معاشرہ

معاشرے میں ہر چیز بری نہیں ہوتی

EjazNews

ہر کامیاب عورت کے پیچھے ایک مرد کا ہاتھ ہوتا ہے۔یقیناً یہ جملہ پڑھتے ہوئے آپ کو گمان ہوا ہوگا کہ ہم نے شاید غلط مقولہ لکھ دیا کہ آج تک یہی سُنا اور پڑھا ہے کہ ’’ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔‘‘ لیکن دھیان دیں، تو پتا چلے گا کہ کسی بھی عورت کی کامیابی میں جتنی اس کی اپنی محنت و مشقّت، لگن شامل ہوتی ہے، اُتنا ہی حصّہ اس کے باپ، بھائی یا شوہر کا بھی ہوتا ہے ۔

ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم اپنی تعلیم ہر گزمکمل نہ کر پاتے،اگر بھائی ڈرائیور، باڈی گارڈ بن کرکالج کے امتحانات دلوانے نہ لے جاتا، کبھی ملازمت نہ کر پاتے ،اگر والد زمانے سے لڑکر جاب کی اجازت نہ دیتے۔ان کے دیئے اعتماد،بھروسے کی بدولت ہی ہم یکے بعد دیگر ے کامیابی کی منازل طے کرتے چلےگئے۔ چاہے دنیا کچھ بھی سوچے، لیکن یہ ہمارا یقین ہے کہ مرد کی سپورٹ کے بغیر عورت کا ترقّی کرنا ممکن نہیںاور یہ یقین شادی کے بعد اُس وقت مزید پختہ ہو گیا، جب شوہر نے بھی قدم قدم پر ساتھ دیا۔

ایسے کئی مواقع آئے، جب ہمارے شوہر کویہ تک سننا پڑا کہ ’’ ہمارے گھر کی عورتیں ملازمت نہیں کرتیں، یہ خاندانی روایات کے خلاف ہے۔ وہ گھر گر ہستی چلاتی ہیں۔‘‘لیکن ان تمام باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، انہوں نے صرف ہمارا ساتھ دیابلکہ کام کے سلسلے میں بیرونِ مُلک سفر کرتے ہوئےبھی ان کا بھروسا ہر پَل ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ہمارا توآج تک جتنی بھی خواتین سے ذاتی یا پروفیشنل تعلق رہا، اُن سب کی کامیابی میںکسی نہ کسی صُورت مرد کا ہاتھ ہی نظر آیا۔ بے شک، خالقِ کائنات نے عورت کو ماں کے روپ میں جنّت ، بیوی کے روپ میں مونس و غم خوار اور بیٹی کے رُوپ میں رحمت بنا یا ہے، لیکن مرد بھی ایک سایہ دار شجر کی مانندہے، جو خود تو زمانے کی تپش سہتا ہے ،لیکن اپنے پیاروں کو گرم ہوا کا جھونکا بھی نہیں لگنے دیتا،جو زندگی کے ہر امتحان میں ڈھال بن کر عورت کا ساتھ دیتا ہے۔ آیئے! ہم آج سب اپنے والد، بھائیوں، خاوند اور بیٹوں کو سلام پیش کریں، ان کی محنت و مشقّت، ہمّت کو سراہیں اور انہیں بتائیں کہ ان کی موجودگی ہمارے لیے کتنی اہم اطمینان بخش ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اچھا وی لاگر کیسے بنا جائے؟

کیا عوام کو کبھی عوامی حکمران بھی ملے گا؟

’’وہ بہت باہمّت تھا، سخت محنت مشقّت کرکے رزقِ حلال سے اولاد کو پال رہا تھا۔دن اچھے گزر رہے تھے، ہنستاکھیلتا گھرانہ تھا اُس کا۔بچّے بھی پڑھائی میں اچھے تھے۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس کی صحت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی تھی۔ جبر کرکے کام پر چلا توجاتا، لیکن طبیعت ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ مگر اُس نے ہمّت نہ ہاری اور جیسے تیسے کام جاری رکھا۔ لیکن پھرشدید علالت کے باعث اس کی نوکری چُھٹ گئی، اتنی مفلسی میں بھی اس نے کسی کے آگے کبھی ہاتھ نہیں پھیلائے۔پھر ایک دن وہ میرے پاس آیااور کہا ’’بھائی! میرے بیٹے کوکسی کام پہ لگوا دیں۔چاہے کسی ہوٹل،دکان یا کسی چائے کے ڈھابے ہی پرلگوادیں، مگر لگوادیں۔‘‘ مَیں نے بڑی حیرانی سے اس کی بات سُنی اور کہا’’ بچّے کو پڑھائی کرنے دو ،اگر گھر میں کچھ تنگی ہے تو بتاؤ ، مَیںتمہاری کچھ مدد کر دیتا ہوں۔ ‘‘ مگراس مجبور، لاچار مریض کے جواب نے مجھے لاجواب کردیا کہ ’’بھائی اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا چاہیے، مانگنے کی عادت پڑ جائے، تو انسان کسی کام کا نہیں رہتا۔‘‘ مَیں نے پوچھا ’’تم تو اپنے بچّوں کو خوب پڑھانا چاہتے تھے؟؟‘‘ تو کہنے لگا ’’میری بیماری، میرے پیروں کی زنجیر بن گئی ہے، وہ زنجیر جو میرے بچّوں کو آگے بڑھنے، آگے پڑھنے نہیں دے رہی۔ پچھلے کچھ دنوں سے توگھر میں فاقوں کی نوبت ہے۔ اس لیے تنگ آکر مَیں نے یہ فیصلہ کیا۔ اگر اب بھی یہ فیصلہ نہ کرتا تو اور کب کرتا؟ مَیں دوا نہیں خرید رہا، پربچّوں کو بھوکا تو نہیں مار سکتا ناں۔‘‘ اس کی بھرّائی ہوئی آواز اور نم آنکھیں ایک مجبور کی مجبوری کی گواہ تھیں۔ ‘‘

مندرجہ بالا قصہ کسی مخصوص فرد کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے کئی مجبوروں کی حقیقت ہے۔نہ جانےکتنی ہی کچّی بستیوں میں، کتنے غریب بچّوں کوصرف اس لیے تعلیم سے کنارہ کشی اختیار کرنی پڑتی ہے کہ ان کے والدین کی غریبی، ان کے آڑےآجاتی ہے۔ نہ جانے کتنے خواب ،کچّی بستیوں میں صرف اس لیے دَم توڑ دیتے ہیں کہ اُنہیں دیکھنے والی آنکھیں ایک غریب کے گھر کُھلتی ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے مُلک کے لوگ نہ جانے کس کرب سے گزر رہے ہیں، کتنے ہی سفید پوش خاندان روز بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ہم سوال کرتے ہیں حکمرانِ وقت سے کہ انہیںربّ سے خوف نہیں آتا؟ جب ان غربت کے ماروں ، مفلسوں، بے حالوں اور بے کسوں کی فریاد ربّ تک پہنچتی ہوگی ، تو کیا ہوتا ہوگا…روزِ قیامت ہر کسی کو اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہوگا، اس روز وہ ربّ ہر چیز کا برابر حساب لے گا۔تو یاد رکھو، میرے مُلک کے باسیو!کہ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اپنے اعمال و افعال کا حساب دینا ہوگاکہ پڑوسیوں کے بھی حقوق ہیں، رشتے داروں ، دوست احباب کے بھی حقوق ہیں۔ آج ہر کوئی صرف اپنی ہی دنیا میں مگن ہے، کسی کو کسی کا خیال نہیں، انسانیت تو جیسے مَر ہی چُکی ہے۔ ہمیں یہ تک خبر نہیں ہوتی کہ پڑوسی کے گھر کھانا پکا ہے یا نہیںکہ ہم تو اپنے آپ ہی میں گُم رہتے ہیں، پڑوسیوں کا حال احوال کون پوچھے۔ ہم خود تو عیش عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں، لیکن رشتے داروں کے احوال سے غافل ہیں۔یاد رکھیں! اللہ کے وہ نیک ، مفلس بندے کوئی شکوہ شکایت تو نہیں کرتے، مگر اللہ کے ہاں ہم اور آپ جواب دہ ضرور ہوں گے کہ اللہ اپنے حقوق تو معاف کردے گا، پر حقوق العباد نہیں۔ اورجہاں تک با ت ہے، مُلک کو ریاستِ مدینہ بنانے کی، تو حاکمِ وقت سے ہمارا سوال ہے کہ صرف ریاستِ مدینہ کی طرز پر حکومت کرنے کے دعوے مت کریں، اس ریاست کی اصل روح،اُن بنیادوںکو پہچانیں، جن پر اُسے استوار کیا گیا تھا۔ حضرت عمرؓ ، اسلامی ریاست ہی کے حکمران تھے، جو راتوں کو بھیس بدل کر رعایا کا حال جاننے نکلتے تھے، جو کہتے کہ اگر فرات کنارےایک کتّا بھی پیاسا مَر گیا، تو روزِ قیامت اس کا حساب مجھ سے لیا جائے گا۔ایسا ہوتا ہے طرزِ حکمرانی اور یہ ہوتا ہے حاکم۔ خدارا! اب بھی وقت ہے، ہوش کے ناخن لیں ،مفلسوں کا خیال کریں، سفید پوشوں کو پہچانیںاور ان کی مدد کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  جدید عہد نے بچوں کا روایتی کھیل چھین لیا

سوچ کیاہوتی ہے؟

بلوچستان کی پس ماندگی کی سب سے بڑی وجہ سرداری نظام کو سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس نظام نے برسوں سے عوام کو ذہنی و جسمانی غلام بنا رکھا ہے۔ اس نظام نے ایک طویل عرصے سے عوام کو پس ماندہ رکھنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ یہی لوگ بلوچستان میں سڑکیں نہیں بننے دیتے۔ جب بھی وہاں حکومت کی طر ف سے سڑک بنانے یا تعمیراتی کام کی کوشش کی جاتی ہے، تو اس فیصلے کو شدید مزاحمت کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔ دلیل گھڑی گئی کہ سڑکیں بننے سے دشمن ہمیں نقصان پہنچاسکے گا کہ وہ ان راستوں سے ہمارے صوبے میں داخل ہوجائے گا۔ لہٰذا یہ سڑکیں نہیں بننی چاہئیں، جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ سڑکیں بننے سے عوام کا بھلا ہوگا، وہ زمانے کے بدلتے حالات اور معاشی ترقّی سے استفادہ کر کے ذہنی غلامی سے باہر نکل سکیں گے۔علاقے کے چند بڑے کئی دَہائیوں سے کمزور دلائل سے معصوم عوام کو گم راہ کرتے آئے ہیں۔ وہ خود تو لاہور ، اسلام آباد ، کوئٹہ ، پشاور وغیرہ میں جدید سہولتوں سے مستفید ہوتے ہیں اور عوام کو سہولتوں سے دُور رکھا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بیوروکریسی کی اصلاحات کیلئے بننے والی کمیٹیاں

گزشتہ دنوں ہمارے علاقے میں ٹوٹی پھوٹی سٹرک کی کارپیٹنگ ہوئی ، جس سے علاقہ مکینوں نے سکھ کا سانس لیا۔ ایک دن اس سڑک پر دو موٹر سائیکل سوار آپس میں ٹکرا گئے، نتیجتاً ایک موٹر سائیکل سوار لڑکا جاں بحق ہو گیا۔ اس موقعے پر علاقے کے سردار نے لوگوں کو توجیہہ پیش کی کہ ’’ہم اسی لیے یہاں ایسی سٹرکیںبننے کے خلاف ہیں کہ کارپیٹنگ سےیہاں حادثات ہوں گے۔ اگر یہ سڑک نہ بنتی، تو ٹوٹی پھوٹی سٹرک پرٹریفک کی روانی آہستہ ہی رہتی اور حادثہ نہ ہوتا۔‘‘ اس سے اندازہ لگالیں کہ عوام کے ذہنوں میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کیسی کیسی خرافات بٹھائی جارہی ہیں۔ ماناکہ تیز رفتار ی خطرناک ہے، لیکن ٹریفک حادثات تو ساری دنیا میں ہوتے ہیں، تو کیا دنیا بھر میں سڑکیں بننی بند ہوگئیں؟۔

احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی نصیحت وہدایت کے بجائے غیر منطقی دلائل دینا کہاں کی سمجھداری ہے۔ہمیں تو لگتا ہے، اس مُلک کے تمام چوہدریوں، سرداروں، وڈیروں، جاگیر داروں کی یہی سوچ ہے، یہ کسی ایک صوبے کا نہیں، مُلک کے ہر غریب طبقے کا مسئلہ ہے۔ عوام کے یہ نام نہاد مفکّر صرف اپنا فائدہ سوچتے ہیں، وہ تو بس یہی چاہتے ہیں کہ اس مُلک کے عوام جہالت کے اندھیروں ہی میں گُم رہیں۔شعور و آگہی سے کوسوں دُوررہ کر ان کی عقل کو زنگ لگ جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں