Taliban2

اپنے ملک کا دفاع کرنا افغان فوج کی ذمہ داری ہے، امریکا کا فوجی مشن 31اگست کو مکمل طور پر ختم ہو جائے گا:جو بائیڈن

EjazNews

افغان طالبان نے مزید 2صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرلیاجس کے بعد طالبان کے زیر قبضہ صوبوں کی تعداد 8ہوگئی، صوبہ فراہ کے دارالحکومت فراہ اور بغلان کے دارالحکومت پل خمری کے حکام کاکہناہےکہ صرف چند گھنٹوں میں دونوں دارالحکومتیں طالبان کے قبضے میں چلی گئیں، طالبان نے بھی پیغامات میں قبضے کی تصدیق کی ہے، بغلان کے رکن اسمبلی مامور احمد زئی کاکہناہےکہ طالبان اب شہر میں موجود ہیںاور انکے پرچم اہم چوراہے اور سرکاری و دفاعی عمارتوں پر لہرارہے ہیں، پل خمری میں ایک سیکورٹی عہدے دار نے بتایا کہ سرکاری فورسز نے لڑے بغیر ہی طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے،ادھر قندھار اور ہلمند میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

افغانستان کی بگڑتی صورتحال کے باعث ہزاروں افغان شہری کابل سمیت دیگر علاقوں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔کابل میں افغان صدر اشرف غنی نے خطے کے ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی حکومت کی مدد کریں۔افغان دارالحکومت کابل میں غنی کے مشیروں کاکہناتھاکہ افغان صدر غنی علاقائی ملیشیاؤں سے مدد مانگ رہے ہیں ۔ انہوں نے عام شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ افغانستان کےجمہوری اقدار کا دفاع کریں۔

افغانستان کی بگڑتی صورتحال کے باعث ہزاروں افغان شہری کابل سمیت دیگر علاقوں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے افغان رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ متحد ہوکرطالبان کیخلاف’’اپنی قوم کے لیے لڑیں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے فیصلے پر افسوس نہیں ۔امریکی صدر بائیڈن نے صحافیوں کوبتایاکہ ’’افغان رہنماؤں کو اکٹھا ہونا ہوگااور انہیں اپنے لیے لڑناہوگا،بائیڈن نے کہا کہ امریکا کابل میں حکومت کی حمایت جاری رکھے گا لیکن مزید یہ کہ مجھے دو عشروں کی جنگ کے بعد 31 اگست تک امریکی فوجیوں کو نکالنے کے اپنے فیصلے پر افسوس نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجی گاڑی نے13سالہ بچہ کچل دیا

امریکی صدر جوزف بائیڈن کا کہنا تھا کہ اپنے ملک کا دفاع کرنا افغان فوج کی ہی ذمہ داری ہے، امریکا کا افغانستان میں فوجی مشن 31اگست کو مکمل طور پر اختتام کو پہنچ جائے گا اور افغانستان کے عوام کو اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہو گا، میں امریکیوں کی ایک اور نسل کو 20 سالہ جنگ میں دھکیلنا نہیں چاہتا۔افغان امن مفاہمت کے لیے امریکا کےنمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے طالبان کو انتباہ کیا کہ افغانستان میں طاقت کے زور پر آنے والی کسی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ایسے میں جب کہ امریکا اور نیٹو ممالک اپنا فوجی انخلا مکمل کر رہے رہیں، طالبان رہنما افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے دوبارہ مل بیٹھیں گے۔ادھر بھارت نے افغانستان کے صوبے بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں قائم اپنے آخری قونصل خانے کو بھی بند کردیا اور اپنے شہریوں کو بھی وہاں سے نکال لیا۔

اگر افغانستان میں حالات خراب ہوتے ہیں تو5لاکھ افغان شہری پاکستان ،ایران اور تاجکستان میں نقل مکانی کےلئے مجبور ہوسکتے ہیں۔

غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے مشرقی افغانستان کے شہر میں موجود اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے فوجی جہاز بھیجا جہاں طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔دوسری جانب یورپی یونین کے عہدیدار کاکہناہےکہ غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد طالبان کی پیش قدمی بڑھتی جارہی ہے اور 65فیصد افغانستان طالبان کے قبضے میں چلاگیا، یورپی یونین کے عہدیداروں نے کہاکہ وہ افغانستان کے پڑوسی ممالک کی مدد کرنےکا سوچ رہی ہےجیساکہ ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا کہ افغانستان میں جاری جنگ 5لاکھ افراد کو بیرون ملک نقل مکانی پر مجبور کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہالی وڈ میں کوئی دلچسپی نہیں: سلمان خان

غیرملکی میڈیا کےمطابق یورپی یونین کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہےکہ ’’پہلی ترجیح دستیاب وسائل کے مطابق ان ممالک کوبہترین ممکنہ مدد فراہم کرنا جاری رکھنا ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہیں۔‘‘لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ان ممالک اور مختلف اقسام کی تنظیموں ، غیر سرکاری تنظیموں یا بین الاقوامی تنظیموں کو جو میدان میں موجود ہیں اور بے گھر افراد اور پناہ گزینوں کو مدد فراہم کررہے ہیں کو براہ راست مدد فراہم کی جائے۔27ممالک کا یورپی بلاک افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کی روانگی کے بعد طالبان کی ملک بھر میں بڑھتی پیش قدمی کو پریشانی سے دیکھ رہاہےاوربرسلز کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں یہ تشدد 2015 کے بحران کو دہرانے کا باعث نہ بن جائے جس میں تقریباً 10لاکھ تارکین وطن بشمول بڑی تعداد میں شامی یورپی یونین پہنچے جس نے وہاں بڑے سیاسی مسائل کو جنم دیا۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس سال اب تک طالبان کی پیش قدمی کے باوجود افغانستان کی سرحدوں پر’’بڑے پیمانے پر نقل مکانی‘‘ نہیں ہوئی تاہم یورپی بلاک کے ایک اہلکار نے اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق بتایاکہ اگر افغانستان میں حالات خراب ہوتے ہیں تو5لاکھ افغان شہری پاکستان ،ایران اور تاجکستان میں نقل مکانی کےلئے مجبور ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بدقسمتی سے کچھ لوگ مشکل حالات کو نیا پاکستان سے جوڑ رہے ہیں:وزیراعظم
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دوحہ میں شروع ہونے والے مذاکرات میں امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، اقوام متحدہ، چین، پاکستان اور ازبکستان کے نمائندے اور سفارت کار شریک ہیں

امریکی میڈیا کےمطابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور دیگر عالمی رہنما قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئےتاکہ افغانستان میں تیزی سے بگڑتی صورتحال پر مشترکہ بین الاقوامی ردعمل تیار کیا جا سکے۔ امریکی محکمہ خارجہ کاکہناہےکہ مذاکرات میں زلمے خلیل زار طالبان پر اپنی کارروائی بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی عسکری کارروائیوں میں اضافہ ، فریقین کے درمیان مسلح تصادم میں شہری ہلاکتوں اور انسانی حقوق کے مبینہ مظالم شدید تشویش کا باعث ہیں،جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دوحہ میں شروع ہونے والے مذاکرات میں امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، اقوام متحدہ، چین، پاکستان اور ازبکستان کے نمائندے اور سفارت کار شریک ہیں،رپورٹ میں کہا گیا کہ مذاکرات میں روس کے نمائندے تاحال نہیں پہنچے ہیں تاہم ان کی آمد متوقع ہے جبکہ افغانستان کی قومی کونسل برائے مذاکرات کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ اور حکومت وفد کے ہمراہ اجلاس میں موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں