imran_khan_3Year

جناح کنونشن سنٹر میں تین سالہ کارکردگی کے متعلق وزیراعظم نے کیا کہا ؟

EjazNews

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر اپنی پارٹی کی کارکردگی کے حوالے سے اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اراکین اسمبلی، پارٹی کے اراکین اور یوتھ ونگ اور آزاد جموں و کشمیر کے نئے وزیراعظم سمیت سب کا شکریہ ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میری اقتدار میں آنے سے قبل 22سالہ جدوجہد بہت سخت تھی، ایسے وقت بھی آئے جب صرف پانچ سے چھ لوگ ساتھ رہ گئے تھے اور باقی لوگ گھروں میں بیٹھ گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس برے وقت میں کئی لوگ مذاق اڑاتے تھے، میرے کئی لوگ کہا کرتے تھے کہ ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ تم تحریک انصاف میں ہو۔
عمران خان نے کہا کہ میرے لیے ان مشکل دنوں میں سب سے بڑی تحریک نبی اکرمﷺ تھے، انہوں نے بھی بہت مشکل وقت گزارا، اللہ کے سب سے محبوب تھے لیکن 13سال وہ انتہائی مشکل وقت سے گزرے، انہیں اس مشکل وقت سے گزرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن جب وہ رائے حق پر آئے تو لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا ارو میں ہمیشہ ان کی زندگی سے سیکھتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے، اگر ہم مشکل وقت کو سمجھ لیں اور اس کا تجزیہ کر لیں تو وہی آپ کے عروج کا راستہ بن جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں آج تک کسی نے بڑا کام نہیں کیا جو فیل نہیں ہوا، یہ ناممکن ہے آپ سیدھا پرچی پکڑ کر لیڈ بن جائیں، ایسے نہیں ہو سکتا، جب تک آپ مشکل جدوجہد سے نہیں گزرتے، اس وقت تک آپ بڑا کام نہیں کر سکتے، کوئی بھی شارٹ کٹ لے کر لیڈر نہیں بنا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے تین سال بہت مشکل گزرے کیونکہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو یہ ملک کا دیوالیہ کر کے چلے گئے، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر اور قرض کی ادائیگی کے لیے پیسے ہی نہیں تھے، ادائیگیوں کے حوالے سے دیوالیہ ہو رہے تھے کیونکہ ہمارے پاس زرمبادلہ کے ذخائر ہی نہیں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا 20ارب ڈالر تھا اس کی وجہ سے اگر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین ہماری مدد نہ کرتے تو ہماری قوم جس مشکل وقت سے گزری وہ کچھ بھی نہیں کیونکہ روپیہ بہت بری طرح نیچے آتا۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ کے سب سے بڑے دشمن اس وقت سندھ پر راج کررہے ہیں:فوادچوہدری

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا کیونکہ ہمارے پاس پیسے ہی نہیں تھے، پیسے لینے کے لیے انہوں نے شرائط عائد کردیں کہ بجلی مہنگی کرنی پڑے، روپے کی قدر گرانی پڑے گی، ٹیکس لگانے پڑیں گے اور جب ہم ان شرائط پر چلتے ہیں تو عوام کو مشکلات ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان مشکلات سے نکل ہی رہے تھے کہ کورونا آ گیا، کورونا سے پہلے پلوامہ آ گیا لیکن اس معملاے میں اللہ نے ہمیں کامیابی دی اور میں خاص طور پر فوج کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ہمارے پاس ایسے فوج اور فضائیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس وقت بھارت نے ہمارے ملک میں رات گئے آ کر بمباری کی تو مجھے احساس ہوا کہ اگر ہمارے پاس اس طرح کی فوج نہ ہو تو ہم سات گنا زیادہ بڑے ملک کے سامنے کیا کرتے، ایسے میں ہمیں اپنی فوج کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب فوج کے خلاف بیانات کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں میں نے بھی فوج پر تنقید کی ہے، کوئی بھی ادارہ غلطیاں کر سکتا ہے، عدلیہ، فوج اور ہم سیاستدان بھی غلطیاں کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ آپ اپنی فوج کو برا بھلا کہنا شروع کردیں اور ان کے پیچھے پڑ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ فوج کے پیچھے اس لیے پڑے ہیں کیونکہ آپ چاہ رہے ہیں کہ فوج کسی طرح حکومت گرادے، یہ خود کو جمہوری قوت کہتے ہیں ار فوج کے پیچھے پڑے ہیں کہ جمہوری حکومت کو گرا دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پلوامہ ہوا تو مجھے اپنی فوج کی اہمیت کا اندازہ ہوا اور اسی لیے ہم نے نریندر مودی کو کہا کہ اگر تم نے کچھ کیا تو ہم تمہیں منہ توڑ جواب دیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ پھر کورونا آ گیا، لوگوں کو اندازہ نہیں ہے ہک یہ ہمارے لیے کس قدر مشکل وقت تھا، مشکل وقت اس لیے تھا کہ ہم سے 30 سے 40 گنا بڑی جی ڈی پی کے حامل یورپی ممالک نے لاک ڈاؤن کردیا اور پھر بھارت میں نریندر مودی نے بھی لاک ڈاؤن لگا دیا کیونکہ یہ درست ہے کہ لاک ڈاؤن سے وبا پھیلتی کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اپنے درمیان یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کے ساتھ احسان کرو

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس موقع پر ان لوگوں کا سوچنا تھا جو یومیہ کماتے تھے اور ہماری اپوزیشن جماعتوں نے تنقید شروع کردی جبکہ ہسپتال بھرنے پر ہماری جماعت کے بھی کچھ لوگ گھبرا گئے لیکن ہم نے مشکل فیصلہ کیا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، ہم پورا لاک ڈاؤن نہیں کریں گے کیونکہ ہمارے غریب بھوکے مر جائیں گے اور میرا ایمان ہے کہ اس کی برکت سے اللہ نے ہمیں بچا لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے لیے بہترین اقدمات پر ورلڈ اکنامک فورم، عالمی ادارہ صحت اور اکنامکس نے ہماری مثال دی اور اگر ہم غلط فیصلہ کر لیتے تو یہاں لوگ بھوکے مرتے جو آج ہندوستان میں ہو رہا ہے۔

وزیر اعظم نے اپنی حکومت کے تین سالہ دور کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب ہم آئے تھے تو کرنٹ اکاؤنٹ کو 20ارب ڈالر کا خسارہ تھا اور آج یہ خسارہ 1.8ارب ڈالر رہ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم آئے تھے تو ہمارے غیرملکی زرمبادلہ کے کُل ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے اور آج ہمارے 27ارب ڈالر کے ذخائر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم آئے تو 3ہزار 800ارب ٹیکس اکٹھا کیا جاتا تھا اور آج 4ہزار 700ارب ٹیکس اکٹھا کیا جا رہا ہوں، یہ جو اعدادوشمار میں آپ کو بتا رہا ہوں وہ اسحاق ڈار کے نہیں بلکہ اصل ہیں۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر بیرون ملک پاکستانیوں کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم آئے تو ترسیلات زر 19.9ارب ڈالر تھیں اور آج ہماری ترسیلات زر 29.4ارب ڈالر پر پہنچ گئی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری صنعت میں 18فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ دس سال بعد ہماری صنعت اتنی تیزی سے اوپر جا رہی ہے جبکہ تعمیرات کے شعبے میں سیمنٹ کی 42فیصد فروخت بڑھی ہے، زراعت میں 1100ارب اضافی کسانوں کے پاس گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  میں بینکوں سے کہوں گا کہ چھوٹے لوگوں کو قرضے دینے کے لیے اپنے سٹاف کو تربیت دیں:وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ ہماری موٹر سائیکلیں ریکارڈ تعداد میں بکیں، ریکارڈ ٹریکٹر فروخت ہوئے جبکہ گاڑیوں کی فروخت 85فیصد بڑھ گئی اور ٹویوٹا نے اپنی تاریخ میں اتنی گاڑیاں نہیں فروخت کیں جتنی آج بیچی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی اینٹی کرپشن نے مسلم لیگ(ن) کے 10سالوں میں کُل ڈھائی ارب روپے برآمد کیے تھے جبکہ ہمارے تین سالوں میں اسی ادارے نے ساڑھے چار سو ارب روپے برآمد کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے آن ےسے پہلے نیب نے 18سالوں میں 290ارب روپے برآمد کیے تھے جبکہ ہمارے 3سالوں میں 519 ارب روپے برآمد کر چکے ہیں۔

قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت پہلی حکومت ہے جو عوام کے سامنے اپنی کارکردگی رپورٹ باقاعدگی سے پیش کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم تقریب سے 3 بجے خطاب کریں گے۔

رپورٹ 21-2018 کو وزارت اطلاعات و نشریات نے مرتب کیا ہے اور کورونا وائرس وبائی امراض کے تناظر میں عالمی معاشی بحران کے باوجود حکومت نے جو کارنامے کیے ہیں ان پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔

مزید کہا گیا کہ یہ رپورٹ 251 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں عوامی اداروں، بشمول وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں کی کامیابیوں کو انفوگرافکس اور متعلقہ حقائق اور اعداد و شمار کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ رپورٹ ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہوگی۔
رپورٹ کے اجرا کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ عمران خان کی حکومت ہے جو تین سال کی کارکردگی عوام کے سامنے فخر سے رکھ سکتی ہے۔

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ  ‏پاکستان میں کتنی حکومتیں اپنی کارکردگی پر عوام کو جوابدہی کرتی رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 3 سال میں معیشت، خارجہ پالیسی اور اندرونی استحکام کے حقائق کے ساتھ سامنے لائیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا اظہر مشوانی نے کہا کہ انصاف یوتھ ونگ کے کارکن وزیراعظم کے خطاب کو سات شہروں بشمول گلگت، کراچی، ملتان، لاہور، کوئٹہ، پشاو، حیدرآباد میں براہ راست نشر کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں