sheikh_rasheed

چمن بارڈر کے ذریعے ایک ہزار 270 غیر ملکیوں نے اب تک امیگریشن کروائی ہے:وزیر داخلہ

EjazNews

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ملک کی ترقی کی شہ رگ اور زینہ ہے، جس کے خلاف بین الاقوامی سازشیں ہورہی ہیں، بعض دستانے پہنے ہوئے ہاتھ نہیں چاہتے کہ پاکستان سی پیک میں آگے جائے۔

ان کا کہناتھا افغانستان میں ٹی ٹی پی کے فقیر محمد اور کچھ افراد رہا ہوئے ہیں، اس سلسلے میں حکومت پاکستان وہاں کی متعلقہ قوتوں سے رابطے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایسا وقت آگیا ہے کہ پاکستان کا انتہائی اہم کردار ہوگیا ہے، ہم نے امریکی شہریوں کا بھی وہاں سے انخلا کیا ہے کیوں کہ ہمارے پاس دنیا کے دل جیتنے کا موقع ہے۔

وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کے ساتھ کھڑا ہے، افغانستان کے بارے میں دنیا کی جو خواہشات اور توقعات ہیں ہماری بھی وہی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے موجودہ حالات کے باعث سی پیک بہت اہم ہوگیا ہے اور حکومت کا یہ وعدہ ہے کہ سی پیک کو آگے لے کر جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کو تیار نہیں ہے:چیف جسٹس

انہوں نے کہا کہ چینی شہریوں کی سکیورٹی کا مسئلہ ہے، سی پیک میں کام کرنے والی 40 کمپنیوں کو فوج نے سکیورٹی فراہم کر رکھی ہے لیکن گزشتہ ایک ماہ میں پیش آنے والے واقعات مثلاً داسو بس حملہ، سرینا ہوٹل حملہ، فشر کالونی کے واقعات نشاندہی کرتے ہیں کہ لوگ ہماری دوستی، ترقی کی راہ میں ان لوگوں کی جانوں سے کھیلنا چاہتے ہیں جو نہ صرف پاکستان کے دوست ہیں بلکہ خیر خواہ ہیں۔

وزیر داخلہ شیخ رشیدکا کہناتھا گزشتہ روز چینی سفیر کے ساتھ ملاقات میں ان کو یقین دلایا ہے کہ چینی شہریوں کو ہر قسم کی مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی، جس پر پاکستان کے تمام ادارے کام کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے چینی باشندوں کے خلاف حالیہ حملوں کے کچھ ملزمان گرفتار کرلیے گئے ہیں اور کچھ کے بارے میں ہمارے پاس معلومات ہیں، پاکستانی ایجنسیاں چاروں کیسز کی تہہ تک پہنچ چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دہلی فسادات:اقوام عالم اپنا فرض نبھائیں اور بھارتی بربریت کا فوری نوٹس لیں:وزیراعظم عمران خان

انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ مزید ویزے جاری کرنے کے لیے اپنی صلاحیت میں اضافہ کررہی ہے اور طورخم بارڈر سے بھی لوگوں کو لارہے ہیں، اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز کابل ایئرپورٹ بنا ہوا ہے، لوگ ہم سے یہ توقع کررہے ہیں کہ ہم مختلف مقامات سے لوگوں کو اکٹھا کر کے کابل ائیرپورٹ میں داخل کریں یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے بھی وزارت داخلہ کی ذمہ داری صرف طورخم بارڈر تک ہے، باقی وہ جانے اور ان کا کام جانیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کے بارے میں فی الوقت کوئی فیصلہ نہیں ہوا لیکن جو سرحد پر آرہا ہے اسے ہم سہولت فراہم کررہے ہیں، پہلے ہی ہمارے پاس 30 سے 40 لاکھ افغان پناہ گزین ہیں، اس وقت ہم پر کوئی دباونہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چمن بارڈر کے ذریعے ایک ہزار 270 غیر ملکیوں نے اب تک امیگریشن کروائی ہے جس میں افغان شہری بھی شامل ہیں اور 874 افراد طورخم کے راستے پاکستان آئے۔

یہ بھی پڑھیں:  کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ایک اور فتح

انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ وزیراعظم کی ہدایت پر دیگر وزارتوں کے ساتھ مل کر پورے پاکستان کے لیے ایک ہیلپ لائن بنانے جارہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بعض ممالک نے ٹرانسپورٹ اور دیگر کاموں کے لیے اپنے جہاز پاکستان میں کھڑے کرنے کی اجازت مانگی ہے جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ افغانستان سے آنے والے بین الاقوامی اداروں کے عہدیداران اور سفارتکاروں کو ایک ماہ کا ویزا دیا جارہا ہے، جن لوگوں کے ویزوں کی معیاد ختم ہوگئی ہے انہیں 30 اگست تک جرمانے کی معافی دی گئی ہے، وہ ویزوں کے لیے آن لائن اپلائی کریں اور اس ملک سے نکل جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں