Toba_islam

توبہ کا دروازہ

EjazNews

بندے کی توبہ سے اللہ تعالیٰ کی خوشی بھی اُس کی شان ربوبیت اور رحمت کا تقاضاہے کہ اس کا ایک بھٹکا ہوا بندہ ، اپنی نادانی سے شیطان کے فریب میں آکر اس کی عبادت کی راہ سے بھٹک گیا تھا ، راہ راست پر آگیا۔ لیکن بندے کی توبہ واستغفار سے اللہ تعالیٰ کی شان میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ وہ بڑا ہے اور بڑا ہی رہے گا۔ وہ بے نیاز ہے، اسے ہماری ضرورت نہیں ہے، لیکن ہم اس کے محتاج ہیں۔ اس کی کوئی نظیر نہیں ہے، وہ پوری کائنات کا خالق ومالک ورازق ہے۔ اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرنے کا فائدہ ہمیں ہی پہنچتا ہے ، جس طرح اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے پر اس کا نقصان بھی ہمیں ہی پہنچتا ہے۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ اگر گناہ کا تعلق اللہ کے حقوق سے ہے، مثلاً نماز وروزہ کی ادائیگی میں کوتاہی یا ان اعمال کو کرنا جن سے اللہ اور اس کے رسول ﷺنے منع فرمایا ہے، مثلاً شراب پینا اور زنا کرنا، تو توبہ کے لئے تین شرطیں ہیں: ۱) گناہ کو چھوڑنا۔ ۲) کئے گئے گناہ پر شرمندہ ہونا۔ ۳) آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا۔ لیکن اگر گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو ان تین شرطوں کے علاوہ مزید ایک اہم شرط ضروری ہے کہ پہلے بندے سے معاملہ صاف کیا جائے، یعنی اگر اس کا حق ہے تو وہ ادا کیا جائے یا اس سے معافی طلب کی جائے۔ غرضیکہ بندوں کے حقوق کے متعلق قیامت تک کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا اصول وضابطہ بیان کردیا کہ پہلے بندےکا حق ادا کیا جائے یا اس سے معافی طلب کی جائے، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کے لئے رجوع کیا جائے۔

توبہ کے معنی لوٹنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے فرماںبرداری کی طرف لوٹنا ،شریعت اسلامیہ میں توبہ کہلاتا ہے۔ حقوق اللہ میں کوتاہی کی صورت میں توبہ کے صحیح ہونے کے لئے تین شرطیں اور بندے کے حقوق میں کوتاہی کرنے پر توبہ کے لئے چار شرطیں ضروری ہیں۔ لہٰذا ہمیں جس طرح اللہ کے حقوق کو مکمل طور پر ادا کرنا چاہئے ، اسی طرح بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں ادنیٰ سی کوتاہی سے بھی بچنا چاہئے۔ بندوں کے حقوق میں کوتاہی کرنے پر کل قیامت کے دن محسن انسانیت ﷺکے فرمان کے مطابق اعمال کے ذریعے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی جائے گی،

جیساکہ فرمان رسول ﷺ ہے: میری امت کا مفلس شخص وہ ہے جو قیامت کے دن بہت سی نماز، روزہ، زکوٰۃ  لے کر آئے گا، مگر حال یہ ہوگا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا پیٹا ہوگا تو اس کی نیکیوں میں سے ایک حق والے کو نیکیاں دی جائیں گی، ایسے ہی دوسرے حق والے کو اس کی نیکیوں میں سے نیکیاں دی جائیں گی، پھر اگر دوسروں کے حقوق چکائے جانے سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو  حق داروں اور مظلوموں کے گناہ ان سے لے کر اس شخص پر ڈال دئے جائیںگے اور پھر اس شخص کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم )

یہ بھی پڑھیں:  غیر مسلموں کے تعلقات(اسلامی تعلیمات کی روشی میں)

اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بھی بار بار ہمیں توبہ کی تلقین فرمائی ہے۔ اختصار کے پیش نظر صرف دو آیات پیش ہیں:اے مؤمنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (سورۃ النور ) اے ایمان والو! اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو۔ بہت ممکن ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے گناہ معاف کرکے تمہیں جنت میں داخل کردے۔ (سورۃالتحریم ۸) پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ توبہ کرنے والے کامیاب ہیں، دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ سچی توبہ کرنے والوں کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں اور انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔ قیامت تک آنے والے انس وجن کے نبی حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! اللہ کی بارگاہ میں تم توبہ واستغفار کرو۔ میں دن میں سو سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم) اسی طرح فرمان نبی ﷺ ہے: اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ سے ایک ایک دن میں ستر ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ واستغفار کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری) نبی اکرم ﷺ گناہوں سے پاک وصاف اور معصوم ہونے کے باوجود روزانہ سو سو مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے، اس میں امت مسلمہ کو تعلیم ہے کہ ہم روزانہ اہتمام کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں، اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص پابندی سے استغفار کرتا رہے (یعنی اپنے گناہوں سے معافی طلب کرتا رہے ) اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنادیتا ہے۔ ہر غم سے اسے نجات عطا فرماتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی عطا فرماتا ہے کہ جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ (ابوداؤد ۔ باب فی الاستغفار)

کوئی شخص کب تک توبہ کرسکتا ہے؟حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے، جب تک وہ نزاع کی حالت کو نہ پہنچ جائے۔ (ترمذی) یعنی جب انسان کا آخری وقت آجاتا ہے تو پھر اس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔ موت کا وقت اور جگہ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کسی کو معلوم نہیں۔ چنانچہ بعض بچپن میں، توبعض عنفوان شباب میں اور بعض ادھیڑ عمر میں، جبکہ باقی بڑھاپے میں داعی اجل کو لبیک کہہ جاتے ہیں۔ بعض صحت مند تندرست نوجوان سواری پر سوار ہوتے ہیں، لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ موت کی سواری پر سوار ہوچکے ہیں۔ یہی دنیاوی فانی وقتی زندگی‘ اخروی ابدی زندگی کی تیاری کے لئے پہلا اور آخری موقع ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم افسوس کرنے یا خون کے آنسو بہانے سے قبل‘ اس دنیاوی فانی زندگی میں ہی اپنے گناہوں سے توبہ کرکے ا پنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہماری روح ہمارے بدن سے اس حال میں جُدا ہو کہ ہمارا خالق و مالک و رازق ہم سے راضی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  کفنانے کا طریقہ

سچے دل سے توبہ کرنے پر بڑے سے بڑے گناہوں کی بھی معافی:حدیث کی مشہور ومعروف کتابوں میں نبی اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے سنایا ہوا ایک واقعہ مذکور ہے: تم سے پہلی امت میں ایک آدمی تھا جو ۹۹ آدمیوں کو قتل کرچکا تھا۔ اس نے کسی بڑے عالم دین کا پتا دریافت کیا تو لوگوں نے اسے ایک (عیسائی) راہب کا پتا بتایا۔ یہ شخص اس راہب کے پاس گیا اور کہا کہ میں ۹۹ آدمیوں کو قتل کرچکا ہوں، کیا اب بھی میرے لئے توبہ کا امکان ہے؟ راہب نے کہا: نہیں۔ تو اُس شخص نے راہب کو بھی قتل کرڈالا اور اس طرح ۱۰۰ قتل پورے کردیئے۔ (لیکن وہ اپنے کئے ہوئے گناہ پر بہت زیادہ شرمندہ تھا اور اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرنا چاہتا تھا۔) پھر لوگوں سے بڑے عالم دین کا پتا دریافت کیا تو لوگوں نے اسے ایک اور عالم کا پتا بتایا۔ یہ شخص ان کے پاس گیا اور کہا میں سو آدمیوں کو قتل کرچکا ہوں، کیا اب بھی میرے لئے توبہ کا امکان ہے؟ اس نے کہا: ہاں، ضرور ہے۔ اور بھلا اللہ کے بندےاور توبہ کے درمیان کوئی چیز رکاوٹ ہو سکتی ہے؟ تم فلاں بستی میں چلے جاؤ۔ وہاں اللہ کے کچھ نیک بندے اپنے رب کی عبادت میں مصروف ہیں۔ تم ان کے ساتھ رہ کر اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجاؤ۔ یہ شخص (توبہ کرکے) اس بستی کی جانب چل دیا۔ آدھا راستہ طے کیا تھا کہ موت آگئی۔ اس کی روح کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں اختلاف ہونے لگا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ شخص اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوچکا ہے، لہٰذا ہم اس کی روح لے کر جائیں گے۔ عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے ابھی تک کوئی نیک عمل نہیں کیا ، لہٰذا یہ شخص رحمت کا مستحق نہیں ہے۔ اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ انسانی شکل میں ان کے سامنے آیا۔ دونوں فریق نے اسے اپنا حکم بنالیا۔ اس انسان نمافرشتے نے کہا کہ دونوں سرزمینوں (گناہ کی بستی اور عبادت کی بستی) کی پیمائش کرلو، جس علاقے سے یہ قریب ہو ،اسی علاقے کے لوگوں میں شامل کردو۔ چنانچہ انہوں نے زمین کی پیمائش کی تو اُسے اس علاقے سے قریب تر پایا جس میں عبادت الٰہی کے ارادے سے وہ جارہا تھا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے بدکاری کی سرزمین کو حکم دیا کہ تو دور ہوجا اور نیکوکاری کی سرزمین کو حکم دیا کہ تو قریب ہوجا ،اور اس طرح نیکی کی سرزمین ایک بالشت قریب نکلی ،چنانچہ اس کی مغفرت کردی گئی ۔

یہ بھی پڑھیں:  خیار کا بیان

اس واقعے کی تایید قرآن وحدیث سے بھی ہوتی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ الزمر آیت ۵۳ میں ارشاد فرماتا ہے: کہہ دو کہ ’’اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کررکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتاہے۔ یقینا وہ بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘ فرمان رسول ﷺہے: اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے، تاکہ دن میں گناہ کرنے والا رات کو توبہ کرے اور دن کو اپنا دست قدرت پھیلاتا ہے، تاکہ رات کو گناہ کرنے والا دن کو توبہ کرے۔ (صحیح مسلم) اللہ تعالیٰ دنیا میں شرک جیسے بڑے گناہ کو بھی سچی توبہ کرنے پر معاف کردیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں گناہوں کی کثرت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے، لیکن فرمان رسولﷺ عقلمند شخص وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرتا رہے اور مرنے کے بعد کے لئے عمل کرتا رہے۔بے وقوف شخص وہ ہے جو اپنی خواہش پر عمل کرے اور اللہ تعالیٰ سے بڑی بڑی امیدیں باندھے)۔ (ترمذی وابن ماجہ) کے مطابق ہمیں گناہ کرنے کی جرأت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ایسا نہ ہو کہ توبہ کی توفیق ملنے سے قبل ہی ہماری روح جسم سے پرواز کرجائے۔
اس واقعے سے ہمیں یہ سبق لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت بھی معاف کرنے کے لئے تیار ہے، لہٰذا فوراً گناہوں سے معافی مانگ کر اچھائیوں کی طرف سبقت کریں۔ اپنی توبہ کو معلق نہ کریں، بلکہ ابھی گناہوں سے بچ کر اپنے کئے ہوئے گناہوں پر شرمندہ ہوں اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کریں۔ ان شاء اللہ ہمارے بڑے بڑے گناہوں کو بھی اللہ تعالیٰ معاف کرنے کے لئے تیار ہے۔ اگر توبہ سے قبل ہماری روح ہمارے جسم سے دور ہونے لگے تو پھر خون کے آنسو بہانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر ہم نے بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی ہے تو پہلی فرصت میں حقوق کی ادائیگی کرکے یا معافی طلب کرکے بندے سے اپنا معاملہ صاف کرلیں، ورنہ قیامت کے دن اعمال کے ذریعے حقوق کی ادائیگی کی جائے گی جیساکہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا ہے۔ جہاں تک دنیاوی زندگی میں مشغولیت کا تعلق ہے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر انسان کو ایک وادی سونے کی مل جائے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں۔ اس کے منہ کو قبر کی مٹی ہی بھرے گی اور توبہ کرنے والے کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا۔ (بخاری ومسلم)

اپنا تبصرہ بھیجیں