Afghan_war

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ اور دوحہ مذاکرات ،کیا افغانستان میں لڑائی تھمے گی؟

EjazNews

امریکی انٹیلی جنس ادارے نے طالبان کی موجودہ استعداد اور تیزی سے جاری فتوحات کو دیکھتے ہوئے رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان نے صرف 5 روز میں افغانستان کے ایک چوتھائی صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرلیا ہے اور اسی تیزی سے پیش قدمی جاری رہی تو آئندہ 30 دنوں میں طالبان افغان حکومت کو کابل تک محدود کرسکتے ہیں، طالبان نے بدھ کے روزایک اور صوبائی دارالحکومت فیض آباد پر قبضہ کرلیا ہے ،بدخشاں صوبے کے دارالحکومت فیض آ باد سے افغان رکن اسمبلی ذبیح اللہ عتیق نے شہر پر طالبان کے قبضے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں اطراف بھاری جانی نقصان ہوا ہے ، بدخشاں ،فراہ، بغلان ،نمروز ،جوزجان، قندوز، سرائے پل، تخار اورسمنگان کا کنٹرول حاصل کرچکے ہیں ۔

افغان صدر اشرف غنی کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ، طالبان نے قندوز صوبے کے بڑے فوجی اڈے پر بھی قبضہ کرلیا ہے ، قندوز کی صوبائی کونسل کے ایک رکن نے فوجی اڈے پر طالبا ن کے کنٹرول کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ ائیر پورٹ پر موجود 217ویں کور کےفوجی اہلکاروں ، پولیس اہلکاروں اور ملیشیا کے ارکان نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دئیےاور فوجی سازو سامان سمیت طالبان سے جاملے ہیں، قندوز میں طالبان سے شکست کے بعد سیکڑوں افغان فوجی ایئر پورٹ میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان نے لشکرگاہ کے بیشتر حصے کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا ہے جبکہ ہلمند میں پولیس ہیڈوارٹرز پر خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی ٹکرادی ، اس مرکز پر گزشتہ دو ہفتوں سے شدید لڑائی جاری ہے ،طالبان نے بلخ صوبے کے دارالحکومت مزار شریف کو بھی اپنے نشانہ پر لے لیا ہے ، افغانستان کے وزیر خزانہ خالد پائندہ کابل کی سکیورٹی اور معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مستعفی ہوگئے ، بدھ کے روز مستعفی ہونے کے بعد وہ ملک سے فرار ہوگئے ۔طالبان افغانستان کی اہم کسٹمز پوسٹوں پر قابض ہوچکے ہیں اور طالبان حکومت کو ریونیو میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستانی نژاد کینڈین خاندان کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی
افغان حکومت اور طالبان نے افغان امن عمل سے متعلق امریکا، روس، چین اور پاکستان پر مشتمل چار فریقی گروپ جسے توسیعی ٹرائیکا کا نام دیا گیا ہے

افغان صدر اشرف غنی بدھ کے روز اپنے فوجیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ شمالی شہر مزار شریف پہنچ گئے ہیں، یہ بات اہم ہے کہ اس وقت طالبان اس شہر پر قبضے کے لیے اسے محاصرے میں لیے ہوئے ہیں،اگر طالبان مزار شریف پر قبضہ کر لیتے ہیں، تو یہ کابل حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا اور ملک کے تمام تر شمالی حصے کا کنٹرول کھونے کے مترادف ہو گا۔
روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کا کہنا ہے کہ شمالی افغانستان کی سرحدوں پر طالبان کا قبضہ مکمل ہوچکا ہے ، سابق سوویت یونین کی وسطی ایشیائی ریاستوں تاجکستان اور ازبکستان کی سرحدوں سے ملحقہ صوبوں پر طالبان کا کنٹرول ہوچکا ہے ۔شوئیگو نے بتایا کہ طالبان نے سرحد عبور نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے تاہم روس خطے میں اپنے اتحادیوں کیساتھ فوجی مشقیں جاری رکھے گا ، افغان حکومت اور طالبان نے افغان امن عمل سے متعلق امریکا، روس، چین اور پاکستان پر مشتمل چار فریقی گروپ جسے توسیعی ٹرائیکا کا نام دیا گیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس پوری دنیا کیلئے آزمائش بنا ہوا ہے

دوحہ مذاکرات کے موقع پر ایک دوسرے پر تشدد بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے ، دوحہ مذاکرات میں شامل افغان حکومتی وفد کے ایک رکن نے کہا کہ طالبان تشدد کے ذریعے مقاصد کا حصول چاہتے ہیں، عالمی برادری دباؤ ڈالے کہ طالبان سنجیدگی کا مظاہرہ کریں،افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے لیے پرعزم ہیں، نہیں چاہتے کہ مذاکرات ناکام ہوں۔
ترجمان افغان طالبان کا کہنا تھا کہ ہم نے نہیں بلکہ افغان حکومت نے ثالث کے کردار کو مسترد کیا، عالمی برادری زمینی حقائق کا درست اندازہ لگائے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ افغانستان کے پڑوسی کابل میں کسی ایسی حکومت کو تسلیم نہ کریں جو طاقت کے ذریعے مسلط کی گئی ہو،یہ مطالبہ دوحہ میں ہونے والے توسیعی ٹرائیکا کے اجلاس سے قبل کیا گیا ۔ اس گروپ میں امریکا، روس، چین اور پاکستان شامل ہیں جس کا مقصد افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ کا سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔
نیڈ پرائس نے کہا کہ ان کے شرکا، افغانستان میں تشدد میں کمی، جنگ بندی اور کسی بھی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا عزم کریں گے جو طاقت کے ذریعے مسلط کی گئی ہو۔پریس بریفنگ میں نیڈ پرائس نے کہا کہ زلمے خلیل زاد کو دوحہ بھیجا گیا ہے تاکہ تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر ایک اجتماعی ردعمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔تاہم امریکی میڈیا نے بتایا کہ زلمے خلیل زاد وہاں اس لیے موجود ہیں تاکہ طالبان کو زمین پر فوجی فتح حاصل کرنے کے خلاف خبردار کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ چین کشیدگی؛ مشکل میں وہ ممالک ہیں جو جنگ نہیں چاہتے

اپنا تبصرہ بھیجیں