Imran_khan_Meeting

تمام معاشرتی مسائل کا بہترین حل سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات میں موجود ہے:وزیراعظم

EjazNews

قومی یکساں نصاب تعلیم پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئےوزیر اعظم عمران خان نے وزارت تعلیم کی قومی نصاب پر عملدرآمد کی اب تک کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ،قومی یکساں نصاب تعلیم پر عملدرآمد کے عمل کو صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے جلد مکمل کیا جائے،نصاب تعلیم پر عملدرآمد کا مسلسل جائزہ لیا جائے اور ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلیاں لائی جائیں، چھٹی تا بارہویں جماعت کیلئے نصاب کو رواں سال حتمی شکل دی جائے۔بعد ازاں ملک میں سپیشل ٹیکنالوجی زونز کے قیام کے حوالے سے پیش رفت پر بلا ئے گئے اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےوزیر اعظم نے ہدایت کی کہ کاروباری برادری کی سہولت کے لئے ون ونڈو آپریشنز کو یقینی بنایا جائے، چئیرمین سپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی عامر ہاشمی نے اجلاس کو ملک میں مختلف اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کے قیام اور ان زونز میں سرمایہ کاروں کو میسر سہولیات اور مراعات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں ٹیکنالوجی کا فروغ ، تعلیمی اداروں، صنعتی شعبے اور حکومتی اداروں کی مضبوط پارٹنرشپ کا قیام اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لئے موافق فضا کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے،حکومت اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کے حوالے سے سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ہر وہ سہولت فراہم کر رہی ہے جو دنیا کے کسی بھی ملک میں میسر آتی ہیں۔

دبئی ایکسپو میں پاکستان کی شرکت اور اس حوالے سے کی جانے والی تیاریوں پر منعقدہ جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےوزیرِ اعظم نے تمام صوبائی حکومتوں کو ایکسپو کے حوالے سے تیاریوں کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ، اجلاس کو بتایا گیا کہ ایکسپو میں پاکستان کی بھرپور شرکت سے جہاں بین الاقوامی برادری کو پاکستان کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرایا جائے گا وہاں تجارت اور سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھلیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  ہم آئین کو میثاق ملی سمجھتے ہیں اور آئین سے باہر کوئی بات نہیں کر رہے :مولانا فضل الرحمٰن

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایکسپو کا آغاز یکم اکتوبر 2021سے ہوگا جو 6ماہ مسلسل جاری رہے گی۔ وزیر اعظم کو پاکستانی پویلین اور اس کے مختلف حصوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔وزیر اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ ایکسپو کے دوران پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے بیش بہا مواقع کو اجاگر کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ راوی ریور پراجیکٹ، سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ جیسے منصوبوں کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخواہ اور شممالی علاقہ جات میں سیاحت، ملکی معدنی وسائل، آئی ٹی اور مذہبی سیاحت کے فروغ اور ان شعبوں میں بین الاقوامی سرماییہ کاری کو راغب کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے: وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر سمیت تمام صوبوں کی متحرک شمولیت سے ایکسپو کے دوران اہم صوبائی منصوبوں کو اجاگر کیا جائے،بعد ازاں بنیادی اشیائے ضروریہ اور تعمیراتی میٹیریل کی طلب و رسد اور اور قیمتوں میں استحکام کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےوزیرِ اعظم نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کی ترقی و فروغ خصوصاً کم لاگت والے گھروں کی تعمیر میں بلاتعطل پیش رفت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اجلاس میں ملک میں گھی، سیمنٹ اور سریا کی طلب اور رسد اور ان اشیاء کی قیمتوں کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  اقوام متحدہ میں کس وزیر خارجہ نے کیا کہا؟

وزیراعظم نے کہا کہ تعمیرات میں استعمال ہونے والے خام مال اور اسی طرح گھی جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ کی طلب کے مطابق بلا تعطل رسد کو یقینی بنانے اور ان اشیاء کی قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے حوالے سے ہر ممکنہ اقدام برؤے کار لایا جائے۔دریں اثناء وزیر اعظم سے معاون خصوصی ارباب غلام رحیم نے ملاقات کی۔ملاقات میں سندھ کی مجموعی سیاسی صورت حال اور صوبے میں پی ٹی آئی کی موثرتنظیم سازی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔مزید برآں وزیر اعظم عمران خان نے وزارت تعلیم کی قومی نصاب پر عملدرآمد کی اب تک کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ قومی یکساں نصاب تعلیم پر عملدرآمد کے عمل کو صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے جلد مکمل کیا جائے،نصاب تعلیم پر عملدرآمد کا مسلسل جائزہ لیا جائے اور ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلیاں لائی جائیں، تمام معاشرتی مسائل کا بہترین حل سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات میں موجود ہے، چھٹی تا بارہویں جماعت کیلئے نصاب کو رواں سال حتمی شکل دی جائے، رسول خدا ﷺ کی حیات مبارکہ بچوں کو پڑھائی جائے۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی یکساں نصاب تعلیم پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر شفقت محمود،معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، پارلیمانی سیکریٹری محترمہ وجیہہ اکرم اور وفاقی وزارت تعلیم کے سینئر افسران نے شرکت کی ۔وفاقی وزیر شفقت محمود نے اجلاس کو نصاب تعلیم میں شامل سیرت النبی ۖکی تعلیمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس ضمن میں تمام مکاتب فکر خصوصا علماء کرام سے تفصیلی مشاورت کی گئی ہے۔ وزیر اعظم کو بتایاگیاکہ اساتذہ کی ٹریننگ اور امتحانات کے معیار پر توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیرت النبیؐ ہی ہماری نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نبی آخر الزماںؐ کی سیرت کا سب سے اہم پہلو اخلاق و آداب اور حسن معاشرت ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام معاشرتی مسائل کا بہترینحل سیرت النبی ؐکی تعلیمات میں موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ تاریخ اسلام کے ساتھ ساتھ رسول خدا کی حیات مبارکہ سے ماخذ سنہرے اصول بچوں کو پڑھائے اور سمجھائے جائیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ قومی یکساں نصاب تعلیم پر عملدرآمد کے عمل کو صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے جلد مکمل کیا جائے۔ وزیر اعظم نے وزارت تعلیم کی قومی نصاب پر عملدرآمد کی اب تک کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔وزیر اعظم نے کہاکہ نصاب تعلیم پر عملدرآمد کا مسلسل جائزہ لیا جائے اور ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلیاں لائی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ چھٹی تا بارہویں جماعت کے لیے نصاب کو اس سال کے آخر تک حتمی شکل دے دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کی معاون خصوصی نے غیر مشروط معافی مانگ لی

اپنا تبصرہ بھیجیں