Allam_iqbal_Painting

اقبال کی افغان دوستی اور افغانوں کی اقبال دوستی

EjazNews

(الف) اقبال کی افغان دوستی
(۱)افغانستان کا مختصر تاریخی جائزہ

افغانستان ۲۹ درجے ۳۰ دقیقے اور ۳۸ درجے ۳۰ دقیقے طول البلد شمالی اور ۶۱درجے اور ۷۵ درجے عرض البلد مشرق کے درمیان واقع ہے۔
افغانستان کا رقبہ آٹھ سو مربع کلومیٹر ہےجو زیادہ تر کوہستانی سلسلوں پر مشتمل ہے۔ معروف کوہستانی سلسلہ کوہِ ہندو کش شمال مشرق سے جنوب مغرب کی طرف تقریباً چھ سو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ جبکہ اسی کوہستانی سلسلے کا عرض سو کلومیٹر تک پہنچتا ہے۔ افغانستان کے اکثر دریا اسی کوہستانی سلسلے سے نکلتے ہیں۔ افغانستان کے شمال میں وسطی ایشیائی مسلم ریاستیں۔ تاجکستان ازبکستان اور ترکمانستان جبکہ مغربی جانب ایران اور جنوب مشرق میں پاکستان واقع ہے۔ اسی طرح شمال مشرق کی طرف سے ایک پٹی واخان کے ذریعے چین اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات سے ملتی ہے۔

شمال مشرق تا جنوب مغرب رقبہ ۱۳۵۰ کلومیٹر جبکہ عرض شمال تا جنوب نو سو کلومیٹر بنتا ہے۔ افغانستان کی جنوبی سرحد بحیرہ عرب سے ۴۵۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

افغانستان ایک قدیم تاریخی مملکت ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ’’قدیم وسط ایشیا سے ہندوستان آنے کا صرف ایک ہی زمینی راستہ تھاجو افغانستان کی شمال مغربی سرحدوں سے گزرتا ہے۔ عظیم ہمالیائی سلسلے کو پارکرکے اگرچہ چین کی حملہ آور فوجیں ضرور ہندوستان آئیں۔ کبھی کبھی ان غیر متعین اور دشوار گزار راہوں سے منگول اور تاتار نسلوں کے لوٹ مار کرنے والے گروہ بھی ہندوستان کے علاقوں میں گھس آتے تھے اس کے باوجود یہ پہاڑی علاقے تاریخ میں کسی بھی مرحلے پر باہر سے آنے والوں کے لیے باقاعدہ اور مستقل گزرگاہ نہیں بن سکے۔عظیم ہمالیہ کے ان سلسلوں نے بہرحال مشرق کی طرف سے آنے والے تاتاری قبائل اور ان جیسے حملہ آوروں کو ہمیشہ ہندوستان میں آنے سے روکے رکھا۔ عربوں کو چھوڑ کر جو سمندری راستوں سے ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔ آریا، ترک، تاتار، منگول، افغان، ستھین (Scythian)ان سے ملتے جلتے گروہ اور ایران اور توران کے حکمران،خراسان، ہرات قندھار، بلخ، دریائے کابل کے ذریعے اور ان علاقوں سے جنھیں اب ہم برطانوی بلوچستا ن کہتے ہیں، ہندوستان آئے تھے۔

قدیم آریائی دور کا ایک اہم شہر بلخ جو ہزاروں سال قبل آریائی بادشاہوں کا مرکز تھا افغانستان میں واقع ہے۔ بلخ ہی اتنا متمدن تھا جو بعد از اسلام م البلاد مشہور ہوا۔یہ وہی بلخ ہے جس میں علامہ کے مرشد جلال الدین بلخی رومی پیدا ہوئے جو مرید ہندی کے روحانی مرشد ٹھہرے۔

بلخ پر کشتاسب کے حامیوں کے قبضے سے افغانستان میں زردشت دور کا آغاز ہوتا ہے۔ پانچ سو قبل از مسیح کی اس مذہبی تحریک نے عوام کے ذہنوں سے فرسودہ خیالات کا صفایا کیا۔ اس تبدیلی نے ان لوگوں کو نئی فکر ی روش سے آشنا کردیا۔

آریانا (قدیم افغانستان کا نام)میں تہذیب اقوام کے آریائی وزردشتی دور کے بعد آسوریوں اور ہخامنشیوں کا دور شروع ہوتا ہے۔ سیروس کبیر (۵۴۹ – ۵۲۹ ق م) اور داریوش (۵۲۲ – ۴۸۵ق م) نے آریانا کی سرزمین کو دو حصوں قندھار اور باختر میں تقسیم کیا۔ اس کے بعد یہ علاقہ سکندر اعظم کی یلغار کا شکار ہوا۔ یہ سرزمین یونانی تہذیب و زبان سے بھی آشنا ہوئی ہے۔ اشوکا مذہب بودھائی اکثر مشرقی علاقوں میں ترقی کرتا ہے۔

۱۲۰ قبل از مسیح میں کوشانیوں کے دوسرے دور کا عروج ہوتا ہے۔ کانیکشا سلطنت آریا کے تخت و تاج کا وارث بنتا ہے۔ کاپیسا یا موجودہ بگرام اس دور کے اہم تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ جو چین اور ہندوستان کے سنگم پر واقع ہے۔

بدھ مت مذہب کو ترقی ملتی ہے اور اس دور کے یادگار ۱۷۵ فٹ اور ۱۱۵ فٹ بلند بودھای ٔ مجسمے تعمیر ہوتے ہیں۔ جو تقریباً دو ہزار سال بعد ۲۰۰۱ء میں افغانستان میں طالبان حکومت کے ہاتھوں مسمار ہوئے۔

بدھائی دور کے بعد افغانستان میں اسلامی دور کا آغاز ہوتا ہے۔ روم و فارس کی فوجیں اسلامی جہادی لشکروں سے شکست کھاتی ہیں۔ نویں صدی عیسوی میں جنوبی ہندوکش کے راستے اسلام بڑی کامرانی سے افغانستان میں داخل ہوتا ہے اور افغانستان سے ہوتا ہوا ہندوستان کا رُخ کرتا ہے۔ طاہر ہراتی اور یعقوب لیث صفاری زابلی کے ذریعے ۸۷۱ء میں کابل اسلامی سلطنت کے زیرِ نگین آتا ہے۔ طاہرہراتی بغداد اور دیگر عربی خطوں کا رُخ کرتا ہے اور خراسان اسلامی سلطنت کا مرکز بن جاتا ہے۔ ۲۰۶ ھ میں طاہر افغانستان کو عباس خلیفہ کے حوالے کردیتا ہے۔ یہاں سے افغانستان میں سامانیوں کا دور شروع ہوتا ہے جس کے جد امجد کا نام سامان خدا تھا۔ اموی دو رمیں بلخ میں یہ حکمران رہا۔ خراسان میں ان کے بیٹوں نے فتنہ انگیزوں کی سرکوبی کرکے عباسی خلیفہ مامون کا اعتماد حاصل کیا۔ علمی خدمات انجام دینے والا یہ خاندان تقریباً ایک سو دو سال تک حکمران رہا۔

یہ بھی پڑھیں:  میٹھا ہپ ہپ کڑوا تھو تھو

عباسی دور میں افغانستان میں زبردست ترقی ہوتی ہے۔ اقتصادیات، زراعت، صنعت، تجارت،مسکوکات،انتظامی امور، جدید انتظامی ڈھانچہ وجود پاتا ہے۔ جبکہ مساجد کی تعمیر علم و ادب، فکر و فرہنگ میں بھی اضافے ہوتے ہیں۔

اس کے بعد افغانستان میں غزنویوں کے درخشان اسلامی دور کا آغاز ہوتا ہے۔ جو ۳۵۱ ھ ق سے ۵۸۳ ھ ق تک رہتا ہے۔ سلطان محمود غزنوی خطبہ سے خلیفہ بغداد کا نام حذف کرکے اپنا نام شامل کرتا ہے۔ البیرونی، ابنِ سینا، ابوالفتح بستی، ثعالبی، عبدالجبار العتبی، ابونصر مشکان، ابوالفضل بیہقی، نصراللہ صاحب کلیلہ و دمنہ اور عبدالحئی گردیزی وغیرہ، اس دورکے مشاہیر اربابِ علم و ادب تھے اور ابوالحسن ہجویری غزنویؒ کی کشف المحجوب اس دور کی یادگار ہے۔

آریانا کی سرحدیں اصفہان و ہمدان کے علاوہ ہندوستان تک پھیلیں۔ محمود نے اسلام کے احیا و سربلندی کے لیے ہندوستان پر سترہ حملے کیے۔ اس کے بعد آریانا میں غوریوں کے اقتدار کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ ۱۲۳۳ء میں افغانستان میں آخری غوری سلطان کی ہلاکت مغلوں کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ تیموریوں کے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ دسویں صدی ہجری کے اوائل میں کابل میں بابر کی حکومت ہوئی ہے۔ ۹۳۲ھ میں بابر ہندوستان کا رُخ کرتا ہے وہاں لودھی افغانوں کی سلطنت کو تاراج کرکے اپنی حکمرانی کا اعلان کرتا ہے۔ اس سلسلے کی کڑی شیرشاہ سوری کی سخت کوششوں اور کٹھن جدوجہد کے بعد دوبارہ ہندوستان میں افغان حکمرانی تک پہنچتی ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ افغان کمزور ہوتے رہے اور صفویوں نے آریانا پر قبضہ جمایا۔ صفویوں کے مقابلے میں ایک مدبر افغان شخصیت میرویس خان نیکہ نبردآزما ہوتا ہے۔ صفویوں کو شکست دے کر افغانستان میں ہوتکیوں کی حکومت کادور شروع ہوتا ہے۔ نادرشاہ افشار کی ہلاکت کے بعد ۱۱۶۰ھ ق میں احمد شاہ درانی افغانستان کا بادشاہ بن جاتا ہے۔

احمد شاہ درانی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی درخواست پر اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کے تعاون کے سلسلے میں ہندوستان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ قندھار سے ہوتے ہوئے لاہور تا دہلی افغان حکومت کی داغ بیل ڈالتا ہے۔ اس نکتے کی طرف حضرت علامہ نے یوں اشارہ کیا ہے:

جس کے دم سے دلی و لاہور ہم پہلو ہوئے
آہ، اے اقبال! وہ بلبل بھی اب خاموش ہے

احمد شاہ ابدالی نے ۲۵ سال تک برسرِ اقتدار رہنے کے بعد زمامِ حکومت اپنے بیٹے تیمور شاہ درانی کے حوالے کردی۔ احمد شاہ درانی کے گھرانے کے پاس تقریباً سو سال تک افغانستان کے تخت و تاج کا اختیار رہا۔ اس کے بعد محمد زئی خاندان کی حکمرانی شروع ہوئی۔ امیردوست محمد خان، امیر شیرعلی خان، امیر عبدالرحمن خان، امیر حبیب اللہ خان، امیر امان اللہ خان، اعلیٰ حضرت محمد نادر شاہ شہید اور المتوکل علی اللہ محمد ظاہر شاہ افغانستان کے سربراہانِ حکومت رہے۔

افغانستان میں محمد زئی خاندان کا آخری حکمران سردار محمد داؤد خان تھا جو تادمِ مرگ مادرِوطن کی نگہبانی کرتا رہا۔ ۲۷؍اپریل ۱۹۷۸ء کو ان کی شہادت کے بعد روس نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان نے نورمحمد ترکئی کی سربراہی میں زمامِ حکومت سنبھالی۔

۸؍ اور ۹؍اکتوبر ۱۹۷۹ء کی درمیانی شب پولیٹیکل بیورو کے حکم سے نور محمد ترکئی ہلاک کردیے گئے۔ ۱۶؍ستمبر ۱۹۷۹ء کو حفیظ اللہ امین برسرِ اقتدار آئے مگر ۲۷؍دسمبر ۱۹۷۹ء کو انھیں زخمی ہونے کے بعد پھانسی دی گئی۔ اس روز روس کے وفادار کمیونسٹ افغان رہنما ببرک کارمل کو اقتدار سونپا گیا۔ جن کے دورِ حکومت میں ۲۴ اور ۲۷؍دسمبر ۱۹۷۹ء کے درمیانی عرصہ میں سوویت فوجی افغانستان میں داخل ہوئے۔ روسیوں کے خلاف افغانستان میں جہاد کااعلان کیا گیا۔ لاکھوں افغان مہاجر ہوئے۔ ہزاروں شہدا نے قربانیاں دیں۔ ببرک کارمل کے بعد ڈاکٹر نجیب اللہ برسرِ اقتدار آئے جنھیں ۱۹۹۸ء میں طالبان حکومت کے وجود میں آنے کے بعد کابل میں پھانسی دی گئی۔ چھ سال تک طالبان برسرِ اقتدار رہے۔ ۲۰۰۱ء میں یہاں ایک اور سپرپاور امریکہ نے روس کے انجام کے عبرت سے بے خبر ہوکر حملہ کیا۔ طالبان حکومت کے سقوط کے بعد اپنے من پسند حکومت کو تشکیل دیا جس کے سربراہ حامد کرزئی تھے۔
کلامِ اقبال میں مشاہیر افاغنہ کا تذکرہ
علامہ چونکہ افغان قوم سے خاصے متاثر تھے چنانچہ ان کے کلام میں جا بجا افغان مشاہیر کے لیے توصیفی و تعریفی نکات ملتے ہیں۔ ذیل میں حروفِ تہجی کی ترتیب سے ان مشاہیرِ افاغنہ کا مختصر سوانحی تذکرہ اور ان سے منسوب پہلے اقبال کا اردو کلام اور بعد میں فارسی کلام درج کیا جاتا ہے۔
۱-احمد شاہ ابدالیؔ
نام: ا حمد خان مشہور بہ احمد شاہ درانی ابدالی
ولدیت: زمان خان سدوزئی
تاریخ و مقامِ پیدائش: ۱۱۳۵ھ ق / ۱۷۲۳ء ہرات/ملتان
وفات تاریخ و مقام: ۲۰ رجب المرجب ۱۱۸۶ھ ق بمقام توبہ اچکزی درہ کوژک ضلع قلعہ عبداللہ تدفین بمقام قندھار۔
دورانیہ حکومت: ۲۵ سال و فاتح پانی پت

یہ بھی پڑھیں:  تحریک آزادی کشمیر : تعلیمی اداروں، اساتذہ اور طلبہ تنظیموں کا کردار

آثار و تالیفات

(۱) دیوان احمد شاہ ابدالی (پشتو) مطبوعہ قندھار،کابل،پشاور، کوئٹہ۔
(۲) علم گنج (موضوع تصوف)۔
(۳) احمد شاہ بابا کے فارسی و عربی اشعار۔
کلام اقبال میں تذکرہ احمد شاہ ابدالی
مرد ابدالی وجودش آیتی داد افغان را اساس ملتی
آن شہیدان محبت را امام آبروی ہند و چین و روم و شام
نامش از خورشید و مہ تابندہ تر خاکِ قبرش از من و تو زندہ تر
عشق رازی بود بر صحرا نہاد تو ندانی جاں چہ مشتاقانہ داد
از نگاہِ خواجۂ بدر و حنین فقر و سلطان وارثِ جذبِ حسین

آں جوان کو سلطنت ہا آفرید باز در کوہ و قفارِ خود رمید
آتشی درکوہ سارش برفروخت خوش عیار آمد برون یا پاک سوخت

درنہادِ ما تب و تاب از دل است خاک رابیداری و خواب از دل است
تن زمرگِ دل د گر گوں می شود در مساماتش عرق خون می شود
از فسادِ دل بدن ہیچ است ہیچ دیدہ بردل بند و جز بردل مپیچ
آسیا یک پیکر آب و گل است ملتِ افغان درآن پیکر دل است
از فسادِ او فسادِ آسیا در کشاد او کشادِ آسیا
تادل آزاد است آزاداست تن ورنہ کاہے در رہِ باد است تن
ہمچو تن پابندِ آئین است دل مردہ از کین زندہ از دین است دل
قوتِ دیں از مقامِ وحدت است
وحدت از مشہود گردد ملت است

برمزار حضرت احمد شاہ بابا علیہ الرحمۃ
موسس ملتِ افغانیہ
تربتِ آں خسرو روشن ضمیر از ضمیرش ملتی صورت پذیر
گنبدِ او را حرم داند سپہر بافروغ از طوفِ او سیمائی مہر
مثلِ فاتح آن امیر صف شکن سکۂ زد ھم باقلیم سخن
ملتی را داد ذوقِ جستجو قدسیاں تسبیح خواں برخاکِ او
از دل و دست، کہر ریزی کہ داشت سلطنت ہا بر دو بی پروا گذاشت
نکتہ سنج و عارف و شمشیرزن روحِ پاکش بامن آمد درسخن
گفت می دانم مقام تو کجاست نغمۂ تو خاکیاں را کیمیاست
خشت و سنگ از فیض تو دا رائے دل روشن از گفتارِ تو سینای دل
پیشِ ما ای آشنای کوی دوست یک نفس بنشین کہ داری بوی دوست
اے خوش آں کو از خودی آئینہ ساخت وندر آن آئینہ عالم را شناخت
پیر گردید این زمین و این سپہر ماہ کور از کور چشمیہائی مہر
گرمیِ ہنگامۂ می بایدش تا نخستین رنگ و بو باز آیدش
بندۂ مومن سرافیلی کند بانگِ او ہر کہنہ را برھم زند
اے ترا حق داد جانِ ناشکیب تو ز سرِّ ملک و دیں داری نصیب
فاش گو باپورِ نادر فاش گوی
باطنِ خود را بہ ظاہر فاش گوے

از تو ای سرمایۂ فتح و ظفر تختِ احمد شاہ را شانی دگر
۲-مولانا جلال الدین بلخی رومیؒ
نام: جلال الدین محمد، ترکی میں مولانا اور ایران میں مولوی سے مشہور ہیں.ولدیت:بہاؤ الدین سلطان العلما
تاریخ و مقامِ پیدائش: ۶۰۴ھ / ۱۲۰۷ء بمقام بلخ
تاریخ و مقام وفات: ۵ جماد ی الآخر ۶۷۲ھ/ ۱۷؍دسمبر ۱۲۷۳ء بمقام قونیہ
آثار و تالیفات
(۱) دیوان، فارسی و ترکی اشعار غزلیات و رباعیات۔
(۲) مثنوی معنوی۔ چھ دفاتر پر مشتمل اخلاقی منظوم تصنیف۔
(۳) فیہ مافیہ۔ مولانا کے اقوال کا مجموعہ، عنوان ابن العربی کے ایک شعر سے ماخوذ۔
(۴) مواعظ مجالس سبعہ۔ مولانا تک مے اغودو دور دو زلتن احمد رمزی آقیوزق۔
(۵) مکتوبات۔
کلامِ اقبال میں علامہ کے روحانی مرشد رومیؔ کا تذکرہ
جولاں گہ سکندر رومی تھا ایشیا
گردوں سے بھی بلندتر اس کا مقام تھا

گفت رومی ہر بنائے کہنہ کا ٓباداں کنند
می ندانی اول آں بنیاد را ویراں کنند
نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گلِ ایراں،وہی تبریز ہے ساقی

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و سازِ رومی،کبھی پیچ و تاب رازی

علاج آتشِ رومی کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں !

صحبتِ پیرؔ روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سر بجیب،ایک کلیم سر بکف!

عطار ہو، رومی ہو،رازی ہو،غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحرگاہی!

یا حیرتِ فارابیؔ، یا تاب و تبِ رومی
یا فکرِ حکیمانہ، یا جذبِ کلیمانہ

نے مُہرہ باقی، نے مہرہ بازی
جیتا ہے رومیؔ، ہارا ہے رازی

یہ بھی پڑھیں:  My Father’s poetry has a strong influence on my work

ملتِ رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیر
لذتِ تجديد سے وہ بھی ہوئی پھر جواں
بالِ جبریل کی نظم پیر و مرید میں مولانا رومی اور اقبال کا طویل مکالمہ
ہم خوگرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار
اک بحرِ پُرآشوب و پُراسرار ہے رومیؔ !

تو بھی ہے اسی قافلۂ شوق میں اقبالؔ !
جس قافلۂ شوق کا سالار ہے رومیؔ

اس عصر کو بھی اس نے دیا ہے کوئی پیغام؟
کہتے ہیں چراغِ راہِ احرار ہے رومیؔ
جبکہ فارسی کلام میں علامہ نے مولانا روم کو پیرِ روم، پیرِ حق سرشت، پیرِ یزدانی، پیر عجم، مرشد روم وغیرہ القابات سے یاد فرمایا ہے۔ ۷۶ صفحات پر کلیات اقبال فارسی میں مولانا کا تذکرہ آیا ہے۔ بعض درج ذیل ہیں:
پیر رومی خاک را اکسیر کرد
از غبارم جلوہ ہا تعمیر کرد

ذرہ کشت و آفتاب انبار کرد
خرمن از صد رومی و عطار کرد

مرشدِ رومی چہ خوش فرمودہ است
آنکہ ہم در قطرہ اش آسودہ است

مرشدِ رومی حکیم پاک زاد
سرِّ مرگ و زندگی بر ما کشاد

بوعلی اندر غبارِ ناقہ گم
دستِ رومیؔ پردۂ محمل گرفت

این فروتر رفت و تا گوہر رسید
آں بگردابے چوخس منزل گرفت

حق اگر سوزی ندارد حکمت است
شعر میگردد چو سوز از دل گرفت

شراری جستۂ گیر از درونم
کہ من مانندِ رومی گرم خونم

رازِ معنی مرشدِ رومی کشود
فکرِ من بر آستانش در سجود

روحِ رومیؔ پردہ ہا را بر درید
از پسِ کۂ پارہ ئی آمد پدید!

رومی آں عشق و محبت را دلیل
تشنہ کاماں را کلامش سلسبیل

پیر رومی مرشد روشن ضمیر
کاروان عشق و مستی را امیر

نکتہ ہا از پیرِ روم آموختم
خویش را درحرف او وا سوختم

عطا کن شورِرومی ، سوزِخسرو
عطا کن صدق و اخلاصِ سنائی

چناں با بندگی درساختم من
نہ گیرم گر مرا بخشے خدائی

چورومی در حرم دادم اذاں من
از و آموختم اسرارِ جاں من

بہ دورِ فتنۂ عصرِ کہن او
بہ دورِ فتنۂ عصرِ رواں من
۳-سید جمال الدین افغانیؔ

نام: سید جمال الدین افغانی
ولدیت: سید صفدر
تاریخ و مقامِ پیدائش: اسعد آباد کنڑ ننگرہارافغانستان ۱۲۵۴ھ ق / ۱۸۳۹ء
تاریخ و مقام وفات: استنبول ترکی ۵ شوال ۱۳۱۴ھ ق / ۹؍مارچ ۱۸۹۷ء
آثار و تالیفات
(۱) ’’الردعلی الدھریین‘‘۔ محمد عبدہ نے فارسی سے عربی میں ترجمہ کیا۔
(۲) العروۃ الوثقیٰ۔ پیرس سے آپ کا جریدہ جس کے ۱۸ شمارے شائع ہوئے۔
(۳) تتیمۃ البیان فی تاریخ الافغان
(۴) ضیاء الخافقین۔ مقالات
(۵) ’’مصر ‘‘اور التجارہ جرائد میں آپ کے مطبوعہ مقالات
(۶) فرانس کے جریدے ’’الدیبا‘‘ میں آپ کا مقالہ
(۷) مکتوبات وغیرہ

سید جمال الدین افغانی۔ پان اسلام ازم نظرئیے کا بانی، عالمگیر اسلامی سیاسی وحدت کا علم بردار، علامہ اقبال کا سیاسی پیشرو۔

کلامِ اقبال میں سید جمال الدین افغانیؔ کا تذکرہ

جاوید نامہ میں فلک عطارد پر پیر رومی کی رہنمائی میں زیارتِ ارواح جمال الدین افغانی و سعید حلیم پاشا نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ۲۴ صفحات پر مشتمل اس پوری نظم کا حوالہ باعثِ طوالت ہوگا۔ البتہ چیدہ چیدہ اشعار درج ذیل ہیں:
رفتم و دیدم دو مرد اندر قیام مقتدی تاتار و افغانی امام
پیر رومی ہر زمان اندر حضور طلعتش برتافت از ذوق و سرور
گفت ’’مشرق زین دو کس بہتر نزاد ناخنِ شان عقدہ ہائے ما کشاد
سید السادات مولانا جمال زندہ از گفتارِ او سنگ و سفال
ترک سالار آں حلیم دردمند فکرِ او مثلِ مقامِ او بلند
با چنین مردان دو رکعت طاعت است
ورنہ آں کاری کہ مزدش جنت است‘‘

زندہ رود! از خاکدان ما بگوی از زمین و آسمان ما بگوی
خاکی و چون قدسیاں روشن بصر از مسلمانان بدہ ما را خبر

افغانی (دین و وطن)

لُردِ مغرب آں سراپا مکر و فن اہل دین را داد تعلیم وطن
او بفکر مرکز و تو در نفاق بگذر از شام و فلسطین و عراق
تو اگر داری تمیز خوب و زشت دل نہ بندی باکلوخ و سنگ وخشت
چیست دیں برخاستن از روی خاک تاز خود آگاہ کردد جان پاک
می نگنجد آنکہ گفت اللہ ھُو در حدودِ ایں نظامِ چار سُو
پرِکہ از خاک و بر خیزد زخاک حیف اگر درخاک مرد جان پاک
گرچہ آدم بردمید از آب و گِل رنگ ونم چوں گُل کشید از آب و گِل
حیف اگر در آب و گل غلطد مدام حیف اگر برتر نپرد زین مقام
گفت تن در شو بخاکِ رہگذر گفت جان پہنای عالم را نگر!
جاں نگنجد در جہات اے ہوشمند مردِ حُر بیگانہ از ہر قید و بند
حُر ز خاکِ تیرہ آید در خروش
زانکہ از بازاں نیاید کارمُو

اپنا تبصرہ بھیجیں