Kabul_airport

کابل ائیر پورٹ پر خودکش حملہ

EjazNews

مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر فوری طور پر کابل ایئرپورٹ کے اطراف سے نکل جائیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے نامعلوم سکیورٹی خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایبی گیٹ، جنوبی گیٹ یا شمالی گیٹ پر موجود افراد کو فوری طور پر نکل جانا چاہیے۔

آسٹریلیا کے خارجہ امور کے محکمے نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ برقرار ہے اور بہت زیادہ ہے اس لیے کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سفر نہ کریں۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر آپ ہوائی اڈے کے علاقے میں ہیں تو کسی محفوظ مقام پر منتقل ہوجائیں اور مزید مشورے کا انتظار کریں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے میں بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوئے اور طالبان کے گارڈز سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  چاند پر پانی کی دریافت ، امید کی نئی کرنیںپھوٹ پڑیں

امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے بھی کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کی تصدیق کر رہے ہیں تاہم اس وقت ہلاکتوں کے بارے میں تعین نہیں ہوسکا۔

ترجمان پینٹاگون نے کہا تھا کہ دھماکا کابل ایئرپورٹ کے آبے گیٹ کے قریب ہوا اور متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

برطانیہ کی وزارت داخلہ نے کہاکہ دھماکے کی اطلاع کے بعد وجوہات کے تعین کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

ترک وزارت دفاع نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے ہوئے ہیں تاہم ترک فوج کے کسی عہدیدار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کہا تھا کہ خفیہ اطلاع ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکا ہوسکتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے بتایا کہ امریکی صدر جوبائیڈن کو کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے کے بارے میں آگاہ کردیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں