Imran_khan_voting_Mation

الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں کیوں ہیک نہیں ہو سکتیں؟، جانئے سینیٹر شبلی فراز سے

EjazNews

سینیٹر شبلی فراز نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں انٹرنیٹ کا استعمال نہیں ہو رہا نہ یہ بلیو ٹوتھ، وائی فائی یا کسی آپریٹنگ سسٹم سے منسلک ہے اس لیے ہیک نہیں ہو سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں شفاف اور قابل اعتماد نتائج کی فراہمی کا ذریعہ ہوں گی، دھاندلی کا عنصر پولنگ کے دوران اور گنتی کے وقت ہوتا ہے تاہم الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال سے اس کی روک تھام ممکن ہوسکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام پارلیمانی پارٹیوں سے التماس ہے کہ وہ اس نظام کا جائزہ لیں اور اس پر اگر کوئی تحفظات ہیں تو ان سے آگاہ کریں، یہ نظام انتخابی عمل میں شفافیت کے لیے ہے۔

سینیٹر شبلی فراز میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے

شبلی فراز نے کہا کہ الیکشن کمیشن واحد آئینی ادارہ ہے جس نے قانون کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے، تاہم اس نظام سے فائدہ اور نقصان اٹھانے والے فریق اس پارلیمان میں ہیں، ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ الیکشن کمیشن کی تمام ضروریات کو ان الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں پورا کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:  دو وکٹوں کے نقصان سے انگلینڈ نے میچ جیت لیا

انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن سے رابطے میں ہیں، عاشورہ سے قبل یا فوری بعد ہم کمیشن کو مشینوں کا عملی مظاہرہ پیش کریں گے کیونکہ وہ بڑا اسٹیک ہولڈر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا ٹیکنالوجی کی طرف جارہی ہے، اس سسٹم کو الیکشن کمیشن کے حوالے کیا جائے گا جبکہ کمیشن بھی اس سسٹم کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی بلا کر انہیں اس کی افادیت سے آگاہ کرے۔

مشین کی خصوصیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس مشین کے ذریعے ایک ووٹر دوبارہ اپنا ووٹ نہیں ڈال سکتا، اس سے قبل پولنگ اسٹیشن کے نتیجے کا فارم 45 ہاتھ سے لکھا جاتا تھا لیکن ان مشینوں کے بعد یہ فارم تیار حالت میں دستیاب ہوگا جس کی فوری منتقلی بھی ممکن ہوگی اور آر ٹی ایس کی طرح اس سسٹم کے بیٹھنے کے بھی کوئی امکانات نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  تعلیمی ادارے 31مئی تک بند رہیں گے

انہوں نے کہا کہ اس میں استعمال ہونے والا بیلٹ پیپر تھرمل ہے کو کہیں اور تیار نہیں کیا جاسکتا۔ سکیورٹی کے حوالے سے بھی یہ سسٹم اطمینان بخش ہے اور اس سے ٹھپہ سسٹم کا بھی خاتمہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ووٹ کے بعد دوسرے ووٹ کا دورانیہ ایک منٹ ہوگا جبکہ یو ایس بی کا استعمال بھی اس میں نہیں ہے، اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہو سکتی، اس مشین کو توڑے جانے یا جلائے جانے پر اس کا ڈیٹا محفوظ ہوگا۔

شبلی فراز نے کہا کہ ماضی میں انتخابی عمل میں موجودہ سسٹم کے تحت 3 فیصد سے زائد ووٹ ضائع ہو جاتے ہیں، اس مشین سے اس کا سدباب ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ووٹر کی شناخت اس سسٹم کے تحت کہیں بھی ظاہر نہیں ہوگی، اس مشین کو منفی 10 سے 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک کوئی نقصان نہیں پہنچے گا جبکہ ان مشینوں کی چارجنگ مسلسل 24 گھنٹے تک استعمال کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہم آئین کو میثاق ملی سمجھتے ہیں اور آئین سے باہر کوئی بات نہیں کر رہے :مولانا فضل الرحمٰن

ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے نظام سے عوام کا حقیقی نمائندہ صاف شفاف انتخابات کے بعد اس ایوان میں آئے گا، یہ مشینیں 100 فیصد مقامی سطح پر تیار کی گئی ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کی ضرورت کے مطابق اگر اس میں کوئی تبدیلی کرنی ہو تو یہ بھی ممکن ہے۔

اس موقع پر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رکن قومی اسمبلی غوث بخش مہر، جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی، سابق فاٹا سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، تحریک انصاف کے چیف وہپ عامر ڈوگر، اراکین قومی اسمبلی امجد علی خان، عبدالمجید نیازی، آفتاب جہانگیر اور دیگر بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں