da afghanistan

طالبان نے افغانستان اسلامی امارات کے جھنڈے اور سرکارن نشان کا اعلان کر دیا

EjazNews

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ ملک کو برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کیے 102 سال مکمل ہونے کی خوشی میں ہم افغانستان اسلامی امارات کے قیام کا اعلان کرتے ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے افغانستان اسلامی امارات کے جھنڈے اور سرکاری نشان کی تصویر بھی شیئر کی۔

انہوں نے کہا کہ امارات اسلامی تمام ممالک کے ساتھ بہتر سفارتی اور تجارتی تعلقات چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ کسی ملک کے ساتھ تجارت نہیں کریں گے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہیں جھوٹی ہیں جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق اے بی سی کے گڈ مارننگ امریکا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں جو بائیڈن نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ طالبان اس بات کے خواہاں ہیں کہ عالمی برادری انہیں ایک جائز اور قانونی حکومت کے طور پر تسلیم کرے جبکہ وہ اس وقت وجودی بحران کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا اپوزیشن حکومت کیخلاف تحریک چلا پائے گی؟

انہوں نے یہ بھی کہا کہ القاعدہ اور ان سے وابستہ تنظیموں کا خطرہ افغانستان کے مقابلے میں دنیا کے دیگر حصوں میں زیادہ ہے، شام یا مشرقی افریقہ میں القاعدہ سے وابستہ افراد کی وجہ سے منڈلاتے خطرے کو نظر انداز کرنا عقلمندی نہیں جہاں ان خطوں میں امریکا کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

امریکی صدر نے افغانستان سے امریکی انخلا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ سب سے زیادہ خطرہ کہاں ہے۔

جو بائیڈن نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے حوالے سے تحفظات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فوجی طاقت کے ذریعے دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی کوشش سمجھداری نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بجائے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں پر سفارتی اور بین الاقوامی دباو ڈالنا چاہیے تاکہ وہ اپنا رویہ بدلیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سعودی عرب کا تاریخی قانون تبدیل

اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ اگر افغانستان میں امریکی شہری رہ گئے تو جب تک ہم انہیں نکال نہیں لیتے، اس وقت تک ہمیں وہاں رہنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان، افغانستان سے امریکیوں کے انخلا میں تعاون کر رہے ہیں البتہ افغان شہریوں کو وہاں سے نکالنے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ طالبان تبدیل نہیں ہوئے ہیں بلکہ وجود کے حوالے سے بحران سے گزر رہے ہیں اور مجھے نہیں پتا کہ وہ اپنی حکومت کے حوالے سے عالمی برادری کی منظوری چاہتے ہیں یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے فیصلے پر قائم ہوں، 20 سالوں کے بعد میں نے مشکل طریقہ سیکھا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کا کبھی اچھا وقت نہیں آئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں