Global_Warming_1

کبا ڑ کا بزنس اور افغانستان کی پابندیاں

EjazNews

افغان طالبان نے دھاتی کباڑ بیرون ملک لے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
طالبان کے اقتصادی اور مالی امور کے کمیشن کی جانب سے  استعمال شدہ اور پرانے لوہے (دھاتی کباڑ) کے بیرون ملک لے جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں افغان کسٹمز حکام کو تاحکم ثانی پابندی پر عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا تھا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر کم قیمت سکریپ لوہا دستیاب ہے جسے تاجر بیرون ملک لے جارہے ہیں جبکہ ملک میں کارخانوں اور صنعتوں کو اس لوہے کی سخت ضرورت ہے۔

لوہے کی صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق پاکستان میں ضرورت کا 70 فیصد خام لوہا درآمد کیا جاتا ہے جبکہ 30 فیصد ضروریات ملک میں پیدا ہونے والے دھاتی کباڑ سے پوری کی جاتی ہیں

افغانستان سے آنے والا لوہے کو زنگ لگا ہوتا ہے، سرحد پر ان لوڈ اور دوبارہ لوڈ کرتے ہوئے اور بھٹیوں اور کارخانوں تک پہنچتے پہنچتے اس کے وزن میں کمی آجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملک بھر میں کورونا کی صورتحال

ایک امریکی رپورٹ کے مطابق  2014 میں امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا شروع ہوا تو ایک لاکھ 76 ہزار ٹن سکریپ مقامی مارکیٹ میں سات ارب روپے میں فروخت کیا گیا۔
رواں سال اپریل میں امریکی فورسز کے مکمل انخلا کا مرحلہ شروع ہوتے ہی بڑے پیمانے پر فوجی ساز و سامان اور زیر استعمال اشیا کو توڑ کر سکریپ کیا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک عہدے دار کے بیان کے مطابق صرف بگرام ایئر فیلڈ پر فوجی ساز و سامان کے 15 ہزار پرزے سکریپ کیے گئے۔

افغانستان میں 80 فیصد سکریپ تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان سمیت دیگر وسطی ایشیائی ممالک سے آتا ہے جبکہ صرف 20 فیصد سکریپ ان کا اپنا ہوتا ہے. یہ روزانہ ہزاروں ٹن سکریپ بنتا ہے اور افغانستان میں اس کی اتنی کھپت ہے اور نہ ہی وہاں ٹھوس لوہے کو پگھلانے کی بھٹیاں موجود ہیں۔اس لئے طالبان کو جلد یا بدیر یہ پابندی ہٹانا پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  قرار داد پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں