Covid_No Fair

کورونا جس نے دنیا بھی بدل دی اور زندگی کے انداز بھی

EjazNews

پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی مہلک وبائی مرض ،کورونا سے متاثر ہے۔اس مرض کی وجہ سے اب تک ہزاروں افراد جاں بحق ہو چُکےہیں اور کئی زندگی اور موت کے بیچ جُھول رہے ہیں۔ کورونا وائرس کے اثرات نے سماجی نظام ِ زندگی کو شدید متاثر کیاہے۔کوئی ایک شعبہ ایسا نہیں،جواس سے متاثر نہ ہوا ہو۔کیا ڈاکٹر ، تاجر، وکیل،ادیب ، سیاست دان ، مذہبی شخصیات ،بچّے ،بوڑھے سب ہی اس سے متاثر ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان متاثرین کی تعدادمیں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے اس وبا نے پوری دنیا کو یک سر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ مل بیٹھنا،باہمی گفت و شنید، سفری تقاضے، مکالمے ، مباحثے،تفریحی مواقع، کھیل کے میدان، کاروباری طریقۂ کار، عبادات ،تعلیمی نظام ،ملکی و بین الاقوامی ترجیحات،سب ہی کچھ توبدل کے رہ گیا۔لوگوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ شاید یہ دنیا میں زندگی کی آخری صدی ہے، واللہ عالم۔کورونا کی وجہ سے نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ایک ساتھ مل بیٹھنا تو درکنار، اب تو ایک دوسرے سےگفتگو تک کرنے میں بھی خوف محسوس ہوتا ہے۔گھنٹوں بازاروں میں پھرکر، بیسیوں دُکانیں چھاننے والی خواتین تک آج آن لائن خریداری پر مجبور ہو گئی ہیں۔لگتا ہے آن کی آن میں دنیا کا ’’پاز‘‘ بٹن دبا دیا گیا ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیںکہ اتنی تباہی اور انسانی جانوں کے زیاں کے بعد، کورونا کا خوف ایک طویل عرصے تک، بلکہ شاید ویکسین کی دریافت کے بعد تک لوگوں کے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لیے رکھے گا۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ لاک ڈاؤن، کرفیو کی سی کیفیت، ڈر ڈر کر جینےکا سلسلہ آخر کتنے دِنوں تک جا ری رہے گا…؟؟یہ کوئی مستقل حل تو نہیں، تو بہر حال ہمیں زندگی جینے کے تقاضے بدلنے پڑیں گے۔دنیا کورونا سے تباہ حال سوشل اسٹرکچر کی تعمیرِ نوکے لیے مختلف طریقہ ہائے کار پر سوچ بچار کررہی ہے۔معاشرتی فاصلے کو سمجھنے اور اس کو مد ّ ِنظر رکھ کر نظام ِزندگی چلانے کے نئے نئے طریقے اخذ کیے جا رہے ہیں۔ہوٹلز،اسکولز،معالجین ،اشیائے خورونوش کی خریداری تک سب کچھ موبائل کے ایک ’’ٹچ‘‘ پر میّسرآنے لگا ہے۔ لیکن دوسری جانب، اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ گو کہ پاکستان کے بچّے بچّے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون نظر آتا ہے، مگر اب بھی عوام النّاس کو آن لائن نظام سے ہم آہنگی میں خاصا وقت لگے گا۔ بہر کیف، حالات کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے اب ہمیں بھی اپنا آپ آن لائن نظام کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا،اب وہ چاہے آن لائن خریداری ہو، تعلیم یا صحت کے معاملات ۔ اِسی آن لائن سسٹم کو دھوکا دہی اور فراڈ سے پاک وشفاف بنانا ہوگا۔ابتداًاس نظام کو نافذ کرنے میں تھوڑی دقّت تو ضرور ہوگی ،لیکن اس کے دیر پا اور مثبت نتائج سے انکاربھی ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر جب طبقاتی تفریق اور فیسز کے بوجھ تلے پرورش پاتی نوجوان نسل کو،مصنوعی رویّوں، اے-سی کلاس رومز،متاثر کُن زیبائش سے آراستہ سکول ، کالجز کی عمارتوں سے ہٹ کر، سستی اور معیاری تعلیم ملے گی تو نتائج اچھے ہی حاصل ہوں گے، خراب نہیں۔یہاں دینی مدارس کے منتظمین کو بھی چاہیے کہ وہ بھی حالات کو مدّ ِ نظر رکھتے ہوئے اپنے تعلیمی نظام کو آن لائن کرنے کی کوشش کریں، خود کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالیں ، تاکہ وہ بھی گھر بیٹھے، محدود وسائل کے ساتھ گھر گھرتک اپنے اندازِ تعلیم کو رواج دے سکیں۔اور اس نظام کو متعارف کروانے کے لیےسب سے پہلے اپنے اساتذہ کو آن لائن سسٹم سے آگاہی اور تربیت فراہم کریں۔مدارسِ دینیہ کے نصاب کو عربی ،اردو ،انگلش زبان کی سہولت کے ساتھ جد ید ایپلی کیشنز میں لانچ کریںکہ اس عمل سے پوری دنیا سے طلبہ کی صُورت ایسی کھیپ حاصل ہوگی ،جو پھرکسی بھی مُلک، جگہ،مقام پر رہتے ہوئے دین کے پیغام کو عام کرسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  متبادل تصوف(۳)

کورونا وائرس کے بعدبہت سے شعبوں میں تبدیلی کے مثبت مواقع میسر آئے ہیں۔اس میں مقامی سطح کے تمام شعبے چاہے وہ امن و امان سے وابستہ ہوں ،مالیاتی یاصحت و انصاف سے متعلق تمام میں عصرِ حاضر کے مطابق سماجی دوری کو مدّ ِ نظر رکھتےہوئےجدّت لائی جاسکتی ہے۔جیسے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں آن لائن خریداری کو فروغ حاصل ہوا۔ کون نہیں جانتا کہ دُکان خریدنے یا کرائے پر لینے، پھر بزنس سیٹ کرنے میںکتنا وقت اور محنت لگتی ہے، پھر رِسک فیکٹر الگ کہ نہ جانے کام چلے گا یا نہیں، تو آن لائن خرید و فروخت کے نظام نے دکان لینے، سیٹ کرنے وغیرہ کے جھنجھٹ سے تو چھٹکارا دلوا ہی دیا ہے کہ اب بس تمام تر توجّہ بزنس کی تشہیر اور کام پر مرکوز رکھنی ہوگی۔جو کاروباری افراد ابھی تک آن لائن سسٹم سے نا بلد ہیں، انہیں بھی چاہیے کہ اپنا کاروبار نئےسسٹم کے مطابق ڈھال لیں کہ جب وہ اپنی مصنوعات صحیح معلومات کے ساتھ مناسب داموں فروخت کے لیے پیش کریں گے ،تو نہ صرف اس دَوڑ میں اچھا بزنس کر سکیں گے،بلکہ نامی گرامی پلازا، مالز،دکانوں، ظاہری نمود و نمائش ، وغیرہ کے اخراجات اوربھاری بھرکم بلزادائیگی کی مصیبت سے بھی آزاد ہو جائیں گے۔

دوستو! مہلک وبائی مرض، کورونا کے آنے سے نظامِ زندگی کا یک سر بدل جانا ایک تلخ حقیقت ہے۔یقینا ًیہ تبدیلی قبول کرنا، اس کے مطابق اپنے معمولات بدلنا بے انتہا مشکل تو ضرورہے، لیکن نا ممکن ہر گز نہیں۔یا درکھیں!آج تک وہی قومیں کام یاب ہوئی ہیں، جنہوں نے حالات کا رُخ بھانپ کر بر وقت صحیح سمت کا تعین کیا۔اس کے بر عکس جن قوموں نے چشم پوشی کا مظاہرہ کیا، ان کے ابترحالات سے بھی تاریخ بھری پڑی ہے۔اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی قوم کا نام، کام یاب قوموں کے باب میں درج کروانا چاہتے ہیں یا ناکام قوم کے نام سے پہچان بنانی ہے۔

ہم سب اپنی اپنی زندگیوں میں مگن تھے۔ وہ زندگیاں، جومشینوں کی طرح رواں دواں تھیں۔ کسی کو کبھی خیال ہی نہ آیا کہ ہم توایک ریس میں دوڑے جا رہے ہیں، ایسی ریس، جس کا کوئی اختتام ہی نہیں، جس میں ہر کوئی بس دوسرے پر سبقت لے جانے کی غرض سے بنا منزل کا تعیّن کیے بھاگے جا رہا ہے۔ حضرتِ انسا ن ، اپنے خالق ومالک کو بھول بیٹھا تھا، بلکہ خود کو خدا سمجھنے لگا تھا۔ بس پھر کیا تھا، اس دنیا جہاں کے مالک نے ایک اَن دیکھے، معمولی ، حقیر وائرس کے ذریعے سب کو اپنے ہونے کا احساس دلا دیا۔ کورونا نامی ایسی وبا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تھم گیا۔کیا زندگیاں، کیا کاروبار، سب رُک گیاہے۔ جیسے ہماری مشینی زندگی کا بٹن اسٹاپ کر دیا گیاہو۔ انسانوں کو بتادیا گیا کہ بس ربّ کے’’ کُن‘‘ کہنے کی دیر ہےاورپھروہ جو چاہے گا، وہی ہوگا۔

وہ ممالک ، سُپر پاورز، ترقّی یافتہ اقوام جو خود کو سب سے بہتر، طاقت وَر سمجھتی تھیں ،آج اِک معمولی وائرس کورونا کے سامنے بے بس ہیں۔ چِین کے صوبے ووہان سے پھیلنے والا یہ وائرس جب پاکستان پہنچا ،تو اس سے بچنے کے لیے صوبائی اور قومی سطح پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکے۔ لاک ڈاؤن ، جو عوام کو سزا تو لگا لیکن اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں، بالخصوص نوجوان نسل کو معلوم ہوا کہ گھر صرف سونے کے لیے اور گھر والے صرف ساتھ رہنے کے لیے نہیں ہوتے ،ان سے دِلوں کا جُڑنا، اُن کے ساتھ وقت گزارنا بھی انتہائی ضروری ہے۔مشینی زندگیاں جب ’’پاز‘‘ ہوئیں تو احساس ہوا کہ حقیقی زندگی، اپنوں کے ساتھ مل بیٹھنے کی خوشی کیا ہوتی ہے۔ وہ لوگ، کام اور معمولات جو ہماری زندگیوں کا لازمہ بن چُکے تھے،جن کے بغیر زندگی کا تصوّر ہی ممکن نہیں لگتا تھا ، اب پتا چلا کہ ان کے بغیر بھی زندگی ممکن اور پُر سکون ہے۔ پہلے جن گھر والوں سے صرف سلام، دُعا کی حد تک بات چیت ہوتی تھی ، اب اُن کے بغیر دن ہی نہیں گزرتا۔ یہ وبا شاید ہمیں یہ بتانے، سکھانے آئی ہے کہ یہ جو ہم سب آگے بڑھنے کی دَوڑ میں لگے ہیں ناں، اگر اللہ پاک نہ چاہے، تو ہم ایک قدم بھی اُٹھا نہیں سکتے۔ کورونا کا آنا ، زندگیوں کا تھمنا ، اصل زندگی سے ملوا گیا۔ دوسری جانب، ہمیں یہ احساس بھی ہوا کہ زندگی کی اصل قدر و قیمت کیا ہے، اس صحت مند زندگی، خوش گوار ماحول ،آزادی کو جسے ہم ’’فار گرانٹڈ‘‘ لیتے تھے ، وہ اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے، جس پر ہم نے کبھی اپنے مالک کا شُکر ہی ادا نہیں کیا۔یاد رکھیں ! ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کرتے رہیں،کیوں کہ ہم نہیں جانتے کہ آنے والا وقت کیسا ہوگا،تو بعد میں پچھتانے اور یادوں پر آنسو بہانے سے اچھا ہے کہ ہم آج ، اس پَل کو بھر پور جی لیں۔ اپنوں کا ساتھ انجوائے کرلیں، اس سے پہلے کہ یہ وقت گزر جائے،اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ اپنی شخصیت کو ، خوبیوںکو تلاش کریں، انہیں نکھاریں، کیوں کہ یہ وقت بھی پچھلے وقتوں کی طرح بالآخر گزر ہی جائے گا اورپھر ایک کہانی کی صُورت، ہماری کتابوں،تاریخ کا حصّہ بن کےرہ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  بیوروکریسی کی اصلاحات کیلئے بننے والی کمیٹیاں

بلا شبہ یہ صدی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ہے۔ ایک طرف انسان دوسرے سیاروں پر زندگی،پانی اور دوسری معدنیات کی تلاش میں سرگرداں ہے،تو دوسری جانب ہر گزرتے دن کے ساتھ نِت نئی ایجاد ات بھی کر رہا ہے۔اور یہ سلسلہ برسوں سے جا ری ہے، پھر اچانک یوںہوا کہ کرئہ ارض پر ’’وہ‘‘ آیا اور بس، جیسے پوری دنیا بدل ہی گئی ۔ کہنے کو تو وہ، کورونا ایک حقیر سا ذرّہ ہی ہے، لیکن اس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچایا دیاہے۔ سائنس دان حیران، زندگی پریشان ہے،توکرئہ ارض پر ایک طرح سےصفِ ماتم بچھی ہے۔ دنیا کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے، موت سے زیادہ تنہائی نے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ مشرق سے مغرب ،شمال سے جنوب تک بس ایک ہی آواز، ایک ہی موضوع ہے ’’کورونا … کورونا…‘‘تقریباً پوری دنیا ایک قیدی کی سی زندگی بسر کر رہی ہے۔ نہ آزادی کے ساتھ کہیںآجا سکتے، نہ کسی سے مل جُل سکتے ہیں، ہر لحظہ ایک خوف سا طاری ہے۔پورےماحول میں ایک وحشت سی ہے اور کیوں نہ ہو کہ اب تک لاکھوں افراد موت کی آغوش میں جوچلے گئے اورکئی آئسو لیشن سینٹرز میں زندگی وموت کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ کاروبار ِزندگی منجمد ، تعلیمی ادارے، کارخانے، فیکٹریاں سب بند ہیں۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصورہو کے رہ گئے ہیں۔بار بار ہاتھ دھونے سے جراثیم مریں یا نہیں، لیکن نفسیاتی مریضوں کی تعداد میں ضرور اضافہ ہو رہا ہے۔ کوئی اسے عذابِ الٰہی کہہ رہا ہے، کوئی بیماری،توکسی کی نظر میں یہ ترقّی پذیر ممالک کو مزید کم زور کرنے کی سازش ہے۔ لیکن یہ جو کچھی بھی ہے اس وقت حضرتِ انسان ،جو اشرف المخلوقات ہے،وہ اس کے زیرِ عتاب ،کرب بے بسی اور بے کسی کی تصویر ہی بنانظر آرہا ہے ۔بقول شاعر ؎ مصروفیات سے کبھی اتنے نہیں تھکے…بے کار بیٹھنے سے ہیں جتنے نڈھال ہم۔

یہ بھی پڑھیں:  The U.S.A. and the World

ویسےجتنی صداقت اس بات میں ہےکہ اس صدی میں آج سے پہلے شاید ہی کبھی انسان اس قدر بے بس ہوا ہو کہ آزادہوتے ہوئے بھی آزاد نہیں، اتنی ہی سچّی یہ بات بھی ہے کہ آج کے دَور کا انسان خود کو عقلِ کُل، طاقت وَر ترین ، دنیا جہاں کا بادشاہ سمجھنے لگا تھا۔ کسی کا احساس، لحاظ ،مروّت نہ تھی۔ طاقت کے نشے میں چُور،لالچ، حرص و ہوس اور بددیانتی کا پیکر بنا خود سے کم تر لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا تھا۔ اور یہ حال صرف غیر مسلموں کا نہیں، مسلمانوں کا بھی تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک حقیر سے وائرس کے ذریعے سب پر عیاں کردیا کہ اس دنیا اور تمام جہانوں کا مالک و خالق صرف وہی ہےاوراس کی مرضی کے بنا ایک پتّا بھی نہیں ہِل سکتا۔ قر آن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں، منافقوں کی نشانیاں ، پچھلی قوموں پر عذاب کی وجوہ بیان کیں، تاکہ اُمتّ ِ محمّدی ﷺ عبرت حاصل کر ے، سبق سیکھے۔لیکن بد قسمتی سے ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ وہ کتاب، جو آج سےساڑھے 14سو سال قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی، وہ رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے راہِ ہدایت ہے، جس میں ہر مصیبت ،ہرپریشانی کا علاج ہے، جو ڈرانے والی بھی ہے اور خوش خبری سُنانے والی بھی۔لیکن آج کے مسلمان کے اطوار اللہ کی مقرر کردہ حدود سے بالکل اُلٹ نظر آتے ہیں۔ ہر گھر میں قر آن تو ہے، مگر جزدان لپٹا طاق پر رکھاہوا ہے، جسے کھول کر پڑھنے، سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی۔یہی وجہ ہے کہ ہم راہ سےبھٹک گئے ہیں، بے راہ روی، جہالت عام ہو گئی ہے۔اور اللہ کی نا فرمانی، حکم عدولی کے نتیجے میں عذاب نہیں آئے گا، تو کیا من و سلویٰ اُترے گا…ذرا سوچیے !آج ہر کوئی بار بار ہاتھ دھونے ،صاف ستھرا رہنے کی تلقین کر رہا ہے، جب کہ ہمارا دین 14سو سال پہلے صفائی کو نصف ایمان قرار دے چکا ہے۔ وضو اور غسل کے فرائض قرآن مجید میں واضح الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں ۔وضو کیا ہے، صفائی ہی کا تو حصّہ ہے۔لہٰذا یاد رکھیں، اسلام کو دینِ فطرت یونہی نہیں کہا جاتا، اس میں زندگی گزارنے کا مکمل سلیقہ موجود ہے۔ اس میںمعاشی، معاشرتی ، اخلاقی ہر پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے، اچھی زندگی گزارنے کے سب گُر سکھائے گئے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ کیسے اللہ کے احکامات کی پابندی کرکے اپنی دنیا و آخرت سنواریں یا دونوں ہی برباد کرلیں۔ اب بھی وقت ہےکہ توبہ کے دروازے بند نہیں ہوئے ، ہمیں زیادہ سے زیادہ توبہ استغفار کرنی چاہیے تاکہ اللہ پاک جلد از جلد ہم سے راضی ہو جائے اور کورونا نامی اس عذاب کا خاتمہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں