Gujranwala

درخت اگانے میں پاکستان کا دنیا میں کتنواں نمبر ہے

EjazNews

ایشیا میں افغانستان کے بعد درختوں کی کٹائی کی دوسری بلند ترین شرح پاکستان میں ہے ۔ تاہم 3دہائیوں میں افریقہ میں 3کروڑ درخت لگانے اور مغربی یورپی ملک موناکو کے پرنس البرٹ دوئم کے ساتھ ملکر بلین ٹری کمپین چلانے والی پہلی افریقن خاتون نوبل انعام یافتہ مرحومہ ونگاری ماتھائی سے متاثر ہوکر صرف 9سال کی عمر میں 2009ء میں بچوں اور نوجوانوں میں موسمی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہی پیدا کر نے کے لیے جرمن انوائر مینٹلسٹ فلیکس فنکبینیر کی قائم کردہ تنظیم ’’پلانٹ فار دی پلینٹ ‘‘کے مطابق 100سب سے زیادہ درخت اگانے والے ممالک میں چین ، بھارت ، ایتھوپیا کے بعد پاکستان ایک ارب سے زائد درخت اگانے والا دنیا کا چوتھا ملک بن چکاہے ۔

چین نے 2ارب 40کروڑ ، بھارت 2ارب 15کروڑ ، ایتھوپیا ایک ارب 72کروڑ اور پاکستان نے ایک ارب سے زائد درخت اگائے ۔ موجودہ پی ٹی آئی حکومت نے 2015ء میں خیبر پختونخواہ میں بلین(ایک ارب ) ٹری سونامی مہم کا آغاز کیا تھا جسے گزشتہ برس 10بلین ٹری سونامی میں توسیع دے دی گئی ، اس کے تحت 2023ء تک 10ارب درخت لگائے جائیں گے ۔ رواں برس 9اگست وزیر اعظم عمران خان نے لاہور میں دنیا کے سب سے بڑے شہری میاواکی جنگل کا افتتاح کیا ۔ جنگلات کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ خشکی کے 80فیصد جانوروں اور پودوں کا مسکن ہیں۔ 20فیصد عالمی آبادی کی آمدنی کا ذریعہ جنگلات ہیں ۔ 20فیصد خطرناک گرین ہائوس گیسیں ٹراپیکل جنگلات کی تباہی کی وجہ سے فضاء کا حصہ بن رہی ہیں ۔5کھرب درخت لگا کرایک چوتھائی کاربن میں کمی لائی جاسکتی ہے ۔ ایک درخت سالانہ اوسطً 50پائونڈ کاربن ڈائی آکسائیڈ ماحول سے الگ کرتا ہے ۔جنگلات سے زیر زمین پانی کے ذخائر بھی بہتر ہوتے ہیں ، زمین کی کوالٹی میں بہتری ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے ہائوس رینٹ کی حد میں 44فیصد ا ضافہ کر دیا:وزیر اطلاعات

انسان کرہ ارض کا واحد باسی نہیں ، جانور ، حشرات ، شجر سمیت یہ سیارہ طرح طرح کی مخلوق کی آماجگاہ ہے جن کی بقا ایک دوسرے سے منسلک ہے یعنی ایک کے بغیر دوسرے کی زندگی مشکل ہے اور کئی ایک صورتوں میں ناممکن بھی لیکن گزشتہ کئی دہائیوں میں انسان نے سمجھ لیا تھا کہ شاید کے کے سواء دوسری مخلوق کم اہم یا غیر ضروری ہیں۔تاہم اب حوالے سے دیگر نباتات خصوصاً جنگلات کی بقا ء پر انسانی شعور دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ۔ جنگ ڈویلپمنٹ رپورٹنگ سیل نے جنگلات کی صورتحال اور ان کے اہمیت کے حوالے سے اقوام متحد ہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن اورعالمی بینک اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ سے حاصل شدہاعدادوشمار پر جو تحقیقی رپورٹ مرتب کی ہے اس کے مطابق دنیا کے خشکی کے31فیصد یا 4ارب 6کروڑ ہیکٹر رقبے پر جنگلات ہیں ،صرف ایک تہائی کسی بھی قسم کی انسانی مداخلت سے محفوظ ہیں ۔ دنیا میں جنگلات کا نصف رقبہ صرف 5ممالک رشین فیڈ ریشن ، برازیل ، کینیڈا ، امریکہ اور چین میں ہیں جبکہ 66فیصد صرف 10ممالک میں ہیں جن میں سے 20.1فیصد جنگلات روس ، 12.2برازیل ، 8.5کینیڈا ، امریکہ 7.6، چین 5.4، آسٹریلیا 3.3، عوامی جمہوریہ کانگو 3.1، انڈونیشیا 2.3جبکہ بھارت اور پیرو 1.8 ( الگ الگ) فیصد ہیں ۔باقی دنیا میں 33.9فیصد جنگلات ہیں۔ 1990ء سے 10فیصد (42کروڑ ہیکٹر) جنگلات ختم ہو چکے ہیں تاہم امیدافزا بات یہ ہے کہ گزشتہ 3دہائیوں میں جنگلات کے خاتمے کی شرح میں کمی واقع ہو ئی ہے ۔ 2015-20ء کے دوران جنگلات میں کمی کی سالانہ شرح ایک کروڑ ہیکٹر رہی ۔ 90ء کی دہائی میں یہ شرح ایک کروڑ 60لاکھ سالانہ تھی یوں مذکورہ عرصہ میں جنگلات کے کٹائو کی شرح میں 37.5فیصد کمی آئی ۔ جنگلات میں کمی کی قدرتی ( آگ اور درختوں کی بیماریوں ) وجوہات کے علاوہ 80فیصد وجہ زراعت میں توسیع ہے جبکہ 15فیصد کی وجہ شہروں کا پھیلائو ، کان کنی ڈیموں اور سڑکوں کی تعمیرہے ۔جنگلات 8کروڑ60لاکھ روزگار کا باعث اور90فیصد انتہائی غریب عالمی آبادی کا گزر بسر کے لیے آخری سہارہ ہیں ۔ نیپال کا 42فیصد،سری لنکا 34،بھارت 24 ، ایران 7، پاکستان 5، مالدیپ 3اور افغانستان کا2فیصد (خشک رقبہ) جنگلات پر مشتمل ہے ۔جن 39ممالک کا نصف سے زائد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے ان میں گیانا کے 94فیصدرقبے،گبون 91،ایکٹوریل گنی 88،لائبیریا80،فن لینڈ74،برونائی دارلاسلام 72، بھوٹان اور گنی بسائو 71،سویڈن 69 جاپان 68،جنوبی کوریا 65،کانگو 64،زیمبیا 61،فجی ، سلو ینیا، مشرقی تیمور اور مونٹی نیگرو 62،برازیل 60،ملائیشیا اورکوسٹا ریکا 59،بلیز، ہنڈراس ، پانامہ ، پیرو اور عوامی جمہوریہ کانگو57،ایسٹونیا اور پورٹو ریکو56 ،لیٹویا 55، الجیریا، جمیکااور کولمبیا 54،تنزانیہ اور وینز ویلا53، گریناڈا52،بھماس اور ایکواڈور51،روس ، انڈونیشیا اور شمالی کوریا کے 50فیصد سے زائد رقبے پر جنگلات موجود ہیں ۔جن 52ممالک کا کم از اکم ایک چوتھائی رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے ان میں ویت نام اورکمبوڈیاکے ( الگ الگ) 48فیصدرقبے پر جنگلات ہیں ، موزیمبیق،آسٹریااور بولیویا 47،زمبابوے ،میانمار اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو45،بوسنیا ، کیمرون اوربیلارس 43،پیراگوئے ،نیپال اور سینیگال 42،جارجیا 41،کینیڈا اور تھائی لینڈ 39، نیوزی لینڈ، سپین اور لیگزمبرگ 37، بلگیریا ، پر تگال، سری لیون اور سنٹرل افریقن ریپبلک 36،چیک ریپبلک ، لیتھوینیا اور گھانا35،امریکہ ،انڈورا، میکسیکو،سری لنکا اور کروئیشیا 34،جرمنی ، ناروے اور گوئٹے مالا33،سوئٹزر لینڈ اوراٹلی 32،فرانس ، پولینڈ، سربیا اور کیوبا 31،البانیہ ا، نکار گو، رومانیہ اور یونا ن 30،ترکی ، ایل سلواڈوراور بنین 29، بوٹسوانا 27،گنی 26،گیمبیااور ملاوی کے 25فیصد رقبے پر جنگلات ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  براڈ شیٹ کے انکشافات: اشرافیہ ان بین الاقوامی انکشافات پر”انتقامی “کارڈ کے پیچھے نہیں چھپ سکتی:وزیراعظم

اپنا تبصرہ بھیجیں