Kabul_AirPort

کابل ایئر پور ٹ پر دھماکہ ، داعش نے ذمہ داری قبول کی اور امریکہ کیا کرنے والا ہے؟

EjazNews

افغانستان میں اب بھی تقریباً ایک ہزار امریکی شہری موجود ہیں۔ایئر پورٹ کے اندر تعینات ایک مغربی سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ انخلا کی پروازوں کی رفتار جمعہ کے روز تیز ہوگئی ہے اور امریکی پاسپورٹ رکھنے والوں کو ایئرپورٹ کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

گزشتہ روز کابل ایئرپورٹ کے باہر ہوئے 2 بم دھماکوں اور فائرنگ کے بعد 72افغان شہری جاں بحق جبکہ 140سے زائد زخمی ہوئے جبکہ حملے میں 13 امریکی فوجی بھی مارے گئے۔

دولت اسلامیہ سے منسلک داعش خراسان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جو مغرب کے ساتھ ساتھ طالبان کی بھی دشمن ہے، جس کا کہنا تھا کہ اس کے ایک خود کش حملہ آور نے امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والوں اور مترجموں کو نشانہ بنایا۔

Kabul_airport1
ساتھ ہی انہوں نے کابل ایئرپورٹ کے باہر سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے طالبان پر انحصار کرنے کا بھی دفاع کیا۔

حملے کے بعد وائٹ ہاؤس میں اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جنہوں یہ حملہ کیا، ساتھ ہی جو امریکا کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ جان لیں کہ ہم معاف نہیں کریں گے، نہ ہم بھولیں گے، ہم تمہیں شکار کریں گے اور وصولی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے وقت پر، اپنی منتخب کردہ جگہ اور اپنے منتخب کردہ لمحے میں طاقت سے جواب دیں گے۔

جو بائیڈن نے کہا کہ میں اپنے ہر اقدام کے ساتھ اپنے مفادات اور اپنے لوگوں کا دفاع کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں:  نئے امریکی صدر جو بائیڈ ن دو بار پاکستان کا دورئہ بھی کر چکے ہیں

جوبائیڈن نے یہ بھی اشارہ کیا کہ اگر انہیں ضرورت محسوس ہوئی تو وہ افغانستان کو مزید فوجی امداد بھیج سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ جو چاہے کرے اگر انہیں اضافی فورس کی ضرورت ہوئی تو میں انہیں دوں گا۔

امریکی صدر کے بقول ان حملوں نے امریکی فوج کے اپنے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کو بڑھایا ہے، آج کابل میں جن فوجیوں کی جانیں گئیں وہ ہیروز اور ملک کی بہترین پیشکش تھے۔

انہوں نے کہا کہ آج جو زندگیاں ہم نے کھو دی ہیں وہ آزادی، سلامتی، دوسروں اور امریکا کی خدمت کے لیے دی گئیں۔

ساتھ ہی انہوں نے کابل ایئرپورٹ کے باہر سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے طالبان پر انحصار کرنے کا بھی دفاع کیا۔

جو بائیڈن نے کہا کہ ‘ہم ان کے ذاتی مفاد میں کام کرنے کے لیے ان پر اعتماد کررہے ہیں اور جب ہم نے کہا ہے کہ ہم چلے جائیں گے یہ بھی ان کے مفاد میں ہے۔

ان کا کہنا تھا ہمارے کمانڈروں کے پاس ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ داعش اور طالبان کے درمیان ملی بھگت ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی نے کہا کہ داعش کی جانب سے مزید حملوں کے پیشِ نظر امریکی کمانڈرز کو الرٹ کردیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے لیے راکٹ یا بارود بھری گاڑی سے حملے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا اور ملک بھر میں کرونا کی صورتحال کیا ہے؟

انہوں نے کہا ہم تیار رہنے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں، کچھ خفیہ اطلاعات طالبان کے ساتھ شیئر کی جارہی ہیں اور ان کے خیال میں کچھ حملوں کو ناکام بنادیا گیا ہے۔

فرینک میکنزی کا مزید کہنا تھا کہ امریکا مزید حملوں کے خطرے کے باوجود انخلا جاری رکھے گا۔

گزشتہ 12 روز کے دوران مغربی ممالک ایک لاکھ افراد کا انخلا کرچکے ہیں لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں رواں ماہ کے اختتام پر جب آخری امریکی فوجی بھی روانہ ہوجائے گا اس کے بعد بھی ہزاروں افراد رہ جائیں گے۔

متعدد ممالک کا کہنا ہے کہ شہریوں کا انخلا اختتام پذیر ہوچکا ہے اور ان کا آخری فوجی بھی افغانستان سے نکل گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ کابل ایئر پورٹ پر ہونے والےخوفناک دہشتگردانہ حملوں کی مذمت کرتا ہوں،جو افغان دوسروں کی مدد کرتے تھے وہ آج مارے گئے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کا کابل ایئر پورٹ پر ہوئے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ سعودی عرب افغانستان میں ہونے والے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ نے جاری کیئے گئے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان میں جلد از جلد استحکام کے خواہش مند ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وسائل کی کمی سے نہیں بلکہ قانون کی بالادستی نہ ہونے کی وجہ سے غریب ہوتی ہے:وزیراعظم

کینیڈین وزیراعظم کی کابل میں دہشتگرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانوں کی مدد جاری رکھیں گے۔کینیڈا میں پناہ گزینوں کی آباد کاری جاری رہے گی۔

نیٹو سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ طالبان رہنماؤں کو کابل میں داعش نیٹ ورک کی تحقیقات کرنی چاہئیں۔طالبان نے ہزاروں قیدیوں کو جیلوں سے باہر نکلنے کی اجازت دی۔ افغانستان میں کنٹرول کے بعد سکیورٹی طالبان کی ذمہ داری ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کا کابل ایئر پورٹ پر ہوئے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ سعودی عرب افغانستان میں ہونے والے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ نے جاری کیئے گئے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان میں جلد از جلد استحکام کے خواہش مند ہیں۔

کینیڈین وزیراعظم کی کابل میں دہشتگرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانوں کی مدد جاری رکھیں گے۔کینیڈا میںپناہ گزینوں کی آباد کاری جاری رہے گی

نیٹو سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ طالبان رہنماؤں کو کابل میں داعش نیٹ ورک کی تحقیقات کرنی چاہئیں۔طالبان نے ہزاروں قیدیوں کو جیلوں سے باہر نکلنے کی اجازت دی۔ افغانستان میں کنٹرول کے بعد سکیورٹی طالبان کی ذمہ داری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں