10_Muharram

ملک بھر میں یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

EjazNews

ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں سے جلوس برآمد ہوئے، اس دوران کورونا کے پھیلاو کی چوتھی لہر سے بچاو کے لیے جلوسوں کے لیے قواعد و ضوابط جاری کیے گئے تھے۔

اس موقع پر علمائے کرام و ذاکرین اپنی تقاریر میں حضرت امام حسین کی عظیم اور روشن تعلیمات اور سانحہ کربلا کے مختلف پہلووں کو اجاگر کیا۔

سخت سکیورٹی میں نکالنے گئے ماتمی جلوسوں میں عزاداروں نے ماتم اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے شہدائے کربلا پر ڈھائے گئے مظالم کو یاد کیا۔

جلوسوں کے راستوں میں بڑی تعداد میں نذر و نیاز کا سلسلہ بھی جاری رہا جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جلوس کا فضائی جائزہ بھی لیا۔

کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا جو حسینیہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر ہوا، جلوس سے قبل مرکزی مجلس سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کیا، جلوس کے اختتام پر حسینیہ ایرانیاں میں شام غریباں کا آغاز ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  علیم خان کو ضمانت مل گئی

لاہور میں دسویں محرم کا مرکزی جلوس نثار حویلی اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہوا جو شام میں کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

مرکزی جلوس چوک رنگ محل مسجد وزیر خان چوہٹہ مفتی باقر سوہا بازار اندرون ٹیکسالی گیٹ اور اندرون بھاٹی سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ میں اختتام پذیر ہوا، جلوس میں شامل عزا داروں نے نوحہ کنی، ماتم اور زنجیر زنی کی جس میں خواتین سمیت بچوں اور بوڑھوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

کوئٹہ میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس شہدا چوک علمدار روڈ سے برآمد ہوا جبکہ پشاور میں 10 محرم الحرام کا مرکزی جلوس امام بارگاہ سید رضوی علی شاہ چڑیکوبان سے برآمد ہوا۔

کراچی میں پولیس محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کی سیکیورٹی کے لیے مختلف مقامات پر اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔

10 محرم الحرام کے مرکزی جلوس کے راستوں اور گزرگاہوں سمیت مرکزی جلوس کی نگرانی اور سکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر پولیس کے 6 ہزار 368 افسران و اہلکار اور ریپڈ رِسپانس فورس کی 3 کمپنیاں موجود تھے جبکہ اسپیشل سکیورٹی یونٹ کے 90 اسنائپرز مرکزی جلوس کے اطراف اور گزرگاہوں پر تعینات کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  دفاع کیلئے کتنا بجٹ رکھا گیا ہے؟

شہر بھر میں مجموعی طور پر کراچی پولیس کے 18 ہزار 823 افسران و جوان اور ریپڈ رسپانس فورس کی 12 کمپنیوں کو عزاداروں کی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

یوم عاشور کے موقع پر صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے اپنے الگ الگ پیغامات میں کہا کہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار رفقا کی شہادت اس پختہ عزم اور صبر و تحمل کی علامت ہے کہ ہمیں ہمیشہ حق و صداقت کا ساتھ دینا چاہیے اور حقیقی نصب العین کے حصول کے لیے اپنی جان قربان کرنے سے بھی ہرگز دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے قوم پر زور دیا کہ وہ حضرت امام حسینؓکی تعلیمات کے مطابق نفرت، بدنیتی اور فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر متحد رہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مذہب، قوم اور ملک کے استحکام کے لیے عزم و حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر طرح کی قربانیوں کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ دنیا و آخرت میں کامیابی کا یہی واحد راستہ ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے قوم پر زور دیا کہ ہر طرح کے جھوٹ اور بدگوئی کو ترک کر کے سچائی و انصاف کی معاونت کے ذریعے حضرت امام حسینؓ کو خراج عقیدت پیش کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  سابق وزیراعظم نواز شریف کے اثاثوں کی قرقی کا حکم عدالت عالیہ نے دے دیا

انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین ؓآنے والے تمام وقتوں میں ظلم و ستم کے خلاف جدوجہد کے لیے طاقت اور جھوٹ کے خلاف قوت کی علامت بن چکے ہیں۔

عمران خان نے لوگوں پر زور دیا کہ ہمیں حضرت امام حسین ؓکی پیروی کرتے ہوئے حق و صداقت اور انصاف کے اصولوں کی سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے ہرگز دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں