Taliban_miltary

امریکی اخبار کا طالبان سے متعلق دعویٰ اور یورپی ممالک کی دھمکیاں

EjazNews

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ امریکا کابل ائیر پورٹ پر 3ہزار فوجی تعینات کرے گا ، کابل ائیر پورٹ سے امریکی سفارتخانے کے عملے کے انخلاء کے دوران ائیر پورٹ کو طالبان پر فضائی حملوں کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا ،

انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے ،امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم افغانستان سے اپنی افواج نکال رہے ہیں تاہم واشنگٹن کابل کیساتھ سفارتی طور پرتعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے ، واشنگٹن نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ سفارتی عملے کے علاوہ دیگر امریکی شہری فوری طور پر کمرشل فلائٹس سے افغانستان سے نکل جائیں ،

دوسری جانب برطانیہ نے بھی افغانستان میں اپنے 600فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے ، برطانوی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ یہ فوجی جنگ زدہ ملک سے اپنے شہریوں کے انخلا ءمیں مدد کریں گے ۔

ادھرجرمنی نے اعلان کیا ہے کہ اگر طالبان اقتدار میں آئے، شریعت نافذ کی اور اپنی خلافت قائم کی تو افغانستان کی مالی امداد بند کردی جائے گی۔جرمن نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا کہ طالبان جانتے ہیں کہ افغانستان بین الاقوامی امداد کے بغیر نہیں چل سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان افغانستان میں مکمل کنٹرول سنبھال لیتے ہیں، شریعت نافذ کرتے ہیں اور خلافت قائم کرتے ہیں تو ہم وہاں مزید امداد نہیں بھیجیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  بولٹن کے فلیٹس میں لگنے والی آگ کو 2سو فائر فائٹر ز نے پھیلنے سے روکا

وا ضح رہے کہ جرمنی افغانستان کو سالانہ 43 کروڑ یورو (82 ارب پاکستانی روپے سے زیادہ) کی امداد دیتاہے۔دوسری جانب جرمنی اور نیدرلینڈز نے سیاسی پناہ حاصل کرنے میں ناکام رہنے والے افغان شہریوں کو افغانستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے مدنظراپنے یہاں عارضی طور پر ٹھہرنے کی اجازت دے دی ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن وزارت داخلہ نے بتایا کہ افغانستان میں غیر مستحکم سکیورٹی صورت حال کے مدنظر افغان شہریوں کی ملک بدری عارضی طورپر روک دی ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے ساتھ ہی پورے ملک پر طالبان بڑی تیزی سے کنٹرول حاصل کرتے جارہے ہیں اور اب تک کئی صوبائی دارالحکومتوں سمیت ملک کے بہت بڑے حصے پر قبضہ کرچکے ہیں۔

جرمن وزیر داخلہ نے کہاکہ جنہیں جرمنی میں رہائش کا کوئی حق نہیں ہے انہیں ملک چھوڑنا ہی ہوگا، لیکن ایک آئینی ریاست اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھتی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ ملک بدر کیے جانے والے افراد خطرات سے دو چار نہ ہو جائیں۔وزارت داخلہ کے ترجمان اسٹیو الٹر نے بتایا کہ تقریبا 30 ہزار افغانوں کوجرمنی سے ملک بدر کیا جا نا ہے۔طالبان کی پیش قدمی کو روکنے میں افغان سکیورٹی فورسز کی ناکامی نے امریکی عہدیداروں کو دو دہائیوں تک ملکی فوج کی تربیت اور جدید آلات لیس کرنے پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد شدید مایوسی کا شکار کردیا ہے،ان کاکہناہے کہ بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کینیڈا کے ایک سکو ل سے 215بچوں کی باقیات برآمد

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر عہدیداروں نے بار بار افغان رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ متحد ہو جائیں اور ایک واضح حکمت عملی وضع کریں کہ کیونکہ خدشات ہیں کہ طالبان چند مہینوں میں کابل کا محاصرہ کر لیں گے۔

انہوںنے کہاکہ ہم نے 20 سالوں میں دس کھرب ڈالر خرچ کیے، ہم نے 3 لاکھ سے زائد افغان افواج کو تربیت دی اور جدید آلات سے لیس کیا۔دریں اثناء یورپی یونین نے بھی طالبان کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے تشدد کے ذریعے کابل پر قبضہ کیا تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے ، یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بورل نے ایک بیان میں کہا کہ تشدد کے زریعے سے طالبان کابل پر قابض ہوئے تو ان کی حکومت کو دنیا بھر میں تنہا کردیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں