Taliban_kabul

20برس بعد طالبان کو ایک مستحکم اور تعمیر شدہ افغانستان واپس مل گیا

EjazNews

مئی کے اوائل میں نیٹو نے افغانستان میں اپنے مشن سے حتمی انخلا شروع کیا جس میں9 ہزار 600 فوجی شامل تھے جبکہ ان میں سےڈھائی ہزار امریکی تھے۔جنوبی صوبہ ہلمند میں جلد ہی طالبان اور سرکاری فورسز کے درمیان شدید لڑائی شروع ہو گئی۔ کابل میں 8 مئی کو گرلز سکول کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں 85 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر طالب علم تھے۔ سال میں ہونے والے مہلک ترین حملے کا الزام طالبان پر عائد کیا گیا حالانکہ انہوں نے اس کا دعویٰ نہیں کیا۔

امریکی افواج قندھار میں افغانستان کے سب سے بڑے ہوائی اڈوں میں سے ایک سے نکل گئیں،اس کے بعد طالبان نے کابل کے قریب وردک صوبے اور اہم صوبے غزنی پر قبضہ کر لیا، جون کے وسط تک انہوں نے شمالی صوبوں کے کئی اضلاع پر قبضہ کر لیا اور فوجی پسپائی پر مجبور ہو گئے۔

طالبان نے 22 جون کو تاجکستان کے ساتھ شیر خان بندر کی مرکزی گزرگاہ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ حکام نے 2 جولائی کو بگرام سے تمام امریکی اور نیٹو فوجیوں کی روانگی کا اعلان کیا ۔ دو دن بعد طالبان نے قندھار کے اہم ضلع پنج وائی پر قبضہ کر لیا۔

طالبان نے 9 جولائی کو افغانستان کی ایران کے ساتھ سب سے بڑی سرحدی گزرگاہ اسلام قلعہ پر قبضے کا اعلان کردیا۔

14 جولائی کو باغیوں نے پاکستان کے ساتھ سپن بولدک بارڈر کراسنگ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ طالبان نے اپنا پہلا افغان صوبائی دارالحکومت جنوب مغربی نیمروز کے شہر زرنج پر قبضہ کر لیا اور اسے بغیر کسی لڑائی کے لے لیا۔ اگلے دنوں میں کئی دوسرے شمالی شہر بھی قبضے میں آگئے۔

یہ بھی پڑھیں:  بلوچستان میں بدلتا موسم

اشرف غنی 11 اگست کو اپنی افواج کو جمع کرنے کے لیے محصور شمالی شہر مزار شریف چلے گئے۔ لیکن ان کا دورہ قریبی قندوز میں سینکڑوں افغان فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے اور نویں صوبائی دارالحکومت فیض آباد پر راتوں رات قبضہ کرنے سے ماند پڑگیا۔

طالبان نے 12 اگست کو کابل سے 150 کلومیٹر (90 میل) جنوب مغرب میں غزنی پر قبضہ کر لیا۔ مغر ب میں ہرات اسی دن قبضے میں آگیا اور ایک دن بعد طالبان نے قندھار اور جنوب میں لشکر گاہ پر قبضہ کر لیا۔

اسد آباد اور گردیز شہر ہفتہ کو مزار شریف کے ساتھ قبضے میں آگئے جہاں صدر غنی نے صرف تین دن پہلے دورہ کیا تھا۔ جلال آباد کو اتوار کی علی الصبح باغیوں نے اپنے قبضے میں لے لیا اورتقریباً اتوار کی دوپہر شروع کی جانیوالی پیشقدمی کے بعد طالبان نے کابل پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا۔

امریکی حکومت کی جانب سے افغانستان میں 20سال کے دوران افغانستان کی سلامتی پر خرچ کئے جانے والے 89ارب ڈالر، تین لاکھ افغان نیشنل آرمی پولیس اور دس ہزار سے زائد افغان سپیشل فورسز کی تیار ی بھی پچاس ہزار سے زائد طالبان جنگجوئوں کو روک سکی نہ ہی تمام تر دعوئوں کے باوجود اشرف غنی حکومت کو بچاسکی اور بالاآخر افغانستان میں تاریخی کرپشن،منشیات کا کاروبار ،اورافغان نیشنل آرمی اور پولیس کا گرتا ہوا مورال افغان حکومت کو لے ڈوبی۔ امریکی دعوے بھی دھرے کےدھرےرہ گئے ۔

یہ بھی پڑھیں:  جمہوری حکومت کا استحکام:پاکستان کی خوشحالی کی ضمانت

امریکہ نے افغانستان میں 20سال کے دوران سب سے زیادہ توجہ افغانستان کی سلامتی پر مرکوز رکھی اور متعدد بار یہ دعویٰ کیا کہ انہوںنے ایک افغان فورس تیار کی ہےجوملکی دفاع کے لئے ہر طرح سے ہمہ وقت تیاررہے گی۔دستاویزات کے مطابق افغانستان میں افغان سکیورٹی فورسز میں افغان نیشنل آرمی، افغان فضائیہ اور پولیس میں مجموعی طورپر تین لاکھ سے زیادہ اہلکار بھرتی کئے گئےجنہیں امریکا اور اس کےاتحادی ممالک بشمول برطانیہ نے 20 سال تک خصوصی تربیت دی اور طیاروں کے علاوہ ہر قسم کے جدید ہتھیا ر اور دیگر ساز و سامان فراہم کیا ہےا ور ایک طاقتور اور باصلاحیت فورس تیارکرنے کادعوی کیا۔

ان کے مقابلے میں طالباں جنگجوئوں کی تعداد محض 50ہزار سے زائد بتائی گئی جن کے پاس توپ ہے نہ ٹینک اور نہ ہی ہوائی جہاز ۔

سپیشل انسپکٹر برائے افغانستان نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سلامتی پر اب تک 89 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت نے افغانستان کے لئے آئندہ مالی سال 2022کے لئے3.3ارب ڈالر مختص کئے ہیں جس میں ایک ارب ڈالر افغان ائرفورس اور خصوصی مشنز پر خرچ کرنے کے لئے ہیں۔جبکہ ایک ارب ڈالر تیل ،ہتھیاروں اور سپیئر پارٹس کےلئے ہیں۔اسی طرح امریکی حکام کی جانب سے ساڑھے پانچ ملین امریکی ڈالر افغان ائیرفورس کےلئے بیس فوجی طیارے خریدنے پر خرچ کئے ۔

یہ بھی پڑھیں:  مندی: اہل عرب کا پسندیدہ پکوان

مگر یہ سب بیکار گئے محض 50ہزار سے زائد بغیر جہاز اور ٹینک کے لڑتےطالبان جنگجوئوں کے آگے تین لاکھ افغان فورسز اور دس ہزار سپیشل افغان فورس بھی ٹک سکی نہ ہی ان کے جہاز اور ٹینک کام آئےجس کی دیگر کئی ایک وجوہات کے علاوہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی کرپشن، افغان فوج اورپولیس کا گرتا ہوا مورال اور ان کے جانی نقصانات بھی جو طالبان کے آگے بغیر کسی مزاحمت کے ڈھیر ہوتے گئے اور طالباں بڑھتے بڑھتے دارلحکومت کابل تک بغیر کسی مزاحمت کےپہنچنے گئے۔

دو دہائیوں بعد طالبان نے افغانستان کا کنٹرول واپس لے لیا ہے تاہم 20برس قبل کے مقابلے میں تباہ حال افغانستان کے برعکس اب طالبان کے کنٹرول میں ایک مستحکم افغانستان ہوگا ۔

گزشتہ 20برس کے دوران افغانستان کے کا انفرا اسٹرکچر بہتر ہوا ہے جس پر امریکا نے اربوں ڈالر خرچ کئے ، اسی طرح اور ممالک نے بھی سڑکیں اور ڈیمز کی تعمیر پر اربوں روپے خرچ کئے۔

اگر یہ کہا جائے کہ طالبان نے 20برس قبل امریکا کو افغانستان لیز پر دیا تھا اور اب اس کا کنٹرول واپس لے لیا ہے اور اس کی صورتحال بھی بہت بہتر ہے، اس طرح طالبان نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا بلکہ بغیر کوئی قرض لئے ملکی انفراسٹرکچر بھی بہتر ہوگیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں