Anas_Haqani

ماضی کا سبق، کیا طالبان موجود امتحان میں پاس ہو پائیں گے؟

EjazNews

افغان طالبان کی شوریٰ کا اجلاس ختم، حکومت سازی کا آغاز،ترجمان طالبان کاکہناہےکہ حملہ آور قوتیں سبق سیکھیں،امریکا سے بھی تعلقات چاہتے ہیں،افغان عوام نے 20 سال میں بہت سخت وقت دیکھا، وہ ہمدردی اور محبت کے حقدار،ہم ان کے خادم ہیں،دوسری جانب افغانستان سے امریکی سفارتی مشن قطر منتقل، امریکا کہناہےکہ اب طالبان کا امتحان شروع ہوگیا،نئی افغان حکومت سے اپنے مفاد میں تعاون کرینگے،دوسری جانب برطانیہ کاکہناہےکہ افغانستان میں داعش کیخلاف فضائی حملے جاری رہیں گے، ادھر پنج شیر میں جھڑپیں، جنگجوئوں کی طرف سے 8طالبان مارنے کا دعویٰ سامنے آیاہے۔
مزید برآں قطر میں بھارتی سفیر کی طالبان نمائندوں سے ملاقات ہوئی ہے۔

غیرملکی میڈیا کےمطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ اسلامی امارات رہبری شوریٰ کا تین روزہ اجلاس صوبہ قندھار میں اسلامی امارات کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ کی سربراہی میں ہوا،ہفتے کو شروع ہونے والا شوریٰ کا 3 روزہ اجلاس پیر کو ختم ہوا جس میں موجودہ سیاسی اور سیکورٹی صورتحال کے ساتھ ساتھ ملک کے سماجی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ شوریٰ کے اجلاس میں ملک میں نئی اسلامی حکومت کے قیام سمیت عوام کے جان و مال کے تحفظ، سہولیات کی فراہمی اور لوگوں سے اچھا رویہ روا رکھنے کے حوالے سے اہم فیصلے اور مشاورت کی گئی، شوریٰ کے اجلاس کے اختتام پر اسلامی امارات کے صدر نے کونسل کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے جامع ہدایات دیں اور اراکین کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔

ادھر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی افغانستان آنے کی وجہ قدرتی وسائل کو لوٹنا بھی تھا لیکن امارات اسلامی امریکا سمیت دنیا سے اچھے تعلقات چاہتی ہے، ملک میں معاشی مسائل ہیں اور انہیں قومی تاجروں کے ساتھ مل کر حل کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ نئی حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش بھی کرے گی۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر یقین دہانی کرائی کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، دنیا کے لیے ہمارا پیغام امن ہے اور دنیا کو ایک مرتبہ پھر ہمارے بارے میں سوچنا چاہیے۔ طالبان کی جانب سے تاحال حکومت سازی سے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا گیا لیکن رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ ملابرادر سپریم کونسل کے اجلاس کے بعد قندھار سے کابل روانہ ہوگئے ہیں اور جلد ہی کابینہ کا اعلان متوقع ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کابل ایئر پورٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی شکست ’دیگر حملہ آوروں اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سبق ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری ایک وڈیو میں ذبیح اللہ مجاہد ایئرپورٹ پر تعینات ’بدری 313‘ فورس کے اہلکاروں سے بات کر رہے ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں کہ ’وہ عوام کے ساتھ نرم رویہ اختیار کریں،ان لوگوں نے گزشتہ 20 سال میں بہت سخت وقت دیکھا اور وہ اب سکون کے مستحق ہیں،عوام سے نرم رویہ رکھیں تاکہ انہیں بتا سکیں کہ ہم عوام کے خادم ہیں نہ کے ان پر مسلط ہوئے ہیں،طالبان ترجمان دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گزشتہ شب امریکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہونے کے بعد منگل کی صبح ’فاتحانہ‘ انداز میں کابل ایئرپورٹ میں داخل ہوئے اور مختلف جگہوں کا جائزہ لیتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  محمد بن قاسم تاریخ کا رخ بدلنے والا سپہ سالار

مزید برآں امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد طالبان کی اعلیٰ قیادت نے بانی امیر ملاعمر کی قبر پر حاضری دی،رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قافلے کی قیادت طالبان کے موجودہ امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کی،بعدازاں بانی امیر ملاعمر کی قبر پر اعلیٰ قیادت کی حاضری کی طالبان رہنما عبدالحمید حماسی نے تصدیق کی۔ادھر امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اور امریکا، طالبان امن معاہدے کے لیے مذاکرات کرنے والے زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغانستان میں ہماری جنگ اختتام پذیر ہوچکی ، اب طالبان کا امتحان شروع ہوگیا ہے۔

ایک بیان میںانہوں نے کہا کہ اب طالبان کا امتحان ہے کہ کیا وہ اپنے ملک کو ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جا سکتے ہیں جہاں ان کے تمام شہریوں، مرد خواتین کو اپنی صلاحیت تک پہنچنے کا موقع ملے، کیا افغانستان اپنی متنوع ثقافتوں، تاریخ اور روایات کی خوبصورتی اور طاقت کو دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے؟اپنے سلسلہ وار بیانات میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ اس طویل جنگ نے امریکیوں اور افغانوں کو کئی اچھے برے طریقے سے متاثر کیا،انہوں نے لکھا افغانستان کے مشہور بیٹے (جلال الدین) رومی نے کہا تھا کہ ’یہ آپ کا راستہ ہے، صرف آپ کا، دوسرے آپ کے ساتھ چل سکتے ہیں لیکن کوئی بھی آپ کے لیے نہیں چل سکتا، افغان اور امریکی اپنے اپنے راستے پر ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے، افغانستان میں ہماری جنگ اختتام پذیر ہوچکی ہے، ہمارے بہادر سپاہیوں، سیلرز، بحری اور فضائی افواج کے اہلکاروں نے امتیاز اور قربانی کے ساتھ آخری دم تک خدمات انجام دیں، ان کے لیے ہمارا شکریہ اور احترام ہے۔

امریکی نمائندے نے کہا کہ ہماری افواج اور ہمارے ساتھ کھڑے بہت سے شراکت داروں کے روانہ ہونے کے ساتھ افغانوں کے لیے فیصلے اور موقع کا وقت ہے،ان (افغانوں) کے ملک کا مستقبل ان کے ہاتھ میں ہے، وہ مکمل خود مختاری کے ساتھ اپنا راستہ منتخب کریں گے اور یہ ان کی جنگ کو بھی ختم کرنے کا موقع ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خا رجہ انتھونی بلنکن کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی سفارتی مشن معطل کر کے قطر منتقل کر دیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے افغانستان سے فوجی انخلا مکمل ہونے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی کے سائے میں انخلا کا آپریشن مکمل کیا، انخلا میں معاونت کرنے والے تمام ممالک کے شکر گزار ہیں، افغانستان کی صورتحال پر مختلف ممالک سے بات چیت کی جا رہی ہے، طالبان کے ساتھ مستقبل میں بات چیت امریکا کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہو گی، تسلیم کیے جانے اور تعاون حاصل کرنے کے لیے طالبان کو مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔

انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ افغان جنگ 20 سال چلی لیکن اب بھی افغانستان کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، افغانستان کے عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رہے گی، یہ امداد طالبان کو نہیں بلکہ این جی اوز کے ذریعے عوام تک پہنچائی جائے گی،انہوں نے بتایاکہ اب بھی افغانستان میں 200کے قریب امریکی موجود ہیں جن کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ماڈیولر کنسٹرکشن تعمیراتی صنعت کے بدلتے رجحانات

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں رہ جانے والوں کو نکالنا مشکل ضرور ہو گا اور اس مقصد کے لیے زمینی راستے استعمال کیے جائیں گے، طالبان نے بھی یقین دہائی کروائی ہےکہ سفری دستاویزات رکھنے والوں کو ملک سے جانے کی اجازت ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طالبان نے وعدہ کیا ہے کہ افغان سرزمین شدت پسندوں کے خلاف استعمال نہیں ہو گی لیکن ہم طالبان پر انحصار نہیں کریں گے، شدت پسندوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے طالبان پر بھروسہ ان کے عمل پر منحصر ہو گا۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینتھ مک کینزی نے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں نے دو ہفتوں پر محیط انخلا کو مکمل کرنے سے پہلے 73 کے قریب طیاروں اور جدید ہتھیاروںسے لیس گاڑیوں کوناکارہ بنا دیا تھا ۔ ادھر سابق افغان صدر اشرف غنی کی کابینہ کی سابق رکن نرگس نیہان جو چند روز قبل افغانستان سے ناروے چلی گئی تھیں ، نے منگل کو افغانستان سے انخلاء کی امریکی ہینڈلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ امریکی انخلاء کا وقت درست نہیں ۔ اوسلو میں موجود نیہان نے غیرملکی خبررساںادارےسے گفتگو میں کہاکہ امریکا 20سال سے افغانستان میں ہے ، ایک سال مزید رہنے سے ان کے لیے کم از کم مالی اور سیاسی طور پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے کہا ہےکہ کابل ایئرپورٹ کا آپریشنل رہنابقاء کی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ مغربی ممالک اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ امریکی قیادت میں انخلا کی پروازوں کے خاتمے کے بعد مزید لوگوں کو افغانستان سے کیسے نکالا جائے۔

مرکل نے کہا کہ ہزاروں افغان جنہوں نے حالیہ برسوں میں جرمن افواج اور دیگر کے ساتھ کام کیا اب بھی ملک کے اندر ہیں اورباہر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

منگل کونیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے اے ایف پی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ نیٹو اتحادیوں کو سخت سوالات کا سامنا ہے کہ افغانستان میں کیا غلط ہوا ؟ تاہم وہ افغانوں کو بھولیں گے نہ ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو۔آخری امریکی ملٹری پرواز کی کابل سے روانگی کے بعد اسٹولٹن برگ نے فاتح طالبان کو خبردار کیا کہ وہ ملک چھوڑنے کی کوشش کرنے والے افغانوں کے ساتھ مداخلت نہ کریں۔

انہوں نے کابل کے نئے رہنماؤں کے حوالے سے کہاہےکہ ان رہنمائوں کو چاہیےکہ وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر اپنا ہوائی اڈہ دوبارہ کھولیں ، اتحادیوں کے ساتھ کام کرنے والے افغان باشندوں کو محفوظ راستہ دیں اور انتہا پسند گروہوں کو قابو میں رکھیں۔افغانستان سے دو دہائیوں کی مغربی فوجی موجودگی کے خاتمے کے بعد برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے منگل کو کہا کہ افغانستان میںرہ جانیوالے برطانیہ کے شہریوں کی تعداد ’’ سیکڑوں‘‘ میں ہے،وہ صحیح اعداد و شمار دینے سے قاصر ہیں کہ کتنے برطانوی شہریوں اور ممکنہ طور پر دیگر اہل افراد کاطالبان کے قبضے کے بعد افغانستان سے انخلا نہیں ہوسکا۔

ادھر برطانوی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مائیک وگسٹن نے منگل کو کہاہےکہ مغربی ممالک کے مکمل انخلاء کے باوجود برطانوی فوج افغانستان کے اندر داعش کیخلاف حملے جاری رکھےگی۔انہوں نے کہاکہ ہمیں داعش کو شکست دینے کے لیے عالمی اتحاد میں عالمی کردار ادا کرنے کے قابل ہونا چاہیے ، چاہے وہ فضائی حملہ ہو یا چاہے وہ فوجیوں کی منتقلی یا سازوسامان کی کسی خاص ملک میں بڑے پیمانے اور تیز رفتاری سے نقل وحرکت ہو،افغانستان شاید دنیا کے انتہائی ناقابل رسائی حصوں میں سے ایک ہے اور ہم وہاں کام کرنے کے قابل رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خواتین کا حق وراثت (یہ احسان نہیں خواتین کا حق ہے)

افغانستان سے حتمی انخلا کے بعدامریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہےکہ افغانستان میں 2دہائی تک یومیہ50ارب روپے جھونکےگئے، انخلاء کا فیصلہ درست، روس اور چین سے نئےچیلنجزکاسامناہے۔

افغانستان سے امریکی انخلا مکمل ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس میں قوم سے پہلے خطاب میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ افغانستان میں امریکا کے لیے دو راستے تھے ایک تو افغانستان سےانخلاء اور دوسرا راستہ تنازع کو بڑھانا تھا اور میں اس جنگ کو ہمیشہ کے لیے نہیں بڑھا نا چاہتا تھا،میں امریکیوں کی ایک اورنسل کواس جنگ میں نہیں جھونک سکتاتھا،انہوں نےکہاکہ 31اگست سے قبل انخلا کا آپریشن طالبان کی من مانی ڈیڈلائن کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکیوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے طے شدہ منصوبے کے تحت کیا گیا، ٹرمپ کے معاہدے کے تحت یہ انخلاء ضروری تھا،اگرہم ڈیڈلائن کااحترام کرتےتوطالبان امریکی فوجیوں پرحملےنہ کرنےکےپابندرہتے،اگرہم افغانستان میں مزید رہتے توطالبان کوہمارےفوجیوں پرحملےکاحق ہوتا۔

انہوں نے کہاکہ وہ انخلا کے منصوبے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں،جنگ ختم کرناہی درست فیصلہ تھا،انہوں نے کہاکہ ماضی کےبجائےمستقبل کی طرف دیکھنےکی ضرورت ہے،اس جنگ کومزیدایک دہائی جاری نہیں رکھناچاہتے تھے، 2 دہائی تک افغانستان میں300ملین ڈالریومیہ جھونکاگیا،اس جنگ کوبہت پہلےختم ہوجاناچاہیےتھا،انتخابی مہم میں امریکی عوام سےاس جنگ کوختم کرنےکاوعدہ کیاتھاجوپوراکیا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے داعش -خراسان کو خبردار کیا کہ اسے واشنگٹن کی طرف سے مزید انتقام کا سامناہوگا،انہوں نے کہاکہ ابھی ہم داعش سے نمٹے نہیں ہیں،داعش کیخلاف ہماری جنگ ختم نہیں ہوئی، ہم سب افغانستان اور دیگر ممالک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو برقرار رکھیںگے۔انہوں نے کہاکہ روس اورچین چاہتےہیں کہ امریکاافغانستان میں الجھارہے، دنیابدل رہی ہے،ہمیں چین اورروس کی جانب سےبہت سےنئےچیلنجزکاسامناہے،سائبر حملے ہو رہے ہیں، نیو کلیئر مواد کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ بائیڈن نے افغانستان سےایک لاکھ 20 ہزار افراد کے امریکی جہازوں کے ذریعے انخلاء کو ایک ’’غیر معمولی کامیابی‘‘ قرار دیا اور کہاکہ ہم نے تاریخ کا سب سے بڑا انخلاء مکمل کیا ،کسی بھی قوم نے تاریخ میں ایسا کچھ نہیں کیا، صرف امریکا کے پاس اس کی صلاحیت تھی، 17 دن تک 24 گھنٹے انخلاء جاری رہا۔انہوںاس عزم کا اظہار کیاکہ وہ افغانستان میں رہ جانیوالے کئی امریکی شہریوں کے افغانستان سے انخلاء میں مدد کریں گے،وہاں رہ جانیوالے امریکیوں کے لیے کوئی آخری تاریخ نہیں ہے اگر وہ افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیںتو ہم انہیں باہر نکالنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ طالبان وعدہ پورا کریں کہ افغان سر زمین کسی اور ملک کیخلاف استعمال نہیں ہو گی ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ افغان صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہو جا ئیں گے، افغان حکومت کرپٹ تھی، 20 سال میں تربیت یافتہ افغان فوج کے بارے میں ہمارے اندازے غلط ثابت ہوئے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں ہمارا مفاد صرف یہ ہےکہ یہ سرزمین امریکا اور دنیا کیلئے خطرہ نہ بنے، ہم افغانستان کے عوام سے ڈپلومیسی ، امداد و تعلقات کے ذریعے تعاون جاری رکھیںگے، اب افغانستان میں جنگ ختم ہوچکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں