Afghan_media

طالبان نے خواتین کو میڈیا پر کام کرنے کی اجازت دے دی

EjazNews

طالبان کے دارلحکومت کابل کا کنٹرول سنبھالتے ہی زیادہ تر چینلز نے خواتین اینکرز کو ٹی وی سکرینوں سے ہٹا دیا تھا۔
تاہم کچھ ہی دنوں بعد سوشل میڈیا پر ایک تصویر اور ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں ایک خاتون اینکر کو طالبان کی میڈیا ٹیم کے نمائندے سے گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ویڈیو میں خاتون رپورٹر کابل سے لائیو رپورٹنگ کر رہی ہیں۔

طالبان کے کنٹرول سنبھالتے ہی سب سے زیادہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ بیان طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی کی جانب سے سامنے آیا۔

جہاں کابل میں زیادتیوں یا لڑائی جھگڑوں کی کوئی بڑی رپورٹس سامنے نہیں آئی ہیں وہیں بہت سے افراد گھروں میں ہی ہیں اور طالبان کے قبضے کے بعد جیل خالی اور حکومتی اسلحہ لوٹ لیے جانے کے بعد خوفزدہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکی صدر اور فرسٹ لیڈی کا کرونا ٹیسٹ مثبت آگیا

انعام اللہ نے افغانستان میں ان کی حکومت کے لیے امارات اسلامیہ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ امارات اسلامیہ نہیں چاہتی کہ خواتین متاثر ہوں، شرعی قوانین کے مطابق انہیں حکومتی اسٹرکچر میں ہونا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کا اسٹرکچر مکمل طور پر واضح نہیں ہے تاہم تجربے کی بنیاد پر ایک مکمل اسلامی قیادت ہونی چاہیے اور تمام فریقین کو اس میں شامل ہونا چاہیے۔

انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں جس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ لوگ پہلے ہی اسلامی قوانین کو جانتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ دنیا افغانستان میں ہونے والے پیش رفت کی پیروی کر رہی ہے جس کے بارے میں گہری تشویش ہے۔

طالبان اور افغان حکومت کے کئی عہدیداروں کے درمیان بات چیت جاری ہے بشمول سابق صدر حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ جو کبھی ملک کی مذاکراتی کونسل کے سربراہ تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ٹی آئی نے اپنے دو اراکین کو پارٹی سے کیوں نکالا؟

صدر اشرف غنی اس سے قبل طالبان کی پیش قدمی کے دوران ملک سے بھاگ گئے تھے اور ان کا ٹھکانہ نامعلوم ہے۔

مذاکرات کا براہ راست علم رکھنے والے ایک عہدیدار جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سینئر طالبان رہنما امیر خان متقی قطر سے کابل پہنچ چکے ہیں۔وہ طالبان کے آخری دور حکومت میں وزیر تعلیم تھے۔انہوں نے اشرف غنی کے بھاگنے سے پہلے ہی افغان سیاسی رہنماؤں سے رابطہ کرنا شروع کر دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں