Hamid_karzai_abdullah_abdullah

کابل کے شہریوں کا طالبان کی حکومت پر اطمینان کا اظہار ، اقوام متحدہ کو تشویش

EjazNews

افغان شہریوں نے طالبان کے رویے پر اطمینان کا اظہارکیا ہے۔ملک کے دیگر شہروں کی طرح افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار میں بھی طالبان نے کنٹرول سنبھال لیا ہوا ہے۔

منظر عام پر آنے والی خبروں اور ویڈیوز کے ذریعے پتا چلتا ہے کہ شہر میں امن و امان اور ٹریفک کا نظام چلانےکے لیے جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کردی گئی ہیں۔مقامی افراد نے طالبان کے رویے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہےکہ اگر حالات اسی طرح رہے تو سب لوگ خوش ہوں گے۔

طالبان کے ڈی آئی جی پولیس ملا منیب نے ایک نشریاتی ادارے سےگفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قندھار میں انتظامی اور حکومتی خلاء پرکیاجارہاہے،صورتحال کنٹرول کرنے کے لیے جگہ جگہ چیک پوسٹ قائم کردی ہیں۔

ملا منیب کے مطابق قندھارکے مختلف مقامات سےکئی جرائم پیشہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے حکام نے کہا ہے کہ پورے افغانستان میں صورت حال انتہائی غیرمستحکم ہے اورملک کے اندرانسانی ہمدردی کے لئے مدد کی فوری ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر)کی ترجمان شابیہ مانتونے یہاں ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ اتوار کو طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد سے وسیع پیمانے پر لڑائی میں کمی آئی ہے،تاہم سامنے آنی والی صورت حال کا مکمل اثر ابھی واضح نہیں ہے۔مانتونے کہا کہ افغانوں کی اکثریت باقاعدہ چینلز کے ذریعے ملک چھوڑنے کے قابل نہیں تھی ، انہوں نے مزید کہا کہ یو این ایچ سی آر کے ساتھ کام کرنے والے ملکی اور غیر ملکی تقریبا 200 اہلکار افغانستان میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یو این ایچ سی آر 18 مقامی غیر سرکاری شراکت داروں کے ساتھ پورے افغانستان میں تقریبا 900 ارکان پر مشتمل عملے کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ اس وقت اسے تمام صوبوں تک رسائی حاصل اور دو تہائی اضلاع میں کام کررہا تھا۔ مانتونے بتایا کہ اس سال افغانستان میں 5لاکھ 50ہزارافراد بے گھرہونے پر مجبور ہوئے۔تاہم اس سے پہلے کے بحرانوں کی وجہ سے پہلے سے 29 لاکھ افراد ملک کے اندربے گھر ہیں اورگزشتہ دہائیوں میں26لاکھ افغان باشندے ملک سے فرار ہوکر دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ہانگ کانگ میں پر امن مظاہروں کے بعد پرامن انتخابات

اگر روس کی جانب دیکھا جائے تو روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے زور دیا ہے کہ دوسرے ممالک اپنی اقدار افغانستان پر مسلط نہ کریں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی صدر نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ طالبان نے بیشتر افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔
جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے ملاقات کے بعد ولادی میر پوتن پہلی مرتبہ طالبان کی جانب افغانستان پر قبضے کےحوالے سے بات کر رہے تھے۔

پوتن کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ طالبان افغانستان میں امن و امان کے قیام کے حوالے سے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں گے۔ ’یہ بہت اہم ہے کہ وہ افغانستان سے دہشت گردوں کو دوسرے ممامل میں گھسنے سے روکیں۔‘

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ میں کورونا ریلیف سکیموں سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کیخلاف کارروائی شروع

روسی صدر نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان کو ناکامی سے بچائیں۔ ولادیمیر پوتن نے دہشت گردوں کی مہاجرین کے بھیس میں دوسرے ملکوں میں داخلے سے بھی خبردار کیا۔

پوتن کا کہنا تھا کہ یہ روس کے لیے اہم ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ بہتر پڑوسی کے طور پر اچھے تعلقات رکھے۔

’ماسکو اور اتحادیوں کو افغان عوام کی مدد کے لیے متحد ہونا چاہیے۔‘ روسی صدر کا مزید کہنا تھا کہ روس افغانستان کے استحکام میں دلچسپی رکھتا ہے جو کہ اس وقت نہیں ہے۔

دوسری جانب نیٹو نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کو افغانستان سے انخلا کی اجازت دی جائے۔
افغانستان سے شہریوں کے انخلا کے معاملے پر جمعے کے روز ویڈیو لنک کے ذریعے نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا تھا۔

نیٹو کے تیس رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ طالبان کابل ایئر پورٹ سے شہریوں کی روانگی کو محفوظ اور منظم بنانے میں مدد کی جائے۔

جمعے کو جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ’جب تک لوگوں کے انخلا کا آپریشن جاری ہے، تب تک اتحادی عسکری ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے آپریشنل رابطوں کو یقینی بنائیں گے۔‘

طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے امریکہ اور نیٹو اتحادی اپنے شہریوں کے علاوہ افغان عملے اور دیگر فیملیز کو مخصوص پروازوں کے ذریعے نکال رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  آئی ایم ایف موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق کس خطرے سے ڈرا رہی ہے؟

کانفرنس کے آغاز میں نیٹو کے سربراہ جینس سٹولٹنبرگ کا کہنا تھا غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کو کابل ایئر پورٹ تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم اب تک ہزاروں افراد کو افغانستان سے نکالا جا چکا ہے۔

مئی میں امریکی اور اتحادی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے آغاز کے بعد سے ابھی بھی 800 غیر ملکی سولین سٹاف ملک میں موجود ہے جو کابل ایئر پورٹ کا انتظام سنبھالنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے چینی میڈیا کو انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان میں افغانوں پر مشتمل نئی جامع حکومت کے لیے بات چیت جاری ہے۔ نئے آئین کی تیاری اور منظوری کےلیےطویل وقت درکار ہے۔حکومت میں اہل اور قابل لوگوں کو شامل کیا جائے گا۔

نئی جامع حکومت کے فریم ورک میں تمام افغان زیرغور ہیں اور منتخب کی جانے والی افغان شخصیات کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔
سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ چین افغانستان میں امن اور مفاہمت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے افغانستان کی تعمیر نو کے لیے چین کے تعاون کا بھی خیر مقدم کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ، افغانستان میں سب سے پہلے جامع حکومت کے قیام کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں ابھی اقتدار کا خلا ہے اور کسی قسم کے الیکشن کا وقت نہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی آئین نہیں لہٰذا نیا آئین تیار کرکے منظور کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں