Imran_khan_education

بدقسمتی سے کسی نے تعلیم پر زور نہیں دیا کیونکہ تعلیم کسی کی ترجیح ہی نہیں تھی:وزیراعظم

EjazNews

پنجاب ایجوکیشن کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ نے وہ کام کیے ہیں جو پورے پاکستان میں کسی صوبے نے نہیں کیے لیکن کسی کو پتا ہی نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اچھے کاموں میں آپ اپنا نام سامنے لانا ہی نہیں چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت تھوڑا سا کام کر کے اس کی بہت زیادہ تشہیر کرتی تھی لیکن عثمان بزدار اتنا کام کرتے ہیں اور آپ کی بالکل بھی تشہیر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے کسی نے تعلیم پر زور نہیں دیا کیونکہ تعلیم کسی کی ترجیح ہی نہیں تھی اور پھر جمہوریت میں ہر پانچ سال کے بعد الیکشن ہوتا ہے اور 1988 سے 1999 تک صرف ڈھائی سال حکومت چلتی تھی تو جو بھی اقتدار میں آتا تھا وہ یہ سوچ کر کام کرتا کہ یہ منصوبہ پانچ سال میں مکمل ہو تو میں اس کے اشتہار دے کر اگلے انتخابات جیت جاؤں۔

انہوں نے یکساں نظام تعلیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انگریز کے نظام تعلیم میں انتہائی تھوڑے لوگوں کو انگریزی میڈیم کی تعلیم دی جاتی تھی لیکن وہ یہ نظام اس لیے لائے تھے تاکہ لارڈ میکالی کے بقول اس میں پڑھ کر ہو تو ہندوستانی لیکن وہ انگریز کی طرح سوچے اور اس کے ذریعے وہ برصغیر پر حکومت کریں اور ایک خاص تعلیمی نظام سے انہوں نے ایسے لوگ بنائے۔

یہ بھی پڑھیں:  سرکاری محکموں میں اصلاحات، کتنی آسامیاں ختم کرنے کی تجویز ہے

عمران خان نے کہا کہ اس ملک میں ڈیم نہیں بنائے گئے، اگر ہم صرف ڈیم بنا دیتے تو ہمیں سستی اور صاف بجلی مل سکتی تھی اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دو بڑے ڈیم جمہوری حکمرانوں نے نہیں بلکہ فوجی آمروں نے بنائے جس سے ملک کو بہت عرصے تک فائدہ ہوا لیکن اس کے بعد کسی نے نہیں سوچا کہ ہماری اگلی نسلوں کا کیا بنے گا اور ہم نے سب سے مہنگی بجلی درآمد شدہ ایندھن سے بنا لی۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ایسا لگا کہ مجھے انگلش پبلک سکول بوائے بنایا گیا ہے، اس تعلیمی نظام نے مجھے میری ثقافت اور میرے دین سے دور کیا اور جہاں بھی انگریزوں نے حکومت کی تو انہوں نے انگریزی میڈیم تعلیم کو عام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آزادی کے بعد اصولاً سب سے پہلے اپنا نظام تعلیم ٹھیک کرنا چاہیے تھا اور ایک ہی نصاب لانا چاہیے تھا لیکن اس کے بجائے ہم تین طرف نکل گئے، ایک طرف دینی مدرسے چلے گئے، ایک طرف اردو میڈیم اور چھوٹے سے طبقے کو انگلش میڈیم تعلیم دی گئی اور انگریزی میڈیم میں بھی تعلیم کے بجائے دیسی ولایتی بنانے پر زیادہ زور تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  کالعدم تنظیم (تحریک لبیک )کیخلاف آپریشن ، متعدد افراد جاں بحق

انہوں نے کہا کہ انگریزی میڈیم تعلیم ہمارے اندر ذہنی غلامی لے کر آئی اور جب ہم ایک نصاب کی بات کرتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو پیچھے لے کر جا رہے ہیں، چین اور جاپان میں کتنے نصاب ہیں، جو بھی ملک ترقی کررہے ہیں وہ ایک نصاب کے ساتھ قوم بناتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں ایک چھوٹے سے نجی اسکول کے کلچر نے ترقی تو کی لیکن انہوں نے ہمیں دوسرے کلچر کا غلام بنا دیا اور ملک میں یکساں نصاب تعلیم ایک اہم موڑ ہے اور بہت بڑی تبدیلی ہے لیکن یہ بات بھی واضح رہے کہ یہ ایک دن میں ٹھیک نہیں ہو گا۔

عمران خان نے کہا کہ انگریزی اسٹیٹس کی نشانی نہیں بلکہ اسے اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک زبان ہونا چاہیے اور پاکستان میں یکساں نصاب کے اقدام کے انتہائی اہم اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ائیر فورس کے سٹیشن میں دھماکہ

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے ہم کرپشن پر قابو پا سکتے ہیں جو اس ملک میں نیچے تک سرایت کر چکی ہے، ہم ایف بی آر کو خودکار کرنا چاہتے ہیں اور خودکار ہونے سے کرپشن نیچے آتی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی کابینہ کو بھی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے جدید خطوط پر استور کیا ہے اور اب وہاں کاغذ نہیں ہوتا بلکہ ای گورننس کی بدولت ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ٹیکنالوجی سکھانے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی تربیت بھی کرنی ہے، مینار پاکستان پر جو کچھ ہوا اس پر مجھے بہت شرم آئی، جو عورت کی عزت ہمارے یہاں ہوتی ہے، مغرب میں ایسی عزت نہیں دی جاتی لیکن حالیہ واقعات کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کی صحیح تربیت نہیں کی جا رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ جنسی جرائم اور اس طرح کی حرکتیں ہمارے دین اور ثقافت کا حصہ نہیں ہے لہٰذا بہت ضروری ہے کہ ہم ساتھ اپنے بچوں کی تربیت کریں جس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انہیں نبی اکرم ﷺ کی زندگی سے آگاہ کریں، وہ دنیا میں سب سے عظیم انسان تھے، نہ کوئی آیا ہے، نہ کوئی آئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں