Abdullah Abdullah

افغانستان میں عبد اللہ عبد اللہ اور حامد کرزئی سے پاکستانی سفیر کی ملاقات

EjazNews

منصور احمد خان نے اپنی ملاقات کی تصویر ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے افغانستان میں پائیدار استحکام کے لیے کوششوں پر تعمیری گفتگو کی۔

حامد کرزئی نے ملاقات کے بارے میں ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات میں افغانستان کی موجودہ صورت حال اور جامع سیاسی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کی حامل حکومت بنائی جا سکتی۔

ایک طالبان عہدیدار نے بتایا کہ ایک دن پہلے حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نے طالبان کمانڈر اور حقانی نیٹ ورک کے سینئر رہنما انس حقانی سے ملاقات کی جس کا مقصد جنگ زدہ ملک میں ایک جامع حکومت بنانے کی کوشش کرنا تھا۔
نام طاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے طالبان عہدیدار نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

تاہم حامد کرزئی کے ترجمان محمد یوسف ساہا نے کہا کہ یہ مذاکرات ابتدائی ملاقاتوں کا حصہ تھے جو کہ طالبان کے اعلیٰ سیاسی رہنما ملا عبدالغنی برادر سے حتمی مذاکرات کی راہ ہموار کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  بنگلہ دیش سے جیت تو گئے، پر سیمی فائنل تک رسائی نہ ہو سکی

واضح رہے کہ ایک دہائی قبل امریکا نے طالبان کے اہم دھڑے حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد گروپ قرار دیا تھا لہٰذا آئندہ حکومت میں ان کی شمولیت بین الاقوامی پابندیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

ملاقات سے قبل برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف نک کارٹر نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سابق صدر حامد کرزئی سے رابطے میں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں صبر کرنا ہوگا، ہمیں اپنے اعصاب کو قابو میں رکھنا ہو گا، ہمیں انہیں حکومت بنانے اور صلاحیتوں کے اظہار کے لیے جگہ دینی ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ طالبان 90 کی دہائی کے طالبان سے مختلف ہوں، ہو سکتا ہے کہ وہ کم جابر ہوں اور درحقیقت، اگر آپ اس وقت کابل میں ان کے انداز حکومت کو دیکھیں تو کچھ اشارے ملتے ہیں کہ وہ کافی مناسب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کی ایک وجہ جمہوریت کا نہ ہونا اور بادشاہت کا قائم ہونا تھا جس میں احتساب نہیں ہوتا:وزیراعظم

اپنا تبصرہ بھیجیں