Taliban_Afghanistan

طالبان جلد حکومتی ڈھانچہ تشکیل دیں گے، امریکہ کا شرائط کے ساتھ تسلیم کرنے کا اشارہ ؟

EjazNews

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بالآخر رات گئے بھاری ہتھیاروں سے مسلح جنگجووں نے خالی صدارتی محل کا کنٹرول سنبھال لیا۔اس دوران مغربی ممالک اپنے شہریوں کو افغانستان سے نکالنے میں مصروف رہے جبکہ سیکڑوں افغان شہری بھی ملک چھوڑنے کے لیے کابل ایئر پورٹ پہنچے۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گروہ تنہائی میں نہیں رہنا چاہتے اور افغانستان کی نئی حکومت کی شکل جلد واضح ہوگی۔

ساتھ ہی محمد نعیم نے پر امن بین الاقوامی تعلقات رکھنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ ملک میں جنگ ختم ہوچکی ہے۔

طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ ہم جو حاصل کرنا چاہ رہے تھے اس تک پہنچ گئے جو کہ ہمارے ملک اور عوام کی آزادی ہے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی دوسروں کو نقصان پہنچائیں گے۔

دوسری جانب امریکی ڈپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کابل کے سفارتخانے سے عملے کا انخلا مکمل کرلیا گیا ہے۔

نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ ہم تصدیق کرسکتے ہیں کہ تمام سفارتی اہلکاروں کا محفوظ انخلا مکمل ہوچکا ہے، سفارت خانے کے تمام اہلکار حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے احاطے میں ہیں جسے امریکی فوج نے محفوظ بنایا ہوا ہے۔

چین کی جانب سے طالبان کو ایک جائز حکومت تسلیم کرنے کے حوالے سے بھی میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کی افغان حکومت جو اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کو برقرار رکھے اور جو دہشت گردوں کو پناہ نہ دے، اس حکومت کے ساتھ ہم کام کر سکتے ہیں اور تسلیم کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بیروت دھماکہ:پورے لبنان میں سوگ کی فضاء

انہوں نے کہا کہ ایسی حکومت جو اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کو برقرار نہیں رکھے، جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مذموم عزائم رکھنے والے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دے، یقینی طور پر ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

اعلیٰ امریکی سفارت کار متعدد امریکی ٹیلی ویژن چینلز پر افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر تبصرہ کرنے کے لیے پیش ہوئے جہاں طالبان نے کابل میں داخل ہو کر صدر اشرف غنی کو تاجکستان میں پناہ لینے پر مجبور کیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وہ بنیادی حقوق کا احترام نہیں کرتے ہیں اور دہشت گردوں کو پناہ دینا بند نہیں کرتے ہیں تو کابل میں طالبان کی زیرقیادت حکومت کو بین الاقوامی امداد نہیں ملے گی، پابندیاں نہیں ہٹائی جائیں گی اور وہ سفر نہیں کرسکیں گے۔

جب انٹرویو لینے والے نے سوال کیا کہ ان کا بیان تسلیم نہ کرنے کی طرح لگتا ہے تو انٹونی بلنکن نے کہا کہ امریکا سمیت عالمی برادری پر یہ لازم ہے کہ وہ معاشی، سفارتی، سیاسی، ہر وہ آلہ استعمال کرے جو ہمارے پاس ہے اور یقینی بنائیں کہ (وہ) حقوق برقرار رکھیں۔

انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ اگر طالبان ایسا نہیں کرتے ہیں تو، ان حقوق کو برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے انہیں واضح طور پر سزاوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سی این این کے جیک ٹیپر نے انٹونی بلنکن کو یاد دلایا کہ ایک حالیہ بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن نے اصرار کیا تھا کہ کابل حکومت کا خاتمہ نہیں ہوگا اور ان سے سوال کیا کہ صدر اتنا غلط کیسے ہو سکتے ہیں۔

سیکرٹری نے دلیل دی کہ امریکا نے افغانستان میں اپنے اہداف کو پورا کیا ہے، ان لوگوں سے نمٹا ہے جنہوں نے ہم پر حملہ کیا، اسامہ بن لادن کا خاتمہ کیا اور القاعدہ کا خطرہ کم کیا اور اب وقت آگیا ہے کہ وہاں سے نکل جایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکی انتخابات عدالت میں چیلنج ، صدارتی امیدوار کی دوڑ طویل نہ ہو جائے

صحافی نے افغانستان میں سابق امریکی سفیر ریان کروکر کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی فوجیوں کا انخلا افغانستان کو طالبان کے حوالے کرنا ہے، اور سوال کیا کہ کیا امریکی صدر پر افغانستان سے اس تباہ کن انخلا کا الزام نہیں ہوگا۔

انٹونی بلنکن نے جواب دیا کہ ہم نے صدر سمیت سب سے کہا ہے کہ طالبان 2001 کے بعد سے اب تک کی اپنی سب سے بہترین پوزیشن پر ہیں۔

یہ وہ طالبان ہیں جو ہمیں وراثت میں ملے ہیں اور اسی طرح ہم نے دیکھا کہ وہ جارحانہ انداز میں پیش قدمی کرنے اور ملک کو واپس لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکا نے جدید ترین فوجی سازوسامان، 3 لاکھ مضبوط افواج اور ایک فضائی قوت پر اربوں ڈالر خرچ کیے، جو کہ طالبان کے پاس نہیں تھے اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے دیکھا ہے کہ وہ قوت ملک کا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔

سیکرٹری نے اس تجویز کو بھی مسترد کردیا کہ امریکی سفارت خانے کے عملے اور دیگر امریکیوں کو نکالنے کے لیے امریکی فوجی بھیجنا ویت نام سے امریکی انخلا سے ملتا جلتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یاد رکھیں، یہ سائگون نہیں ہے، ہم 20 سال پہلے ایک مشن کے ساتھ افغانستان گئے تھے اور وہ مشن ان لوگوں سے نمٹنا تھا جنہوں نے حملہ کیا اور ہم اس مشن میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانیہ کی جانب سے سفر ی پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں پاکستان بھی شامل

اسی دوران صدر اشرف غنی کا موقف بھی سامنے آگیا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ اگر وہ وہاں رک جاتے تو یقین تھا کہ بے شمار محب وطن شہید ہوتے اور کابل شہر تباہ ہوجاتا۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ طالبان جیت چکے ہیں اور اب وہ اپنے ہم وطنوں کی عزت، املاک اور سلامتی کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اب ایک نئے تاریخی امتحان کا سامنا کر رہے ہیں، کیا وہ اپنے نام اور افغانستان کی عزت محفوظ کریں گے یا پھر وہ دیگر جگہوں اور نیٹ ورکس کو ترجیح دیں گے۔

اشرف غنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کون سے ملک چلے گئے ہیں لیکن افغانستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ طلوع نیوز کے مطابق وہ تاجکستان جا چکے ہیں۔

قبل ازیں افغان قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کے ملک سے باہر جانے کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں عوام کو ابتر صورت حال میں چھوڑ جانے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

عبداللہ عبداللہ نے آن لائن ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ وہ مشکل وقت میں افغانستان چھوڑ گئے ہیں، اللہ ان سے پوچھے گا۔

انہوں نے افغان سکیورٹی فورسز سے اپیل کی کہ وہ ملک میں امن برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

عبداللہ عبداللہ نے طالبان سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو نقصان نہ پہنچائیں یا ایسا عمل نہ کریں جس سے کابل میں افراتفری ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی مشکل وقت میں ملک کو چھوڑ کر گئے ہیں، جس پر انہیں تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی نے بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ہمارے ہاتھ باندھ کر ملک کو بیچا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں