات چیت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالنے سے متعلق فیصلہ تکنینی بنیادوں پر کیا جائے گا۔

طالبان کو حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا ابھی قبل ازوقت ہے تاہم معاملات جاری ہیں، اُمید ہے طالبان افغانستان میں امن و استحکام لائیں گے۔

پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے ڈومینک راب کے ساتھ پریس کانفرنس میں سوالوں و جواب کی نشست میں جب وزیر خارجہ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا طالبان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات حالات پر مبنی ہوں گے؟

یہ بھی پڑھیں:  سندھ حکومت نے ہجوم کو کم رکھنے کیلئے متعدد پابندیاں عائد کردیں

اس کا جواب دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کسی بھی شرائط کا تعین کرنے سے پہلے دستیاب آپشنز پر غور کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی کے پاس آپشن ہے کہ اٹھے اور چل دے تاہم ہم ایسا نہیں کرسکتے، ہم پڑوسی ہیں اور ہمیں ایک ساتھ رہنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جغرافیہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتا ہے لہذا ہمارا نقطہ نظر کچھ مختلف اور حقیقت پسندانہ ہونا چاہیے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ نے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے لیے نیا پلیٹ فارم تشکیل دے دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں