Taliban

افغانستان میں اقتدار کی محفوظ منتقلی کا عمل یقینی بنانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں

EjazNews

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ مجاہدین خزانہ، عوامی سہولیات، سرکاری دفاتر اور آلات، پارکس، سڑکوں اور پل وغیرہ پر خاص توجہ دیں گے۔امارات اسلامی ان تمام افراد کے لیے اپنے دروازے کھولتی ہے جنہوں نے ماضی میں حملہ آوروں کے لیے کام کیا اور ان کی مدد کی یا جو ابھی بھی کرپٹ افغان حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم ان کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہیں اور انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ قوم اور ملک کی خدمت کریں۔

طالبان کے ترجمان نے کہا کہ حال ہی میں کابل انتظامیہ نے بے بنیاد پروپیگنڈا شروع کیا ہے کہ امارات اسلامی کے جنگجو لوگوں کو اپنی بیٹیوں سے شادی پر مجبور کررہے ہیں یا مجاہدین سے ان کی بیٹیوں کی شادی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، وہ کبھی کہتے ہیں کہ طالبان عوام اور قیدیوں کو قتل کررہے ہیں لیکن یہ تمام تر الزامات بے بنیاد ہیں۔

بعد ازاں انہوں نے مزید ٹوئٹس کرتے ہوئے کہا کہ امارات اسلامی افغانستان، کسی کی نجی املاک (گاڑی، زمین، گھر، مارکیٹوں یا دکانوں) میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ عوام کے مال و جان کی حفاظت ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانوی وزیراعظم تھریسامے کا مستعفی ہونے کا اعلان

انہوں نے سابقہ مؤقف کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے باور کرایا کہ ایسے تمام تر دعوے بے بنیاد ہیں کہ امارات اسلامی افغانستان، لوگوں کو اپنی بیٹیوں کی شادی مجاہدین سے کرنے پر مجبور کررہے ہیں اور یہ زہریلا پروپیگنڈا ہے۔

طالبان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے جنگجوؤں کو کابل کے دروازے پار کر کے طاقت کے ذریعے شہر کا کنٹرول نہ حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کابل کے شہریوں کی زندگی، املاک، عزت پر سمجھوتہ کیے بغیر اقتدار کی محفوظ منتقلی کا عمل یقینی بنانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

اس سے قبل طالبان نے مزاحمت اور لڑائی کے بغیر افغانستان کےشہر جلال آباد پر قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد افغان حکومت کا کنٹرول دارالحکومت کابل تک ہی محدود ہوگیا تھا جبکہ اس سے پہلے وہ مزار شریف پر بھی بغیر کسی مزاحمت کے قابض ہو گئے تھے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایک عہدیدار نے بتایا کہ طالبان تمام اطراف سے داخل ہورہے ہیں البتہ انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا ویکسین لینے والے 2سال میں مر جائیں گے،یہ جھوٹی خبر کیسے پھیلی؟

دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان میں موجود امریکیوں کے محفوظ انخلا کے لیے مزید ایک ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کی اجازت دے دی جس کے بعد محفوظ انخلا کے لیے مقرر کیے امریکی فوجیوں کی تعداد 5 ہزار ہوجائے گی۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی اہلکار 2 دہائی سے جاری جنگ کے دوران غیر ملکی افواج کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کے انخلا میں بھی مدد کریں گے۔

آخری لمحات میں ہزاروں امریکی فوجیوں کی دوبارہ تعیناتی افغانستان کی گھمبیر سکیورٹی صورتحال ظاہر کررہے ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جلال آباد کے سقوط نے طالبان کو اس سڑک کا کنٹرول بھی دے دیا جو پاکستان کے شہر پشاور کو افغانستان سے ملاتی ہے اور ملک کی اہم ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے۔

اس سے قبل طالبان نے ملک کے چوتھے بڑے شہر مزار شریف پر بھی قبضہ کرلیا تھا جس کا دفاع 2 سابق وار لارڈز نے کرنے کا وعدہ کیا تھا، یوں طالبان کو افغانستان کے پورے شمالی حصے پر قبضہ حاصل ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:  متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کا معاہدہ، ایرانی ڈر یا پھر فلسطینیوں سے غداری

دوسری جانب عسکریت پسندوں نے اتوار کی صبح تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں انہیں صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں گورنر کے دفتر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

ادھر کابل میں امریکی سفارت خانے کے عملے کو حکم دیا جاچکا ہے کہ وہ حساس مواد کو جلانا شروع کردیں جبکہ برطانیہ، جرمنی، ڈنمارک اور اسپین سمیت یورپی ممالک اپنے متعلقہ سفارت خانوں سے اہلکاروں کو واپس بلانے کا اعلان کر چکے ہیں۔

کابل کے باشندوں کے ساتھ ساتھ دارالحکومت میں پناہ لینے والے ہزاروں افراد بھی خوف اور عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں اقتدار کی پر امن طریقے سے طالبان کو منتقلی کے لیے مذاکرات جاری ہیں تاہم سابق افغان وزیر داخلہ علی احمد جلالی کو عبوری حکومت کا سربراہ بنانے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ عبدالستار مرزا کورال نے کہا ہے کہ کابل پر حملہ نہیں ہو گا اور طالبان کو اقتدار پرامن طریقے سے منتقل ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز شہر کی حفاظت یقینی بنائیں گی۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
طالبان رہنما عبدالغنی برادر کے بھی کابل پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں