Malaysia's Prime mInister Muhyiddin

ملائیشین وزیراعظم محی الدین یٰسین کا ہنگامہ خیز دور اختتام پذیر ہو گیا

EjazNews

محی الدین گزشتہ سال مارچ میں انتخابات کے بغیر اتحاد کے سربراہ کے طور پر اقتدار میں آئے تھے، ان سے قبل ملک میں اصلاح پسند حکومت کا خاتمہ ہوا تھا جو دو سال سے اقتدار سنبھالے ہوئے تھی۔

تاہم ان کی حکومت کو پہلے دن سے ہی ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنا پڑا تھا، پارلیمنٹ میں ان کی اکثریت شکوک و شبہات میں تھی اور اس کی قانونی حیثیت پر مسلسل سوالات اٹھ رہے تھے اور انہیں اپوزیشن کے سربراہ انور ابراہیم کی جانب سے مسلسل چیلنجز کا سامنا تھا۔

ملائیشین میڈیا کے مطابق ملائیشیا کی تاریخ میں سب سے کم مدت تک محی الدین یاسین اقتدار میں رہے۔ان کی حکومت اس وقت ختم ہوئی جب اتحادیوں نے ان سے اپنی حمایت واپس لے لی اور ان کے اقتدار میں رہنے کی آخری کوشش ناکام ہو گئی ۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد 74 سالہ محی الدین یٰسین ملائیشیا کے بادشاہ کو اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے لیے ان کے محل کی طرف روانہ ہوئے۔
وزیراعظم کے دفتر کے ایک وزیر محمد ردزوان یوسف نے غیر ملکی میڈیا کو تصدیق کی کہ محی الدین یٰسین مستعفی ہوگئے اور ان کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈیا میں فٹ پاتھوں پر لاشیں اور بیمار افراد موجود ہیں، آکسیجن کیلئے بھیک مانگی جارہی ہے

محی الدین کے بعد کوئی دوسرا وزیر اعظم نہیں ہے تاہم انتخابات کا امکان نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ ملک کو کووڈ 19 کی بدترین لہر اور معاشی بدحالی کا سامنا ہے۔

تاہم ایک نیا اتحاد بننے سے قبل پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے سیاسی ہارس ٹریڈنگ متوقع ہے۔

سنگاپور انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے تجزیہ کار اوہ ای سن نے کہا کہ ‘ان کی جگہ کوئی بھی ہوسکتا ہے۔

ملائیشیا کا آئینی بادشاہ باضابطہ طور پر وزیر اعظم کا تقرر کرتا ہے اور یہ اس پر منحصر ہوگا کہ وہ اس بات کا اندازہ کرے کہ ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے کس کو زیادہ حمایت حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں