sardar_with_hourse

سردار کی پگڑی

EjazNews

ثاقب بہت ظالم اور بے رحم انسان تھا۔ بہت زیادہ امیر ہونے کی وجہ سے کسی غریب کو اپنے قریب نہیں آنے دیتا تھا۔ اگر کوئی غریب آدمی فریاد کرنے کے لیے آتا تو اس کو دھکے مار کر بھیج دیتا تھا جس وجہ سے ہر ایک اس سے نفرت کرتا تھا۔ ثاقب اپنے علاقے کا سردار تھا اور اس کو شکار کھیلنے کا بہت شوق تھا جس طرح وہ کسی جانور پر بے رحمی کرتا تھا اسی طرح انس کرنا چاہتا تھا۔ ایک دن وہ اکیلا شکار کھیلنے چلا گیا۔ اس کو ایک ہرن نظر آیا وہ ہرن کے پیچھے دیوانوں کی طرح گھوڑا دوڑاتے ہوئے بھاگا لیکن ہرن جنگل کی جھاڑیوں میں گم ہو گیا اور ثاقب واپسی کا راستہ بھول گیا۔ابھی وہ واپسی کا راست سوچ رہا تھا کہ درختوں کے پیچھے سے ایک نہایت غریب آدمی اس کی طرف آیا اور گھوڑے کی باگ پکڑ کر بولا ’’صاحب! میں کئی دن سے بھوکا ہوں مجھے کچھ کھانے کو دے دو۔ میں آپ کی حویلی جانا چاہتا ہوں لیکن آپ کے محافظ مجھے دور سے بھگا دیتے تھے کیونکہ میرے کپڑے میلے اور پھٹے ہوئے ہیں، پائوں میں جوتانہیں ہے۔‘‘ ثاقب نے اس آدمی کو دیکھا تو حیران رہ گیا کیونکہ وہ ہو بہو اس کا ہمشکل تھا۔ صرف فرق یہ تھا کہ ثاقب نے مہنگے اور صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھے جبکہ غریب آدمی کے کپڑے پرانے اور پھٹے ہوئے تھے۔ ثاقب نے اس آدمی کو حقارسے دیکھا اور اس کو ڈانٹتے ہوئے دور ہٹنے کا حکم دیا۔ وہ آدمی سہم گیا پھر ثاقب نے گھوڑے کو ایڑی لگائی اور آگے بڑھ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت یوسف علیہ السلام کا سبق آموز واقعہ

غریب آدمی بھی اس کے پیچھے چل پڑا۔ ابھی ثاقب راستہ تلاش کر رہا تھا کہ اس کو تازہ پانی کا تالاب نظر آیا اس کا دل چاہا کہ وہ تالاب میں نہا کر تازہ دم ہو جائے پھر واپسی کا راستہ تلاش کرے گا۔ ثاقب نے گھوڑے کی رسی ایک درخت سے باندھی اور سرداروں والا قیمتی لباس اتار کر تالاب کے پاس پڑے ایک پتھر پر رکھا اور تالاب میں کود گیا۔ تالاب پہاڑی سے ذرا نیچے تھا کہ نہانے والے کو اوپر کا آدمی نظر آتا تھا جب ثاقب تالاب میں اتر گیا تو غریب آدمی نے اپنے کپڑے اتارے اور سردار کی پگڑی سر پر رکھ کر قیمتی کپڑے پہن لیے اور سردار کا گھوڑا لے کر حویلی کی طرف چل پڑا اورب لا جھجک حویلی میں چلا گیا۔

اصل سردار نہا کر باہر نکلا تو ا پنے کپڑے، پگڑی اور گھوڑا نہ دیکھ کر سخت پر یشان ہوا اور وہاے دیکھ کر ان کو پہن کر پیدل چل پڑا۔ کئی دن جنگل میں گزار کر وہ سخت تکلیف اٹھاتے ہوئے حویلی کا راستہ تلاش کرتے ہوئے شہر میں آگیا جہاں ہر کوئی اس کو بھکاری سمجھ کر دھتکار رہا تھا۔ وہ ان کو کہتا کہ میں تمہارا سرد ار ثاقب ہوں لیکن لوگ اس کی بات سن کر اس کا مذاق اڑاتے اور اس کو پاگل سمجھنے لگے کیونکہ سردار تو حویلی میں موجود تھا۔
کئی دن سردار اسی مصیبت میں رہا جب سردار یک بیوی کو علم ہوا کہ سردار کا ہمشکل ایک بھکاری خود کو سردار کہتا ہے تو اس نے اسے بلوالیا اور ماتھے پر تل کا نشان دیکھ کر اسے پہچان لیا۔ غریب آدمی نے اپنی اصلیت ظاہر ہونے پر کہا ’’کیا تم وہی شخص ہو جو اپنی دولت اور سرداری پر غرور کرتا تھا؟ ۔کسی غریب کی فر کی بجائے اس کو دھکے دے کر با ہر نکلوا دیتا تھا؟ تم کو اس یغرور کی سزا ملی ہے۔ میں نے تم کو نصیحت دینے کے لیے یہ سارا ڈرامہ کیا ہے۔ تمہاری سرداری، حویلی اور بیوی تمہاری امانت تھے۔ میں تم کو یہ امانت واپس دیتا ہوں۔ ہاں اگر تم نے اپنی بری عادت نہ چھوڑی تو میں تم کو اس یوقت قتل کرنے کا حکم دینے کا حق رکھتا ہوں کیونکہ سردار کی پگڑی میرے پر موجود ہے۔ ثاقب نے روتے ہوئے اپنے روئیے کی معافی مانگ لی اور ساری زندگی نہایت عاجزی اور ن دامت کے ساتھ گزارنے لگا۔ اب وہی لوگ جو اس کے خلاف تھے اس کی لمبی عمر کے لیے دعائیں کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں کو ریاضی سے مت ڈرائیے

اچھے بچو!
قیمتی لباس اور حکمرانی کا غرور ہمیشہ خاک میں ملتا ہے۔ عاجزی سے رہے والا ہمیشہ کامیاب رہتا ہے۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں