Afghanistan_Taliban

افغانستان میں کیا ہو رہا ہے؟، دنیا کیا کہہ رہی ہے؟

EjazNews

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے کہا تھا کہ طالبان حکومت نہیں چلاسکتے تاہم طالبان رہنما نے اس پر سخت ردعمل دیا۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان رہنما شہاب الدین دلاور نے کہا کہ بھارت جلد ہی یہ جان جائے گا کہ طالبان باآسانی حکومتی امور چلا سکتے ہیں۔

ایک سوال پر شہاب الدین دلاور نے کہا کہ پاکستان ہمارا ہمسایہ اور دوست ملک ہے۔انہوں نے 30 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پر پاکستان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے خدمات کی فراہمی پر پاکستان کے شکرگزار ہیں۔

شہاب الدین دلاور نے کہا کہ طالبان تمام ممالک کے ساتھ دو طرفہ احترام کی بنیاد پر پرامن تعلقات کے خواہاں ہیں۔

دوسری جانب روسی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی اور عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے گھر میں نظر بند کردیا ہے۔

دوسری جانب روسی صدرولادیمیرپیوٹن نے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے، افغانستان سے دہشتگردی کے خدشات اور منشیات اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا، دونوں ممالک کے سربراہان کا افغانستان کی خودمختاری اوراستحکام کا احترام کرنے پراتفاق ہوا ہے۔

روسی صدر ولاد یمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ افغانستان میں غیرملکی افواج کی مداخلت روکنے کیلئے چین کیساتھ کام کرنے کیلئے تیارہیں۔چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ افغانستان کی تمام جماعتیں کھلا اور جامع سیاسی فریم ورک بنائیں،دہشتگردگروپوں سے رابطے ختم کیے جائیں۔

شی جن پنگ نے زور دیا کہ چین افغانستان کی خود مختاری، آزادی اور سالمیت کا احترام کرتا ہے۔چین افغانستان کے داخلی اُمور میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ طالبان نے 31؍اگست کو انخلا کی آخری تاریخ کے بعد بھی امریکی شہریوں اور خطرے سے دوچار افغانوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  فلسطینی پانچ سال بعد عمرہ کی سعادت حاصل کر پائے

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو لوگ وہاں سے جانا چاہتے ہیں ان کی مدد کرنے کی امریکی کوششیں اس تاریخ کو ختم نہیں ہوں گی۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک ہزار امریکی شہری یا شاید اس بھی زیادہ اب بھی افغانستان میں ہو سکتے ہیں اور انتظامیہ ان کا سراغ لگانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے، اس وقت توجہ امریکی شہریوں اور دوسروں کو محفوظ بنانے پر مرکوز ہے، ہمیں طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے چاہے ہم انہیں پسند کریں یا نہ کریں کیونکہ زیادہ تر ملک ان کے کنٹرول میں ہے۔

امریکی فوج کے میجر جنرل ہینک ٹیلر نے کہا ہے کہ افغانستان سے لوگوں کو نکالنے کے آپریشن کی توجہ اب بھی اس بات پر ہے کہ محفوظ اور مؤثر انداز میں جتنے زیادہ لوگوں کو نکالنا ممکن ہو، نکالا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکی فوج کے 42 طیارے جن میں 37 سی 17 اور پانچ سی 130 شامل ہیں، نے گذشتہ روز افغانستان سے 11 ہزار 200 امریکیوں اور 48 اتحادی ممالک کے 7800 افغان اہلکاروں کو افغانستان سے نکالا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ سے ہر 39 منٹ میں ایک طیارہ ٹیک آف کر رہا ہے۔

میجر جنرل ہینک ٹیلر نے کہا کہ اب بھی کابل ایئرپورٹ پر 10 ہزار سے زیادہ افراد اپنے انخلاف کا انتظار کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے امکان ظاہر کیا کہ مزید لوگ بھی ایئرپورٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔ سیکڑوں امریکی فوجیوں کا پہلا دستہ بھی کابل سے روانہ ہوگیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے بھی امریکی فوجیوں کی روانگی کی تصدیق کی اور کہا کہ فوجی دستے کے جانے سے افغانستان میں امریکی مشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

دوسری جانب برطانوی وزیرخارجہ کا کہناہے کہ افغانستان سےتقریباً تمام برطانوی شہریت رکھنے والے افراد کا انخلا ہوچکاہے اور طالبان کے کنٹرول کے بعد سے اب تک 9 ہزار سے زائد افراد کو برطانیہ پہنچایاگیا۔

یہ بھی پڑھیں:  سمندری طوفان آئیڈا کے بعد سیلاب سے نیویارک کے علاقے میں کم از کم 44 افراد ہلاک

طالبان کمانڈر قاری فصیح الدین نے دعویٰ کیا ہے کہ وادی پنجشیر میں طالبان کی پیش قدمی جاری ہے ۔ انہوں نے شمالی اتحاد کے سابق اہم کمانڈر احمد شاہ مسعود کی رہائش گاہ اور وادی کی اہم چوٹیوں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ شمالی اتحاد کے سابق کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے اور صوبہ پنج شیر میں طالبان کے خلاف مزاحمتی فورس کے سربراہ احمد مسعود نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔

فرانسیسی جریدے کو انٹرویو میں احمد مسعود کا کہنا تھا کہ میں طالبان کے آگے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مرنا پسند کروں گا۔ ان کا کہنا تھاکہ میں احمد شاہ مسعود کا بیٹا ہوں اور ہتھیار ڈالنے کا لفظ میری لغت میں نہیں۔ احمد مسعود نے دعویٰ کیا کہ ہزاروں افراد پنجشیر میں قومی مزاحمتی محاذ میں شامل ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ عالمی رہنماؤں کی تاریخی غلطیاں نہیں بھول سکتا جن سے 8 دن پہلے اسلحہ مانگا تھا لیکن انہوں نے انکار کیا اور آج وہی ہتھیار، ہیلی کاپٹر اور ٹینک طالبان کے ہاتھ میں ہیں۔

مذاکرات کے حوالے سے احمد مسعود کا کہنا تھاکہ ہم بات کر سکتے ہیں اور تمام جنگوں میں بات چیت ہوتی ہے، میرے والد ہمیشہ اپنے دشمنوں سے بات کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھاکہ نئے افغان حکمرانوں کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہوں،مذاکرات کیلئے طالبان اور شمالی اتحاد کے بارہ بارہ افراد پرمشتمل کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ طالبان نے ڈالر اور نوادرات افغانستان سے باہر بھیجنے پر پابندی عائد کردی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہےکہ افغان شہری ڈالر اور نوادرات کو افغانستان سے فضائی اور زمینی راستوں سے منتقل کرنے سے گریز کریں۔انہوں نےافغانستان میں کام کرنے والے صحافیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ میڈیا کو افغانستان میں کام کرنے کی مکمل اجازت ہے، جب حکومت بن جائے گی تو صحافیوں کو نقل وحرکت کی سہولت دیں گے لہٰذا صورتحال ابھی واضح نہیں ہے تو صحافی محتاط ہوکر کام کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  سلگتا ہوامقبوضہ کشمیر، ظلم و جبر سہتے کشمیری، نہ جانے کب آزمائش ختم ہو گی

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی سہولت کے لیے تین رکنی ٹیم بھی تشکیل دے رہے ہیں، صحافی دنیا کو افغانستان کی اصل تصویر دکھائیں۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ 10 دن پہلے کی سکیورٹی صورتحال کا آج سے موازنہ بھی کریں۔ دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی حکومت میں خواتین چہرہ چھپائیں یا نہیں یہ ان کی مرضی ہوگی۔طالبان کے گزشتہ دور حکومت میں خواتین پر سخت پابندیاں عائد تھیں اور پردے کے حوالے سے بھی سختی تھی۔

اس حوالے سےسہیل شاہین نے واضح کیا کہ کابل میں میڈیا کے اداروں میں جو خواتین کام کر رہی ہیں، وہ سکارف لیتی ہیں۔افغانستان میں حکومت سازی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں خواتین کی عدم شمولیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مستقبل میں خواتین کو تمام شعبوں میں رسائی ہوگی۔

سہیل شاہین نے کہا کہ ابھی تو بالکل ہنگامی حالت اور خلا ہے، اس کو پر کرنے کی ضرورت ہے اور اسی کے لیے ہم فوری ضرورت کی بنیاد پر سیاست دانوں کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں۔

انٹرویو کے دوران سہیل شاہین نے افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے کہا کہ نئی حکومت تمام افغان نمائندوں پر مشتمل ہوگی تاہم ہو سکتا ہے کہ نئی حکومت طالبان کے سابق دور حکومت کی طرح ہو جس میں سربراہ رئیس الوزرا ہوں۔

ترجمان طالبان نے کہا کہ افغانستان میں ایک ایسے آئین کی ضرورت ہے جو عوام کے مفاد میں ہو اور مرد و خواتین سمیت سب کے حقوق اس میں درج ہوں اور ہم ایک اور آئین بنائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں