Taliban_spokes_Person

افغانستان میں زندگی ڈگر پر آنا شروع ہو گئی

EjazNews

طالبان کے مرکزی رہنما ملا عبدالغنی برادرآٹھ دیگر ارکان کے ہمراہ قندھار میں موجود ہیں۔ عبدالغنی برادر گزشتہ رات دوحہ سے افغانستان پہنچ گئے تھے۔
طالبان کی جانب سے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد امریکہ نے افغان مرکزی بینک کے امریکہ میں 9.5 بلین ڈالر کے اثاثے منجمد کر دئیے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدہ دار نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان کو رقم کی ترسیل روک دی ہے، افغان حکومت کے امریکہ میں موجود اثاثے اب طالبان کو دستیاب نہیں ہوں گے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے طالبان کو اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔

دوسری جانب افغان مرکزی بینک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے کرنسی کے ذخائر زیادہ تر غیر ملکی کھاتوں میں موجود ہیں اور طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد ان ذخائر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔

افغانستان میں خواتین اپنی تعلیم شروع کر چکی ہیں اور اپنے تعلیمی اداروں میں واپس آنا شروع ہو چکی ہیں

افغان مرکزی بینک کے ذخائر کی مالیت تقریبا 9 بلین ڈالر ہے جن میں سے تقریبا 7 بلین ڈالر مالیت کی نقد رقم، سونے کے امریکی بانڈز اور دیگر کاغذوں کے مرکب امریکی فیڈرل ریزرو بینک میں رکھے گئے ہیں۔

دوسری جانب سابق قائم مقام گورنر اجمل احمتی نے ٹویٹر پر کہا ہے افغانستان کے بین الاقوامی ذخائر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے اور وہ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریزرو بینک کے اکاؤنٹ سے افغانستان کا کوئی بھی پیسہ چوری نہیں ہوا ہے۔ میں ایسے منظر نامے کا تصور بھی نہیں کر سکتا جہاں خزانے اور فنڈز تک طالبان کو رسائی حاصل ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  حج درخواستیں5لاکھ سے متجاوز ، مسجد قبا24گھنٹے کھولنے کا فیصلہ

دوسری جانب ایک دلچسپ واقعہ کی ویڈیو ایک ایرانی صحافی نے شیئرکی ہے۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اس فوٹیج میں کابل کے ایک چوراہے پر ہونے والے احتجاج کرنے والی خواتین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر خواتین کو سیاسی عمل کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔

احتجاج کرنے والی خواتین نے برقعے پہنے ہوئے ہیں لیکن انہوں نے اپنے چہرے نہیں ڈھانپ رکھے تھے۔ طالبان کے خلاف نعرے لگانے کے دوران طالبان جنگجو بھی موجود تھے، جو اپنے خلاف احتجاج کے باوجود اِن خواتین کی حفاظت کرتے رہے۔

مسیح علی نیجاد نامی ایک ایرانی صحافی کی جانب سے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ بہادر افغانی خواتین کابل کی سڑکوں پر اپنے حقوق کے لیے طالبان کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں، خواتین کا مطالبہ ہے کہ اُنہیں کام کرنے، تعلیم حاصل کرنے اور سیاسی شعبے میں حصہ لینے کا حق دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  دو بدو کی کیفیت ختم : جو بائیڈن جنوری میں اقتدار سنبھالیںگے

دوسری جانب طالبان کے سیاسی ونگ کے سربراہ ، نائب امیر ملاعبدالغنی برادر کے افغانستان پہنچ گئے ہیں،طالبان کے شریک بانی اور امریکا سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے سربراہ ملا برادر 20برس بعد قندھار پہنچے ہیں جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل میں اقتدار کے خلا کے باعث ملا برادر کو فوری طور اہم ذمہ داری دئیے جانے کا امکان ہے،دوسری جانب کابل دوسرے روز بھی پرامن رہا ، افغان دارالحکومت میں معمولات زندگی بحال ہوگئے ہیں ، دکانیں اور کاروباری مراکز کھلنا شروع ہوگئے ، سڑکوں پر ٹریفک بھی رواں دواں نظر آئی۔

طالبان کے نائب امیر مولوی یعقوب نے اپنے ایک آڈیو پیغام میں طالبان کوحکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کے گھروں میں داخل نہ ہونے اور بالخصوص کابل میں سفارتی گاڑیوں کا راستہ نہ روکیں،طالبان کی جانب سے تمام سرکاری ملازمین کو ڈیوٹیاں سنبھالنے کی ہدایت کردی گئی ۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلمانوں کیخلاف اتنی نفرت کیوں؟

طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے ٹوئٹر پر بتایا کہ دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر قطر سے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ افغانستان پہنچ گئے ہیں۔

طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کے قطر سیاسی دفتر میں موجود قیادت دوحہ سے ہنگامی طور پر قندھار پہنچی ہے جہاں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، ملا عبدالغنی برادر نے افغانستان روانگی سے قبل قطری وزیر خارجہ سے ملاقات کی جس میں افغانستان کی سیاسی اور سکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

الجزیرہ کی رپورٹنگ کے مطابق افغانستان میں زندگی اپنی ڈگر پر واپس آنا شروع ہو چکی ہے۔ افغان خواتین اپنے تعلیمی اداروں میں جانا شروع ہو گئی ہیں اور اسی طرح سرکاری ملازمین بھی اپنی ڈیوٹیاں انجام دینا شروع کر رہے ہیں۔

کابل میں طالبان کے اعلیٰ سطحی وفد نے عاشورہ محرم کے انتظامات کا جائزہ لیا اور اور اس ضمن میں سکیورٹی انتظامات دیکھنے کے ساتھ ساتھ مقامی امام بارگاہ میں محرم کی مجلس میں کچھ دیر شرکت کی ۔

طالبان رہنما نے عزاداروں سے مختصر خطاب بھی کیا اور انہیں مکمل تحفظ کی یقینی دہانی کرائی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں