imran_khan_cabina

پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں سینئر کابینہ اراکین اور سروسز چیفس نے شرکت کی۔ شرکاء کو افغانستان میں تازہ ترین پیش ہائے رفت اور اس کے پاکستان اور خطہ پر ممکنہ اثرات پر بریفنگ دی گئی۔ خطہ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پاکستان افغانستان میں دہائیوں پر محیط جاری تنازعہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لہٰذا وہ خطہ میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ عالمی برادری پاکستان کی چار دہائیوں سے دی جانے والی قربانیوں کا اعتراف کرے۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں عدم مداخلت کے اصول پر سختی سے کاربند رہا جائے۔ کمیٹی نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اب تک تشدد کے کسی بڑے واقعہ کو رونما نہیں ہونے دیا گیا اور افغانستان میں تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ قانون کی عملداری کا احترام کیا جائے، تمام افغانوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی دہشت گرد تنظیم یا گروہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے پائے۔

یہ بھی پڑھیں:  سابق صدر اور جنرل (ر) پرویز مشرف کی زندگی پر مختصر نظر

وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ افغانستان سے انخلاء کے خواہشمند تمام پاکستانیوں ، سفارتکاروں، صحافیوں اور بین الاقوامی تنظیموں کو واپس لانے کے لئے تمام ممکنہ سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔کمیٹی نے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کیا کہ افغان تنازع کا کبھی بھی کوئی فوجی حل نہیں تھا، تنازع کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کا بہترین وقت وہ ہو سکتا تھا جب امریکا اور نیٹو کی افواج بھرپور عسکری طاقت کے ساتھ افغانستان میں موجود تھیں۔ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی مزید طویل عرصہ تک موجودگی سے بھی کوئی مختلف نتائج برآمد نہ ہوتے لہٰذا بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے افواج کی واپسی کے حوالہ سے گذشتہ امریکی انتظامیہ کے فیصلہ کی توثیق درحقیقت اس تنازع کا منطقی حل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں